ہفتہ، 7 فروری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

میکاہ 2: 10

’’اُٹھو اور چلے جاؤ‘‘۔
وہ گھڑی قریب ہے جب ہمیں بھی یہ پیغام ملے گا، جیسے سب کو ملتا ہےکہ ’’اُٹھ اور اپنی سکونت کے گھر سے رخصت ہو ، اُس شہر سے جہاں تو اپنا کاروبار کرتا تھا، اپنے خاندان اور اپنے دوستوں سے۔ اُٹھ اور اپنے آخری سفر پر روانہ ہو۔‘‘ ہم اِس سفر کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ اُس ملک کے بارے میں کیا جانتے ہیں جس کی جانب ہم محوِ سفر ہیں؟ ہم نے اُس کے بارے میں تھوڑا بہت پڑھا ہے، اور روح القدس کے ذریعے کچھ باتیں ہم پر بھی ظاہر بھی کی گئی ہیں مگر مستقبل کے اِن عالموں کے بارے میں ہم کتنا کم جانتے ہیں!ہم جانتے ہیں کہ اُس سے پہلے ایک سیاہ اور طوفانی دریا ہمارے راستے میں پڑتا ہے جسے ’’موت‘‘ کہا جاتا ہے۔ خُدا ہمیں اُسے پار کرنے کا حکم دیتا مگر اُس دوران بھی ہمارے ساتھ رہنے کا وعدہ کرتا ہے۔ پھر موت کے بعد کیا ہو گا؟ ہماری حیرت زدہ آنکھوں کے سامنے عجائب کی کون سی نئی دُنیا کھلے گی؟ جلال کا کون سا منظر ہماری نظروں کے سامنے عیاں ہوگا؟ یہ سب بتانے کے لئے کوئی مسافر کبھی واپس نہیں آیا۔ لیکن ہم اُس آسمانی مُلک کے بارے میں اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ہم وہاں کے بلاوے کا خوشی اور شادمانی کے ساتھ خیر مقدم کر سکیں۔ موت کا سفر تاریک ہو سکتا ہے، لیکن ہم بے خوف ہو کر اس پر چل سکتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ جب ہم اِس تاریک وادی سے گزریں گے تو ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہوگا، اور اس لیے ہمیں کسی بلا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم اُن سب چیزوں سے رخصت ہو رہے ہوں گے جنہیں ہم نے یہاں جانا اور جن سے محبت کی، لیکن اب ہم اپنے باپ کے گھر جا رہے ہوں گےیعنی اپنے آسمانی باپ کے اُس ابدی گھر کی طرف جہاں یسوعؔ رہتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ اُس پائیدار شہر کی طرف ’’ جس کا معمار اور بنانے والا خُدا ہے۔‘‘یہ ہماری آخری منتقلی ہوگی، تاکہ ہم ہمیشہ اُس کے ساتھ رہیں جس سے ہم محبت رکھتے ہیں، اُس کے برگزیدوں کے درمیان، اور اپنے خُدا کی حضوری میں۔ اے مسیحی، آسمان پر بہت زیادہ غور و فکر کیا کر، کیونکہ اِس سے تجھے آگے بڑھنے اور راستے کی مشقت کو بھولنے میں مدد ملے گی۔ آنسوؤں کی یہ وادی بہتر ملک کی طرف محض ایک راستہ ہےیعنی دُکھوں کی یہ دُنیا ابدی خوشی اور آرام کی دُنیا تک پہنچنے کا فقط ایک ذریعہ ہے۔
؎ یا الٰہی! فضل سے تیرے اب تیار ہوں ہم بھی
تیرے نورانی ایوانوں میں بیدار ہوں ہم بھی
دے اِذن کہ اُڑ کر روح مِل جائے فرشتوں سے
قدسیوں کی محفلوں سے سرشار ہوں ہم بھی

مکاشفہ 11: 12

’’اور اُنہیں آسمان پر سے ایک بُلند آواز سُنائی دی کہ یہاں اُوپر آ جاؤ۔‘‘
اِن الفاظ کو اِن کے نبوتی تعلق میں زیرِ غور لائے بغیر، آئیے ہم اِنہیں اپنے عظیم پیشرو کی طرف سے اُس کے مقدس لوگوں کے لیے ایک دعوت کے طور پر دیکھیں۔ وقتِ مقررہ پر ہر ایماندار کے لیے ’’آسمان سے ایک بڑی آواز‘‘ سنائی دے گی جو کہہ رہی ہوگی، ’’یہاں اوپر آ جاؤ۔‘‘ مقدسین کے لیے یہ خوشی سے بھرپور انتظار کا ایک اہم موضوع ہونا چاہیے۔ بجائے اِس کے کہ ہم اُس وقت سے ڈریں جب ہم اِس دنیا کو چھوڑ کر اپنےحقیقی باپ کے پاس لوٹ جائیں گے، ہمیں اپنی مخلصی کی اُس گھڑی کے لیے آرزومند ہونا چاہیے۔ ہمارا گیت کچھ ایسا ہو،
؎تخت پہ اُس کے ساتھ ہے دل، وہیں ہے قرار میرا
برداشت ہو نہ اب ہجر کا یہ انتظار میرا
ہر لمحہ بس اِک آواز کی جانب ہیں کان لگے
کہ ’’اُٹھ اور آ جا‘‘، کہ وہی ہے دیار میرا
ہمیں نیچے پاتال کی طرف نہیں ، بلکہ اُوپر آسمانوں کی طرف بلایا گیا ہے۔ ہماری آسمان زاد روحیں اپنی اصل فضا میں جانے کے لئے بیتاب ہیں۔ البتہ ، ہمیں اُس آسمانی بلاوے کا صبر کے ساتھ انتظار کرنا اور اُس کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے۔ ہمارا خُدا ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ ہم سے کب یہ کہے گا کہ’’یہاں اُوپر آ جاؤ۔‘‘ ہمیں اپنی روانگی کو قبل از وقت بلانے کی خواہش کبھی نہیں کرنی چاہیے۔ مَیں جانتا ہوں کہ مسیح کی گہری محبت ہمیں یہ پکارنے پر مجبور کرے گی،
؎ اے ربّ الافواج! ان لہروں کو اب تُو جدا کر دے
فردوس کے ساحل پہ ہم کو تُو کھڑا کر دے
لیکن صبر کو اپنا کام پورا کرنے دیں۔ خُدا نے اپنی مشیتِ ایزدی، حکمتِ کاملہ اور دُور اندیشی کے تحت مخلصی پانے والوں کے لیے زمین پر رہنے کا دورانیہ خُود طے اور مقرر کیا ہے۔ یقیناً، اگر آسمان میں کوئی افسوس ہو سکتا، تو مقدسین اس بات پر غم کر سکتے تھے کہ وہ مزید بادشاہی کے کام کرنے کے لیے یہاں زیادہ دیر تک کیوں نہ رہ سکے ۔ آہ! کاش اپنے خداوند کے کھیت سے مَیں چند اَور پُولے اُس کے کھتے میں جمع کر سکتا! کاش، میرے تاج میں چند اَور جواہرات کا اضافہ ہو جاتا! لیکن یہ کیسے ممکن ہے جب تک کہ مزید کام نہ کیا جائے؟ سچ ہے کہ اِس کا دوسرا پہلو یہی ہے کہ مختصر زندگی گزارنے سے ہمارے گناہ بھی اُسی قدر کم ہوتے ہیں؛ لیکن آہ! جب ہم خُدا کی خدمت میں پورے طور پر مصروفِ عمل ہوں ، اور وہ ہمیں کلام کا بیش قیمت بیج بکھیرنے اور سو گنا پھل پانے کی توفیق بھی دے رہا ہو، تو ہم یہ کہنے لگیں گے کہ ہمارے لیے تو ہمیشہ کے لئے یہیں رہنا بہتر ہے جہاں ہم ہیں۔ مگر ، چاہے ہمارا مالک ہمیں ’’آ جاؤ‘‘ کہے یا ’’ٹھہرے رہو‘‘، ہمیں دونوں صورتوں میں یکساں طور پر خوش اور شکرگزار رہنا چاہیے ۔
20