جمعہ، 27 فروری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

زبور 91: 9

’’پر تُو اے خداوند! میری پناہ ہے! تُو نے حق تعالیٰ کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔‘‘
بیابان میں بنی اسرائیل کو مسلسل بدلتے حالات کا سامنا رہتا تھا۔ جب بھی بادل کا ستون ٹھہرتا تو وہ اپنے ڈیرے ڈال لیتے لیکن اگلے ہی دِن سورج نکلنے سے پہلے صُور کی آواز گونجتی اور وہ دوبارہ پہاڑوں کے تنگ و پُرپیچ راستوں اور تپتے صحراؤں میں کُوچ کرنے لگتے۔ اُنہیں بمشکل ہی تھوڑا آرام ملتا کہ اُنہیں دوبارہ یہ کہہ دیا جاتا کہ ’’چلو ، اُٹھو اور آگے بڑھو ! کیونکہ یہ تمہارے آرام کی جگہ نہیں ہے اور تمہیں کنعان کی طرف اپنا سفر جاری رکھنا ہے‘‘۔ وہ کبھی بھی ایک جگہ زیادہ دیر تک نہیں ٹک پاتے تھے یہاں تک کہ کنوئیں اور کھجوروں کے درخت بھی اُنہیں روک نہ پاتے تھے۔ مگر اِس کے باوجود، اپنے خُدا میں اُن کا ایک مستقل گھر موجود تھا اور وہ بادل کا ستون اُن کے لیے گویا گھر کی چھت کی مانند اور رات کے وقت اُس کی آگ اُن کے صحن کے چراغ کی طرح تھی۔ اُنہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑتا تھا اور وہ مسلسل اپنی قیام گاہیں بدلتے رہتے تھے کیونکہ اُن کے پاس اِتنا وقت نہ ہوتا تھا کہ وہ سکون سے بیٹھ کر کہہ سکیں کہ ’’اب ہم محفوظ ہیں۔ اب سے ہم اِسی جگہ رہیں گے۔‘‘ لیکن موسیٰؔ نے کہا کہ ’’پھر بھی، یا ربّ، اگرچہ ہم ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، تُو بھی تُو ہی پشت در پشت ہماری پناہ گاہ رہا ہے۔‘‘ ایک مسیحی کے لیے بھی خُدا کے ساتھ شخصی تعلق میں کبھی تبدیلی نہیں آتی۔ وہ آج امیر ہو سکتا ہے اور کل غریب، وہ آج بیمار ہو سکتا ہے اور کل تندرست، وہ آج خوش ہو سکتا ہے اور کل پریشان لیکن اُس کے اور خُدا کے رشتے میں کبھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر اُس نے کل مجھ سے محبت کی تھی تو وہ آج بھی مجھ سے محبت رکھتا ہے۔ میرا مبارک خداوند ہی میرے آرام کا وہ گھر ہے جو کبھی نہیں بدلتا۔ خواہ حالات خراب ہو جائیں، اُمیدیں ٹوٹ جائیں یا خوشیاں مرجھا جائیں، مَیں نے وہ کچھ نہیں کھویا جو میرے پاس خُدا میں موجود ہے۔ وہ ’’میرے لئے سکونت کی وہ چٹان ہے جہاں میں برابر جا سکتا ہوں۔‘‘ مَیں اِس دُنیا میں ایک پردیسی اور مسافر ہوں لیکن اپنے خُدا میں اپنے ابدی اور آسمانی گھر میں ہوں۔ زمین پر تو مَیں گھومتا پھرتا ہوں لیکن خُدا کے اندر میرا گھر اور بسیرا ایک چٹان پر قائم ہے۔

میکاہ 5: 2

’’اُس کا مصدر زمانۂ سابق ہاں قدیم الایام سے ہے۔‘‘
خداوند یسوعؔ مسیح ، اپنے لوگوں کے عہد میں ظاہر ہونے سے بہت پہلے خُدا کے تخت کے سامنے اُن کے نمائندے کے طور پر موجود تھا۔ یہ صورتحال ’’ازل سے‘‘ تھی اور اُس نے خود اپنے باپ کے ساتھ اُس معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت اُسے اپنی اُمت کی خاطر خون کے بدلے خون، دکھ کے بدلے دکھ، کرب کے بدلے کرب اور موت کے بدلے موت کی قیمت چُکانا تھی۔ یہ ’’ازل سے‘‘ ہی تھا کہ اُس نے بغیر کسی شکایت کے خُود کو حوالے بھی کر دیاتاکہ اپنے سر کی چوٹی سے پاؤں کے تلوے تک لہولہان ہو، اُس پر تھوکا جائے، اُسے چھیدا جائے، اُسے ٹھٹھوں میں اُڑایا جائے، اُسے طمانچے مارے جائیں اور اُسے موت کی چکّی کے اندر ہی کچل دیا جائے۔ ہمارے عوضی کے طور پر اُس کا صلیب پر جان دینا بھی ازل سے تھا۔ اے میری جان، ذرا ٹھہر اور غور کر ! یسوعؔ کا تیری خاطر صلیب پر جان دینا’’ازل سے‘‘ ہے۔ مسیح نے تجھ سے صرف تبھی محبت نہیں کی جب تُو دُنیا میں پیدا ہُوا بلکہ نسلِ انسانی کے معرضِ وجود میں پیشتر ہی سے وہ اُن سے محبت رکھتا تھا۔ وہ اکثر اُن کے بارے میں سوچا کرتا تھا۔ ازل سے ابد تک اُس نے اپنی محبت اُن کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ کیا! اے میری جان، کیا وہ جو مُدتِ مُدید سے تیری نجات کے کام میں لگا ہُوا ہے ، اب کیا اُسے پورا نہیں کرے گا؟ کیا وہ جو ازل سے تُجھے بچانے کے لیے نکلا ہے کیا اب وہ تُجھے کھو دے گا؟ کیا! کیا وہ جس نے مجھے اپنے ہاتھ میں اپنے قیمتی جوہر کی طرح اُٹھارکھا ہے ، اب مجھے اپنی انگلیوں کے درمیان سے پھسلنے دے گا؟ کیا وہ جس نے پہاڑوں کے وجود میں آنے یا سمندر کی گہرائیوں کے بننے سے پہلے مجھے چُنا تھا کیا اب مجھے رد کر دے گا؟ ناممکن! مجھے یقین ہے کہ اگر اُس کی محبت تغیر پذیر ہوتی تو وہ ازل سے میرے ساتھ ساتھ محبت ہر گز نہ رکھتا۔ اگر وہ مجھ سے اُکتا سکتا تو وہ کب کا مجھ سے عاجز آ چکا ہوتا۔ اگر اُس نے مجھ سے اِتنی گہری محبت نہ رکھی ہوتی جو پاتال جیسی گہری اور موت جیسی اٹل ہے تو وہ بہت پہلے ہی مجھ سے منہ موڑ چکا ہوتا۔ آہ، یہ خوشی میرے لئے ساری خوشیوں سے بڑھ کر ہے کہ میں اُس کی ابدی اور کبھی نہ بدلنے والی میراث ہوں جو بنایِ عالم سے پیشتر ہی باپ نے اُسے انعام میں بخش دی تھی! آج کی رات اُس کی یہی ازلی و ابدی محبت میرے سر کے لیے آرام دہ تکیہ ہوگی۔
15