بدھ، 7 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

فلپیوں 1: 21

’’کیونکہ زندہ رہنا میرے لئے مسیح ہے ۔‘‘
ایماندار ہمیشہ سے مسیح کے لیے زندہ نہیں رہتا تھا۔ اُس نے اس وقت مسیح کے لیے زندہ رہنا شروع کیا جب خُدا روحُ القدس نے اُسے گناہ کا احساس دِلایا کیا، اور جب خُدا کے بے پایاں فضل کے وسیلہ سے اُس نے صلیب پر اپنی جان دیتے ہوئے نجات دہندہ کو دیکھا جو اُس کے قصوروں کے لیے اپنی جان کا فدیہ دے رہا تھا۔ نئی اور آسمانی پیدائش کے لمحے سے ہی انسان مسیح کے لیے زندہ رہنے کی شروعات کر دیتا ہے۔ یسوع ایمانداروں کے لیے وہ بیش قیمت موتی ہے جس کے حصول کے لیے ہم اپنا سب کچھ تیاگ دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اُس نے ہماری محبت کو اس قدر کامل طور پر اپنی طرف کھینچ لیا ہے کہ ہمارا دل اب صرف اُسی کے لیے دھڑکتا ہے، ہم اُس کے جلال کے لیے زندگی گزارنا چاہتے ہیں، اور اُس کی انجیل کی خاطر کٹ مرنے کو بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ وہ ہماری زندگی کا نمونہ ایک ایسا سانچہ ہے جس کے اندر ہم اپنے کردار کو ڈھالنا چاہتے ہیں۔پولُسؔ رسول کے یہ الفاظ عمومی تفہیم سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ اُس کی زندگی کا مقصد اور ہدف مسیح تھا، بلکہ اس سے بڑھ کر، اُس کی زندگی خود مسیح سے عبارت تھی۔ ایک قدیم بزرگ کے الفاظ میں، وہ ہمیشہ کی زندگی کو کھاتا، پیتا اور گزارتا تھا۔ یسوعؔ اُس کی سانس تھا، اُس کی جان کی جان، اُس کے دل کا دل، اور اُس کی زندگی کی زندگی۔ایک عملی مسیحی ایماندار کی حیثیت سے، کیا آپ اِس نظرئیے کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکتے ہیں؟ کیا آپ پوری دیانتداری کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میرے لئے زندہ رہنا مسیح ہے؟ آپ کا کاروبار، کیا آپ اُسے مسیح کے لئے کر رہے ہیں؟ کیا وہ خُود نمائی اور خاندانی مفاد کے لئے نہیں ہے؟ کیاآپ یہ سوال کرتے ہیں، ’’کیا یہ کوئی غلط وجہ ہے؟‘‘ ایک مسیحی کے لئے یقیناً یہ ایک غلط وجہ ہے۔ وہ مسیح کے لئے زندہ رہنے کا اقرار کرتا ہے اور ایسا کیسے ممکن ہےکہ کوئی مسیحی روحانی زناکاری کا ارتکاب کئے بغیر کسی دوسری چیز کے لئے زندہ رہ رہا ہو؟ بہت سے لوگ اس اصول کو کسی نہ کسی حد تک اپنی زندگی میں نافذ کرتے ہیں، لیکن کون ہے جو یہ کہنے کی جسارت کرے کہ اُس نے پولُسؔ کی طرح اپنی زندگی پورے اور کامل طور پر فقط مسیح کے لیے بسر کی ہے؟ کیونکہ یہی اور صرف یہی ایک مسیحی کی حقیقی زندگی ہے، اس کی زندگی کا سرچشمہ بھی، اس کی خوراک بھی، اس کا طرزِ زندگی بھی اور اس کی آخری منزل بھی، یوں سب کچھ ایک ہی نام میں سمٹ آتا ہےمسیح یسوعؔ۔ اے خُداوند، مجھے قبول فرما؛ میں اپنے آپ کو تیرے حضور پیش کرتا اور تیری منت کرتا ہوں کہ مَیں فقط تیرے لئے زندہ رہنا چاہتا ہوں ۔ مجھے اُس بیل کی مانند بنا دے جو ہل اور قربان گاہ کے درمیان کھڑا ہوتا ہےیعنی کام کرنے کے لیے بھی تیار اور قربان ہونے کے لیے بھی، اور میرا نصب العین یہی ہو، ’’دونوں کے لئے تیار‘‘۔

غزل الغزلات 4: 21

’’میری پیاری۔ میری زوجہ۔‘‘
ان شیریں خطابات پر غور فرمائیں جن کے ذریعے آسمانی سلیمانؔ یعنی مسیح نہایت گہری اور والہانہ محبت کے ساتھ اپنی دلہن، یعنی کلیسیا، کو مخاطب کرتا ہے۔ ’’میری پیاری‘‘ یعنی وہ شخصیت جو سب سے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ عزیز اور ہر ایک کام میں ہمدردی اور احساس کے ساتھ شریک ہو۔ پھر ’’ میری زوجہ‘‘ یعنی بیوی ، وہ شخصیت جو ازدواجی رشتے کے ذریعے محبت کے نہایت لطیف مگر مضبوط بندھن کے ذریعے آپ کے ساتھ جُڑی ہو، جیون ساتھی، رفیقہ اور اپنے ہی وجود کا حصہ۔ ’’میری پیاری‘‘ اور یہ خطاب اُس کی صورت اور شبیہ پر ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ تب ہی وہ اُس کی ہڈیوں میں سے ہڈی اور اُس کے گوشت میں سے گوشت ٹھہری۔ ’’میری زوجہ‘‘ ، آسمانی نسبت کے باعث، جس کے تحت اُس نے ہمیں اپنی راستبازی میں ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ منسوب کیا۔ وہ ہمیں ازل سے جانتا اور ابتدا ہی سے ہماری نگہبانی کرتا آیا ہے، اور محبت کی بانہوں میں سمیٹ کر ہمیں ہمیشہ کے لیے اپنا بنا چکا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں کہ ہمارا یہ شاہی قرابتی ہم سے ہرگز شرمندہ نہیں، بلکہ اس دوہرے رشتےیعنی قرابت اور رشتۂ ازدواج دونوں میں اپنی کامل خوشنودی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں لفظ ’’میری ‘‘ کی تکرار گویا اپنی کلیسیا پر اُس کی ملکیت اور اُس کے اختیار کو نمایاں کرتی ہے۔ چرواہا بھیڑوں کو اسی لیے ڈھونڈتا ہے کہ وہ اُس کی اپنی ہوتی ہیں، اور کھوئے ہوؤں کو اسی لیے بچانے آتا ہے کہ وہ کھونے سے پیشتر اُس کے ہی تھے۔ کلیسیا اپنے خُداوند کی ذاتِ اقدس کا ایک خاص الخاص اور منفرد حصہ ہےنیز کوئی اور اُس کی محبت میں شریک ہو سکتا ہے اور نہ شراکت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ پس ہر ایماندار زندگی ان چشموں سے تسکین حاصل کرے، کیونکہ مسیح کلیسیا کے ساتھ اپنے اِسی تعلق کے الہٰی رشتوں کے باعث آپ کے بے حد قریب ہے اور منکوحہ اتحاد کے سبب آپ اُس کو بے حد عزیز ہیں کیونکہ اُس نے آپ کی صورت اپنی دونوں ہتھیلیوں پر کھود رکھی ہے اور اُنہی کی مناسبت سے وہ کہتا ہے ’’میری پیاری، میری زوجہ‘‘۔مسیح کے ساتھ اپنے ان دونوں مقدس رشتوں کو یاد رکھیں جن میں سے ایک اُس کی شبیہ پر ہونے کا رشتہ ہے اور دوسرا اُس کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کا۔ کیونکہ اِنہی رشتوں کے تحت وہ آپ کو اس قدر مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے کہ وہ آپ سے کبھی دستبرار ہوتا ہے نہ کبھی ہوگا۔ لہٰذا، اے مسیحی کی چہیتی اور محبوبہ، اُس کی محبت کو دیکھ اور جواب میں اُسے بھی وہی محبت دے کر اُس کی تعظیم کر۔
58