یسعیاہ 63: 1
’’نجات دینے پر قادر۔‘‘
الفاظ ’’نجات دینے ‘‘ سے ہم اُس عظیم منصوبۂ نجات کو بطورِ مجموعی مُراد لیتے ہیں جس کی شروعات الہٰی ارادے سے اور تکمیل ہماری کامل تقدیس پر ہوئی۔ یقیناً، نجات ایک ایسا جامع لفظ ہے جس میں خُدا کی ساری رحمت یکمشت سمٹ آتی ہے۔ مسیح صرف توبہ کرنے والوں کو ’’نجات دینے پر ‘‘ ہی قادر نہیں، بلکہ وہ انسان کو توبہ کی طرف مائل کرنے پر بھی قادر ہے۔ وہ اپنے ایمان لانے والوں کو آسمان کی بادشاہی تک لے کر جائے گا ، اور اس سے بھی بڑھ کر وہ نجات پانے والوں کو ایک نیا دل عطا کرتا اور اُن کے اندر ایمان کو جاگزین کرتا ہے۔ وہ پاکیزگی سے نفرت کرنے والے کو، پاکیزگی سے محبت کرنے والا بنا دیتا ہے، اور اپنے نام کی حقارت کرنے والوں کو اپنی محبت کے ذریعے اپنے حضور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ نجات دینے کی قدرت کا مفہوم یہیں ختم نہیں ہو جاتا، کیونکہ یہ الٰہی قدرت اِس کے بعد بھی اسی طرح ظاہر ہوتی ہے۔ ایماندار کی زندگی قادر مطلق خدا کے کیے ہوئے معجزات کا ایک مسلسل سلسلہ ہے۔ جھاڑی جلتی ہے مگر بھسم نہیں ہوتی۔ وہ جسے پاک بناتا ہے، اُسے پاکیزگی میں قائم رکھنے پر بھی قادر ہے، نیز وہ اُنہیں اپنے خوف اور محبت میں قائم رکھ کر اُن کی حفاظت کرتا ہے، تاکہ اُنہیں محفوظ رکھ کر آسمان کی بادشاہی میں پہنچا دے۔ مسیح کی قدرت اس میں نہیں کہ وہ کسی کو ایماندار بنا کر اُسے اپنے حال پر چھوڑ دے، بلکہ وہ جس نیک کام کو شروع کرتا ہے اُسے پورا بھی کرتا ہے۔ جو مردہ جان میں زندگی کا پہلا بیج ڈالتا ہے، وہی اس الٰہی زندگی کو قائم رکھتا اور مضبوط بھی کرتا ہے، تاکہ وہ گناہ کی ہر زنجیر کو توڑ کر اُس کے ابدی اور کامل جلال کی میراث کو حاصل کرے۔ اے ایماندار، اس میں تیرے لیے بڑے حوصلے اور پختگی کا پیغام ہے۔ کیا تُو کسی عزیز کے لیے مسلسل دعا کر رہا ہے؟ تو اپنی دعاؤں سے باز نہ آ، کیونکہ مسیح نجات دینے پر قادر ہے۔ تُو برگشتہ کو واپس لانے میں بے بس ہے، مگر تیرا خدا قادرِ مطلق ہے۔ اُس کے زور آور بازو کو تھام لے اور اُس سے التجا کر کہ وہ اپنی قدرت کو ظاہر کرے۔ کیا تُو خُود اپنی حالت سے پریشان ہے؟ خوف نہ کر، کیونکہ اُس کی قوت تیرے لیے کافی ہے۔ چاہے معاملہ گناہوں سے نجات کا ہو تو زندگی کی صعوبتوں اور پریشانیوں سے نجات کا ، یسوعؔ نجات دینے پر قادر ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اُس نے تجھے نجات دی ہے۔ یہ بات ہمارے لئے ہزارہا شکرانے ادا کرنے کے لائق ہے کہ ہم نے اُسے ہلاک کرنے پر قادر نہیں بلکہ نجات دینے پر قادر پایا۔
متی 14: 30
’’جب ڈُوبنے لگا تو چِلّا کر کہا اے خداوند مجھے بچا!‘‘
خُداوند کے خادموں کے لئے ڈوبنے کے اوقات ، دعا میں جھکنے کے اوقات ہوتے ہیں۔ پطرسؔ نے اپنی اِس جوکھوں کی مہم جوئی کا آغاز کرتے وقت دعا کو نظرانداز کیاتھا ، لیکن جب ڈوبنے لگا تو جان چلی جانے کے خطرے نے اسے فریادی بنا دیا، اور اگرچہ اُس نے پُکارنے میں تاخیر کی ، پھر بھی اُس کی التجا سُنی گئی ۔ جسمانی درد اور ذہنی کرب کے لمحات میں ہم فطری طور پر دعا کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں، جیسے ٹوٹی ہوئی کشتی موجوں کے دھکے سے کنارے کی طرف جا لگتی ہے۔ لومڑی حفاظت کے لیے اپنے بل میں دوڑتی ہے، پرندہ پناہ کے لیے جنگل کی طرف اڑ جاتا ہے، اور اسی طرح آزمودہ ایماندار سلامتی کے لیے فضل کے تخت کی جانب لپکتا ہے۔ آسمان کی عظیم پناہ گاہ تک پہنچنے کا واحد راستہ دُعا ہے۔ ہزاروں طوفان زدہ کشتیاں وہاں پناہ پا چکی ہیں، اور جب بھی طوفان اُٹھے تو دانائی اسی میں ہے کہ ہم پوری قوت کے ساتھ اسی کی طرف رخ کریں۔بعض صورتوں میں مختصر دعائیں بھی کافی ہوتی ہیں۔ پطرسؔ کی فریاد میں صرف چار الفاظ تھے، مگر وہ اس کی فوری اور ہنگامی ضرورت بیان کرنے کے لیے کافی تھے۔ دعا میں طوالت نہیں بلکہ قوت مطلوب ہوتی ہے۔ ضرورت جتنی شدید، فوری اور سنگین ہوگی دُعا اتنی مختصرہوگی ۔ اگر ہماری دعاؤں میں غرور کے فالتو پر کم اور پرواز زیادہ ہو تو وہ زیادہ بہتر ہے۔ لفظوں کی بہتات دُعا کے لیے ویسی ہی ہے جیسے گندم کے لیے بھوسا۔ قیمتی چیزیں کمیاب مگر انمول ہوتی ہیں، اور لمبی لمبی دُعاؤں کی بجائے پطرسؔ کی طرح چند لفظوں پر مبنی مگر حقیقی دُعا کافی ہوتی ہے۔ ہماری انتہائی سنگین پریشانیاں خُداوند کے لئے مدد کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ جونہی خطرے کا شدید احساس ہوتے ہی ہمارے اندر سے بے ساختہ پُکار اٹھتی ہے تو یسوعؔ کا کان اُسے فوراً سُن لیتا ہے ، اُس کا کان جھک جاتا اور دِل پسیج جاتا ہے جس کے بعد اُس ہاتھ جنبش کھاتے دیر نہیں لگاتا۔ ہم آخری لمحے میں اپنے مالک کو پکارتے ہیں، مگر اس کا مستعد ہاتھ ہماری تاخیر کی تلافی فوری اور مؤثر عمل سے کر دیتا ہے۔ کیا ہم مصیبت کے تند و تیز پانیوں میں ڈوبنے کے قریب ہیں؟ تو آئیے ہم اپنی التجائیں اپنے نجات دہندہ کی طرف اٹھائیں اور اُسے پکاریں، اور ہمیں یقین ہونا چاہئے کہ وہ ہمیں ہلاک نہیں ہونے دے گا۔ جب ہم اپنے تئیں کچھ نہیں کر سکتے تب یسوعؔ سب کچھ کر سکتا ہے۔ آئیے ہم اُس کی قوی مدد کو اپنی روزمرہ زندگی میں ساتھ ساتھ لے کر چلیں تو ہم بھی ضرور ہی بچ جائیں گے!