ہفتہ، 21 فروری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

عبرانیوں 13: 5

’’اُس نے خُود فرمایا ہے۔‘‘
اگر ہم اِس کلام کو فقط ایمان سے تھام لیں ، تو ہمارے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار آ جائے جو سب کو مغلوب کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اِس دو دھاری تلوار سے کون سا شک تہ تیغ ہونے سے بچ پائے گا ؟ وہ کون سا خوف ہے جو خُدا کے عہد کی کمان سے نکلنے والے اِس تیر کے مہلک وار سے بچ سکتا ہے؟ اگر ہم اپنے آپ کو ’’اُس نے خُود فرمایا ہے‘‘ کی فصیل کے نیچے چھپا لیں تو کیا زندگی کی کلفتیں اور موت کی اذیتیں ؛ باطنی بُرائیاں اور ظاہری پھندے ؛ بالائی آزمائشیں اور زیریں وسوسے، سب محض دم بھر کی مصیبتیں معلوم نہیں ہوں گی ؟ جی ہاں؛ چاہے مقصود تنہائی میں خوشی ہو، یا مقابلے میں قوت ، ’’اُس نے خُود فرمایا ہے‘‘ ہمارے لئے روزمرہ زندگی کے گوناگوں مسائل کے لئے تقویت کا واحد ذریعہ ہونا چاہیے۔ اِس سے ہم کتابِ مقدس کی تحقیق کی بے انتہا قدر و قیمت سیکھ سکتے ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ کلامِ اقدس میں ضرور کوئی ایک نہ ایک ایسا وعدہ پہلے سے موجود ہو جو آپ کی درپیش صورتحال کے ساتھ عین مطابقت رکھتا ہو مگر آپ شاید اُسے نہ جانتے ہوں اور اِسی عدمِ معرفت کے باعث آپ اپنی تسلی کھو بیٹھیں۔ آپ کسی کال کوٹھڑی میں بند قیدیوں کی مانند ہوں ، اور وہیں کہیں چابیوں کا ایک ایسا گچھا رکھا ہے جس کے اندر وہ ایک کنجی بھی موجود ہے جو آپ کے قید خانے کا دروازہ کھول کر آپ کو آزاد کر سکتی ہے لیکن اگر آپ اُسے تلاش نہیں کریں گے، تو آپ ساری زندگی اُس کال کوٹھری میں پڑے رہیں گے حالانکہ آپ کی رہائی آپ کے بالکل قریب ہے۔ کتابِ مقدس کے عظیم دواخانے میں ایسی کوئی نہ کوئی زور اثر دوا ضرور موجود ہوگی جو آپ کو ہر مرض سے شفا دینے کی قدرت رکھتی ہے لیکن جب تک کہ آپ اُسے دریافت کرنے کے لیے کلامِ مقدس میں اُس وعدے کی جانچ اور تلاش نہیں کریں گے جو ’’اُس نے خُود فرمایا ہے‘‘ تب تک آپ اپنی بیماری سے شفا نہیں پا سکیں گے۔ کیا آپ کو بائبل مقدس کا سرسری مطالعہ کرنے کی بجائے اپنے حافظے کو خُدا کے قیمتی وعدوں سے پوری طرح بھر نہیں لینا چاہیے تاکہ بوقتِ ضرورت کام آ سکے؟ آپ بڑی بڑی ہستیوں کے اقوال یاد رکھ سکتے ہیں، آپ نامور شعراء کے اشعار کا ذخیرہ جمع کرنے کا شغف رکھتے ہیں لیکن کیا آپ کو خُدا کے کلام کے علم میں بھی اِتنا گہرا نہیں ہونا چاہیے، تاکہ جب آپ کسی مشکل کو حل کرنا چاہیں، یا کسی شک کا قلع قمع کرنا چاہیں، تو آپ آسانی سے متعلقہ آیات کا حوالہ دے سکیں؟ چونکہ ’’اُس نے خُود فرمایا ہے‘‘ اِس لئے وہی تمام حکمت کا منبع اور ساری تسلی کا چشمہ ہے۔ اُسے اپنے اندر کثرت سے بسنے دیں، جیسے’’پانی کا ایک ایسا چشمہ، جو ہمیشہ کی زندگی کے لیے جاری رہے گا ‘‘۔ اِس طرح آپ الہٰی زندگی میں تندرست و توانا ، مضبوط اور خوش و خرم ہو کر اپنے ایمان میں خوب ترقی کر سکتے ہیں۔

اعمال 8: 30

’’جو تُو پڑھتا ہے اُسے سمجھتا بھی ہے؟‘‘
اگر ہم خدا کے کلام کی زیادہ فہم اور عقل کے ساتھ سمجھ حاصل کرنے کی کوشش کریں تو ہم دوسروں کے لیے بہتر اساتذہ بن سکتے ہیں اور تعلیم کے ہر جھونکے سے اِدھر اُدھر بھی نہیں اُڑیں گے۔ رُوح القدس کلامِ مقدس کا حقیقی مصنف اور واحد ہستی ہے جو اِس کلام کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ہمارے دِلوں کو روشن کر سکتا ہے اس لیے ہمیں مسلسل اُس سے تعلیم پانے اور تمام سچائی میں اُس کی رہنمائی حاصل کرنے کے لئے اُس سے التجا کرنی چاہیے۔ جب دانی ایلؔ نبی ، نبوکدنضرؔ کے خواب کی تعبیر بیان کرنا چاہتا تھا تو اُس نے کیا کِیا تھا؟ وہ دُعا میں بیٹھ گیا تاکہ خُدا اُس پر رویا کو ظاہر کرے۔ یوحنا ؔ رسول نے پتمس کے جزیرے پر اپنی رویا میں ایک کتاب دیکھی جسے سات مہریں لگا کر بند کیا گیا تھا اور جسے کھولنے یا اِس پر نظر ڈالنے کے لیے بھی کوئی لائق نہ ملا۔ وہ کتاب بعد ازاں یہوداہ کے قبیلے کے ببر یعنی خداوند یسوعؔ مسیح نے کھولی جس نے غالب آ کر اُسے کھولنے کا اختیار اور استحقاق حاصل کیا تھا لیکن اُس کے کھولنے سے پہلے یوحناؔ بیان کرتا ہے کہ مَیں ’’زار زار رونے لگا ‘‘ ۔ یوحناؔ کے یہ آنسو اُس کی سیال دعائیں اور دراصل وہ مقدس کنجیاں تھیں جن کے ذریعے وہ مہربند کتاب کھولی گئی۔ اِس لیے اگر آپ بھی اپنی اور دوسروں کی بہتری کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں کہ ’’کمال روحانی حکمت اور سمجھ کے ساتھ اُس کی مرضی کے علم سے معمور ہو جائیں‘‘ تو یاد رکھیں کہ دانی ایل ؔ کی طرح دُعا آپ کی فتحمندی کا بہترین ذریعہ ہےکیونکہ خُدا کی طرف رجوع لانے سے پھر آپ بھی اُس کی طرح خواب اور اُس کی تعبیر کو جان لیں گے اور یوحناؔ عارف کی طرح آنسو بہانے کے ذریعہ سے آپ بھی قیمتی سچائی کی سات مہروں کو کھلا ہوا دیکھیں گے ۔ پتھر ہتھوڑے کے بھرپور استعمال کے بغیر نہیں ٹوٹتے اور پتھر توڑنے والے کو اپنے گھٹنوں کے بل جھکنا پڑتا ہے۔ اپنی محنت کا ہتھوڑا استعمال کریں اور دعا کے گھٹنے کو کام میں لائیں تو الہام میں ایسی کوئی بھی پتھریلی تعلیم جو آپ کے سمجھنے کے لیے مفید ہے ایسی نہیں جو دُعا اور ایمان کے استعمال سے پاش پاش ہو کر آپ کے سامنے کھل نہ جائے۔ آپ دُعا کے ذریعے کسی بھی چیز کے پار اُترنے کے لئے اپنا راستہ خود بنا سکتے ہیں۔ خیالات اور استدلال وہ فولادی فانے ہیں جو سچائی پر گرفت کو اَور مضبوط بنا دیتے ہیں لیکن دعا وہ لیور ہے جو مقدس بھیدوں سے بھرے لوہے کے صندوق کو زور آور طریقے سے کھول دیتا ہے تاکہ ہم اُس کے اندر چھپے ہوئے خزانے تک پہنچ سکیں۔
15