جمعہ، 20 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

غزل الغزلات 2: 9

’’میرا محبوب۔‘ ‘
یہ وہ سنہرا نام تھا جس سے قدیم کلیسیا اپنے پُرمسرت لمحات میں خداوند کے مسیح کو پکارتی تھی۔ جب پرندوں کے گانے کا وقت آتا اور اُس کی سرزمین میں فاختہ کی آواز سُنائی دیتی، تو اُس کی مُحبت کا نغمہ اِن دونوں سے زیادہ شیریں ہوتا، جب وہ گاتی’’ میرا محبوب میرا ہے اور مَیں اُس کی ہوں۔ وہ سوسنوں کے درمیان چراتا ہے ‘‘۔ وہ اپنی ہر غزل میں اُسے اِسی دِلکش نام ’’ میرےمحبوب ‘‘ سے پکارتی ہے! یہاں تک کہ طویل جاڑے میں بھی، جب بُت پرستی نے خداوند کے باغ کو مُرجھا دیا تھا، اُس کے نبیوں کو خداوند کے بارِ نبوت کو تھوڑی دیر کے لیے اُتار رکھنے کا موقع ملا اور یسعیاہؔ کی طرح کہا’’اب مَیں اپنے محبُوب کے لِئے اپنے محبُوب کا ایک گِیت
اُس کے تاکِستان کی بابت گاؤُں گا‘‘۔ اگرچہ مُقدّسین نے کبھی اُس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا، اگرچہ وہ ابھی مُجسم نہیں ہوا تھا اور نہ ہی ہمارے درمیان سکونت پذیر ہوا تھا، اور نہ ہی اِنسان نے ابھی تک اُس کا جلال دیکھا تھا، پھر بھی وہ اسرائیل کی تسلی، تمام برگزیدوں کی اُمید اور خوشی، اور اُن سب لوگوں کا ’’ محبوب ‘‘ تھا جو حق تعالیٰ کے حضور راستی سے چلتے تھے۔ہم بھی، کلیسیا کے اِن موسمِ بہار کے دِنوں میں، مسیح کو اپنی رُوح کا سب سے پیارا محبوب کہتے ، اور یہ مانتے ہیں کہ وہ بے حد قیمتی، ’’ دس ہزار میں ممتاز اور سراپا عشق انگیز ہے ‘‘۔ یہ اِتنی بڑی سچائی ہے کہ مسیح کے ساتھ کلیسیا کی محبت کا بھید اِسی میں مضمر ہے کیونکہ عہدِ عتیق کا یہ محبوب آج کلیسیا کا دُلہا اور اُس کا سر ہے۔ عہدِ جدید کی کلیسیا کا یہ استحقاق اِس قدر عظیم اور عمیق ہے کہ پوری کلیسیا کی نمائندگی کرتے ہوئے پولسؔ رسول اِس پُوری کائنات کو للکارنے کی جسارت کرتے ہوئے ببانگِ دُہل یہ کہتا ہے کہ کون ہمیں مسیح کی مُحبت سے جُدا کر سکتا ہے نہ ظلم، نہ تنگی، نہ مصیبت، نہ خطرہ اور نہ تلوار اور پھر وہ خوشی سے اور فخریہ انداز میں یہ بھی کہتا ہے کہ ’’ مگر اُن سب حالتوں میں اُس کے وسِیلہ سے جِس نے ہم سے مُحبّت کی ہم کو فتح سے بھی بڑھ کر غَلبہ حاصِل ہوتا ہے ‘‘ (رومیوں ۸: ۳۷)۔
کاش مَیں تیرے بارے میں اَور زیادہ جان پاتا، اے میرے بیش قیمت محبوب!
تیری محبت میرا کُل اثاثہ ہے ،
نیچے زمین پر یا اوپر آسمان میں،
میرے پاس کوئی دوسرا نہیں،
کہ جس کا مَیں مشتاق ہُوں،
مجھے تیری محبت کی لَو لگی ہے ،
مجھے تیرے عشق کے سِوا کچھ نہیں چاہئے!

افسیوں 5: 25

’’اے شوہرو! اپنی بیویوں سے محبت رکھو جیسے مسیح نے بھی کلیسیا سے محبت کر کے ۔۔۔‘‘
مسیح اپنے شاگردوں کو کِتنی سنہری مثال دیتا ہے! بہت کم اُستاد یہ کہنے کی جرأت کر سکتے ہیں کہ ’’ اگر تم میری تعلیم پر عمل کرنا چاہتے ہو، تو میری زندگی کے نمونہ پر چلو ‘‘۔ لیکن چونکہ یسوعؔ کی زندگی کامل راستبازی کا مجسم پیکر ہے، اِسی لیے وہ خود کو پاکیزگی کے اعلیٰ نمونے اور معلم کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ ایک مسیحی کو مسیح سے کم نمونہ کو اپنا معیار کبھی نہیں بنانا چاہیے۔ ہمیں کِسی بھی حال میں اُس وقت تک مطمئن نہیں ہونا چاہیے جب تک ہم اُس راستبازی کی عکاسی نہ کریں جو اُس کی ذاتِ اقدس میں جھلکتی تھی۔ ایک شوہر کے طور پر، ہر مسیحی کو مسیح یسوعؔ کی مثال کو ہمیشہ مدِ نظر رکھنا چاہیے، اور اُسی نمونے کے مطابق اپنی ازدواجی زندگی میں رنگ بھرنے چاہئیں۔ ایک سچے مسیحی کو ویسا ہی شوہر بننا چاہیے جیسا مسیح اپنی کلیسیا کے لیے تھااور ہے ۔ شوہر کی مُحبت اپنی منکوحہ بیوی کے لئے بہت خاص ہوتی ہے۔ خداوند یسوعؔ کلیسیا کے لیے ایک مخصوص لگاؤ رکھتا ہے، جو باقی سب اِنسانوں سے بڑھ کر اور ہمارے لئے قابلِ تقلید نمونہ ہے جیسے وہ کہتا ہے کہ ’’ مَیں اُن کے لیے درخواست کرتا ہوں، مَیں دُنیا کے لیے درخواست نہیں کرتا ‘‘۔ برگزیدہ کلیسیا آسمان کی رانی، مسیح کا خزانہ، اُس کے سَر کا تاج، اُس کے بازو کا کنگن، اُس کے دِل کا سینہ بند، اور اُس کی مُحبت کا عین مرکز و محور ہے۔ ایک مسیحی شوہر کو اپنی بیوی سے لاتبدیل مُحبت رکھنی چاہیے، کیونکہ یسوعؔ بھی اپنی کلیسیا سے اِسی طرح مُحبت رکھتا ہے۔ اُس کی مُحبت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ وہ مُحبت کے اظہار کا طریقہ بدل سکتا ہے، لیکن اُس کی مُحبت ہمیشہ یکساں رہتی ہے۔ایک شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ دائمی مُحبت رکھنی چاہیے، کیونکہ کوئی بھی چیز ہمیں ’’خُدا کی جو محبت ہمارے خداوند مسیح یسوع میں ہے اُس سے جُدا نہ کر سکے گی‘‘۔ ایک سچا شوہر اپنی بیوی سے دِلی مُحبت کرتا ہے، جو انتہائی سرگرم اور شدید ہوتی ہے۔ یہ محبت محض زبانی جمع خرچ پر موقوف نہیں ہوتی۔ آہ! عزیزو، مسیح اپنی مُحبت کے ثبوت میں اِس سے زیادہ اور کیا کر سکتا تھا جو اُس نے کر دکھایا؟ یسوعؔ اپنی دلہن کے ساتھ ایک والہانہ مُحبت رکھتا ہے، وہ اُس محبت کی راہ سے اُس کی بے حد قدر کرتا ہے اور ہمہ وقت اُسی کی قربت و رفاقت میں مگن رہتا ہے۔ اے اِیماندار! تُو یسوعؔ کی مُحبت پر حیران ہوتا ہے، تُو اِس کی تعریف کرتا ہے ، مگر کیا تُو اُس کے نمونے پر بھی عمل کر رہا ہے؟ کیا تیرے گھریلو تعلقات میں تیری مُحبت کا اصول اور پیمانہ وہی ہے ’’ جیسے مسیح نے کلیسیا سے مُحبت رکھی ‘‘؟
9