پیر، 30 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن
ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

یسعیاہ 53: 12

’’ وہ خطاکاروں کے ساتھ شُمار کِیا گیا۔‘‘
یسوعؔ نے خطاکاروں کی فہرست میں نام لکھوانا کیوں گوارا کِیا؟ اِس حیرت انگیز اِنکساری کے پیچھے کئی ٹھوس وجوہات تھیں۔ اِسی رُوپ میں وہ بہتر طور پر اُن کا وکیل یا شفاعتی بن سکتا تھا۔ بعض مقدمات میں وکیل اور مُؤکل کی پہچان ایک ہو جاتی ہے، اور قانون کی نظر میں اُنہیں ایک دُوسرے سے جُدا نہیں دیکھا جا سکتا۔ اب جب خطاکار کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے، تو یسوعؔ وہاں خُود ظاہر ہوتا ہے۔ وہ اِلزام کا جواب دینے کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ وہ اپنی پسلی ، اپنے ہاتھوں اور اپنے پیروں کی طرف اِشارہ کرتا اور عدل کو چیلنج کرتا ہے کہ وہ اُن خطا کاروں کے خلاف نالش کرے جِن کی وہ نمائندگی کر رہا ہے۔ پھر وہ اپنے خُون کا حوالہ دیتے ہوئے ، اور اُن کے ساتھ شُمار ہونے اور اُن کا شریکِ حال ہونے کے ناطے ایسی فاتحانہ دلیل پیش کرتا ہے کہ منصف خُدا پکار اُٹھتا ہے، ’’ اِس ملزم کو جانے دو۔ اِسے گڑھے میں ڈالے جانے سے بچاؤ، کیونکہ اِس کا فدیہ ہو چکا ہے ‘‘۔ہمارا خُداوند یسوعؔ خطاکاروں کے ساتھ اِسی لیے شُمار کِیا گیا تاکہ وہ اپنے دِلوں میں اُس کے لئے کشش محسوس کریں۔ بھلا اُس سے کون ڈر سکتا ہے جِس کا نام ہماری ہی فہرست میں درج ہو؟ یقیناً ہم دلیری کے ساتھ اُس کے پاس آ سکتے اور اپنے گُناہ کا اِقرار کر سکتے ہیں۔ وہ جو ہمارے ساتھ شُمار کِیا گیا ، ہمیں مُجرم نہیں ٹھہرا سکتا۔ کیا وہ خطاکاروں کی فہرست میں اِسی لیے نہیں ڈالا گیا تاکہ ہمارے نام مقدسوں کی کتابِ حیات میں لکھے جائیں؟ وہ پاک تھا، اور پاک لوگوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ دوسری طرف ہم مُجرم تھے، اور مُجرموں میں شُمار کیے جاتے تھے ۔ مگر اُس نے اپنا نام اُس فہرست سے ہٹا کر اِس سیاہ کاروں کے ساتھ درج کرا لیا ، اور ہمارے نام خطاکاروں کی فہرست سے نکلوا کر باعزت بری کئے جانے والوں یعنی نجات پانے والوں کی فہرست میں لکھوا دئیے ، کیونکہ یسوعؔ اور اُس کے لوگوں کے مابین سیاہ کاریوں کی مکمل ادلا بدلی ہو چکی ہے۔ہماری تمام تر مصیبت اور گُناہ کی سزا یسوعؔ نے اپنے اوپر لے لی اور جو کچھ یسوعؔ کا ہے وہ ہمیں مِل گیا ہے۔ اُس کی راستبازی ، اُس کا خُون، اور جو کچھ اُس کے پاس ہے وہ ہمیں بطورِ بخشش عطا کرتا ہے۔ اے اِیماندار! اُس کے ساتھ اپنی یگانگت پر خوشی منا جو خطاکاروں کے ساتھ شُمار کِیا گیا تھا، اور نئے سرے سے پیدا ہونے والوں یعنی نجات یافتہ لوگوں میں شمار ہو کر اپنی نجات کا عملی ثبوت پیش کر۔

نوحہ 3: 40

’’ ہم اپنی راہوں کو ڈُھونڈیں اور جانچیں اور خُداوندکی طرف پِھریں۔‘‘
وہ دُلہن جو اپنے پردیس سدھار جانے والے شوہر سے والہانہ مُحبت کرتی ہے، اُس کی واپسی کی تمنا رکھتی ہے۔ اپنے مالک سے طویل جُدائی اُس کی جان کے لیے نیم موت کے برابر ہوتی ہے۔ اِسی طرح وہ زندگیاں جو نجات دہندہ کے ساتھ بے پناہ مُحبت رکھتی ہیں، اُن کے لیے اُس کا دیدار لازم ہے کیونکہ وہ یہ برداشت نہیں کر سکتیں کہ وہ باتر کے پہاڑوں پر اُن سے دُور رہے اور اُن کے ساتھ مزید رفاقت نہ رکھے۔ لاڈ پیار کے عادی بچوں کے لیے تنبیہ بھری نظر یا اُٹھا ہُوا ہاتھ بھی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے شفیق باپ کو ناراض کرنے سے ڈرتے ہیں اور صرف اُس کی مُسکراہٹ میں خوش رہتے ہیں۔ عزیزو! آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہی تھا۔ کتابِ مُقدّس کی ایک آیت، ایک تنبیہ، یا دُکھ کی لاٹھی کی ایک جُنبش، اور آپ اپنے باپ کے قدموں میں جا گرتے تھے اور پکارتے تھے، ’’ مُجھے بتا کہ تُو مُجھ سے کیوں جھگڑتا ہے؟ ‘‘۔ کیا اب بھی ایسا ہی ہے؟ کیا آپ دُور دُور سے یسوعؔ کی پیروی کرنے پر مطمئن ہیں؟ کیا آپ بغیر کسی خوف کے مسیح کے ساتھ رُکی ہوئی رُوحانی قربت کا تصور کر سکتے ہیں؟ کیا آپ یہ برداشت کر سکتے ہیں کہ آپ کا محبوب آپ کے برخلاف ہو جائے، کیونکہ آپ اُس کے برخلاف چلتے ہیں؟ کیا آپ کے گُناہوں نے آپ کے اور آپ کے خُدا کے درمیان جُدائی ڈال رکھی ہے، اور پھر بھی آپ کا دِل پُرسکون ہے؟مَیں خلوصِ دِل سے آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں ، کیونکہ یہ سوچنا بھی افسوسناک ہے کہ ہم اپنے نجات دہندہ کا دیدار پائے بغیر اِطمینان سے جی سکتے ہیں۔ ہمیں اِس بات کو محسوس کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ یہ کس قدر ہولناک بات ہے کہ اپنی خاطر جانے دینے والے منجی کے لیے ہمارے دِل میں تھوڑی سی مُحبت، اپنے قیمتی یسوعؔ میں تھوڑی سی خوشی، اور محبوب کے ساتھ تھوڑی سی رفاقت کی طلب باقی نہ رہے ۔ اپنے دِل کی سختی پر غم کرتے ہوئے اپنی رُوحوں کو حقیقی روزے کی حالت میں لائیں۔ صرف غم پر نہ رُکیں! یاد کریں کہ آپ نے پہلی بار نجات کہاں پائی تھی۔ فوراً صلیب کی طرف جائیں۔ وہاں، اور صرف وہاں، آپ اپنی رفاقت کو از سر نو بحال کر سکتے ہیں۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کِتنے سخت، کِتنے بے حس، یا کِتنے مُردہ ہو چکے ہیں ۔ ہمیں دوبارہ اپنی ناپاکی کے تمام چیتھڑوں، گناہوں اور دھبوں کے ساتھ اُس کے پاس جانا چاہیے۔ ہمیں اُس کی صلیب کو تھام لینا چاہیے، ہمیں اُس کی منتظر آنکھوں میں غور سے دیکھنا چاہیے، ہمیں خون سے بھرے اُس چشمے میں غوطہ لگانا چاہیے کیونکہ اِسی صورت میں ہماری پہلی مُحبت واپس آئے گی۔ اپنے اِیمان کی مضبوطی اور محبت کی سرگرمی کو بحال کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔
22