بدھ، 11 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

رومیوں 7: 13

’’ تاکہ گُناہ حد سے زیادہ مکروہ معلوم ہو۔‘‘
خبردار، گُناہ کے معمولی خیالوں سے بچیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ توبہ کے وقت ہمارا ضمیر اتنا حساس ہو جاتا ہے کہ ہم معمولی گُناہ کا سوچ کر بھی تھر تھر کانپنے لگتے ہیں۔ نئے اِیمان لانے والوں میں ایک مُقدّس جھجک اور خُداترسی پائی جاتی ہے کہ کہیں اُنہیں اپنے کسی چھوٹے سے عمل کی وجہ سے خُدا کی ناراضگی مُول نہ لینی پڑ جائے۔ مگر افسوس! بہت جلد اِن تازہ پکے ہوئے پھلوں کی لطافت دُنیا کی بے رحم سنگت اور میل جول کی وجہ سے ختم ہو جاتی ہے۔ نو عمری کی پارسائی کا وہ نازک پودا بعد کی زندگی میں ایک ایسی لچکدار بید کی شاخ بن جاتا ہے جو بہت آسانی سے جُھک جاتی ہے۔ یہ ایک دردناک حقیقت ہے کہ ایک مسیحی بھی رفتہ رفتہ اِتنا بے حِس ہو سکتا ہے کہ وہ گُناہ جو کبھی اُسے دہلا دیتا تھا، اب اُسے ذرا بھی پریشان نہیں کرتا۔ آہستہ آہستہ اِنسان گُناہ سے مانوس ہو جاتا ہے۔ جِس کان میں توپوں کے دھماکے گونج رہے ہوں، وہ دھیمی آوازوں پر توجہ نہیں دیتا۔ شروع میں ایک چھوٹا سا گُناہ ہمیں چونکا دیتا ہے، مگر جلد ہی ہم کہنے لگتے ہیں کہ ’’کیا یہ معمولی بات نہیں؟‘‘ پھر ایک اَور بڑا گُناہ آتا ہے، اور پھر ایک اَور ، یہاں تک کہ بتدریج ہم گُناہ کو محض ایک معمولی برائی سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر ایک ناراست جرأت پیدا ہوتی ہے کہ ’’ہم کسی بہت بڑے گُناہ میں تو نہیں گِرے۔ سچ ہے کہ ہم سے تھوڑی لغزش ہوئی، مگر مجموعی طور پر تو ہم ٹھیک ٹھاک ہیں ۔ ہم نے شاید نادانستگی میں کوئی ایک آدھ مکروہ لفظ بول دیا ہو، مگر ہماری بیشتر گفتگو تو صحیح تھی ‘‘۔ اِس طرح ہم گُناہ کی پردہ پوشی کرنے لگتے ہیں، ہم اُس پر چادر ڈال دیتے اور اِسے دِلکش ناموں سے پکارنے لگتے ہیں۔اے مسیحی ! گُناہ کو ہلکا سمجھنے میں احتیاط کر ۔ خیال رکھ کہیں تُو رفتہ رفتہ گِر نہ جائے۔ کیا گُناہ ایک معمولی چیز ہے؟ کیا یہ زہر نہیں؟ اِس کی ہلاکت خیزی کو کون جانتا ہے؟ کیا گُناہ ایک چھوٹی چیز ہے؟ کیا چھوٹی لومڑیاں دلنشیں تاکستانوں کو غارت نہیں کر دیتیں؟ کیا مونگے کا چھوٹا سا کیڑا وہ چٹان نہیں بنا دیتا جِس سے بحری بیڑے ٹکرا کر تباہ ہو جاتے ہیں؟ کیا کلہاڑی کی چھوٹی چھوٹی ضربیں بلوط کے اونچے درختوں کو انجام کار گرا نہیں دیتیں؟ کیا مسلسل گرتے ہوئے قطرے پتھروں کو گھِس نہیں ڈالتے؟ گُناہ ایک چھوٹی چیز؟ اِسی نے تو منجیِ جہاں یسوعؔ کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھوایا ، اُس کی پسلی کو چھید ڈالا! اِسی گناہ نے اُسے کرب، تلخی اور دُکھ سہنے پر مجبور کیا۔ اگر تُو چھوٹے سے چھوٹے گُناہ کو ابدیت کے ترازو میں تول سکے، تو تُو اِس سے ایسے بھاگے جیسے انسان سانپ سے بھاگتے ہیں، اور بدی کی معمولی سی جھلک سے بھی نفرت کرے۔ ہر گُناہ کو اُس نظر سے دیکھو جِس نے منجیِ دو عالم کو صلیب چڑھا دیا، تب ہی تُم دیکھ سکو گے کہ یہ کتنا کریہہ اور ’’حد سے زیادہ مکروہ‘‘ ہے۔

یسعیاہ 62: 12

’’اور تُو مطلوبہ کہلائے گی۔‘‘
خُدا کا بے پایاں فضل اِس حقیقت میں نہایت عیاں ہے کہ ہمیں نہ صرف ڈھونڈا گیا بلکہ چُنا اور مقرر بھی کیا گیا۔ اِنسان اُس چیز کو ڈھونڈتا ہے جو گھر کے فرش پر گِر کر کھو گئی ہو، لیکن ایسی صورت میں یہ محض ایک عام سی تلاش ہوتی ہے، مطلوبہ مہماتی جستجو نہیں۔ جَب کوئی چیز مطلوبہ طور پر تلاش کی جائے تو اِس کا مطلب ہے کہ نقصان زیادہ پیچیدہ ہے اور کھوج میں مستقل مزاجی کی ضرورت ہے۔ ہم تو گندگی کے ڈھیر میں گندگی ہو چکے تھے۔ ہم اُس قیمتی سونے کے ٹکرے کی مانند تھے جو گندے نالے میں گِر گیا ہو۔ ایسی قیمتی چیز کو لوگ اِنتہائی مکروہ غلاظت کے ڈھیر کو کرید کرید کر اور چھان پھٹک پھٹک کر بھی اُس وقت تک تلاش کرنا جاری رکھتے ہیں جب تک وہ خزانہ اُنہیں مِل نہیں جاتا۔ یا اِسے ایک اَور مثال سے یوں سمجھئے کہ ہم بھول بھلیوں کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں کھو گئے تھے اور کئی صدیوں تک یونہی اِدھر اُدھر بھٹکتے رہے۔ پھر جب رحمتِ الٰہی اِنجیل کا پیغام لے کر ہمیں ڈھونڈنے نکلی اور ہمارے پیچھے آئی تو ہم اُسے پہلی ہی بار میں نہ مِلے، بلکہ اُسے ہمیں کرید کرید کر اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر تلاش کرنا پڑا۔ کیونکہ ہم کھوئی ہوئی بھیڑوں کی طرح اِتنی بُری طرح بھٹک کر ایک ایسے بیگانہ مُلک میں جا نِکلے تھے جہاں یہ ناممکن معلوم ہوتا تھا کہ ایک اچھا چرواہا بھی ہماری اِن ٹیڑھی میڑھی راہوں کا سُراغ لگا پائے گا۔ اُس ناقابلِ شکست فضل کی تمجید ہو جس کے تحت ہمیں مطلوبہ طور پر تلاش کیا اور پا لیا گیا! کوئی تاریکی ہمیں چُھپا نہ سکی، کوئی غلاظت ہمیں اوجھل نہ کر سکی، ہم ڈھونڈ نکالے گئے اور گھر لائے گئے۔ اُس لامتناہی محبّت کی تمجید ہو کہ خُدا رُوح القدس نے ہمارے پہلے منصب پر ہمیں بحال کر دیا! خُدا کے بعض لوگوں کی زندگیوں کی داستان اگر لکھی جائے تو وہ ہمیں ایک مُقدّس حیرت میں مبتلا کر دے گی۔ وہ طریقے نہایت عجیب اور حیرت انگیز ہیں جو خُدا نے اپنے لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے اِستعمال کیے۔ اُسی کا نام مبارک ہو، کیونکہ وہ اُس وقت تک اپنی تلاش ترک نہیں کرتا جب تک کہ اُس کے چنیدہ لوگوں کو پورے طور پر ڈھونڈ نہ لیا جائے۔ وہ ایسے لوگ نہیں کہ جنہیں آج تو تلاش کیا گیا ہو اور کل چھوڑ دیا جائے۔ قادرِ مُطلق کی قدرت اور حکمت جب مل جاتی ہیں تو پھر وہ کبھی ناکام نہیں ہوتیں۔ وہ ’’مطلوبہ‘‘ کہلائیں گے! کِسی کا بھی اِس طرح مطلوبہ ہونا ایک بے مثال فضل ہے، مگر ہمارا اِس طرح تلاش کیا جانا تو حد سے بڑھ کر فضل ہے! ہمیں اِس کی کوئی وجہ سِوائے خُدا کی اپنی خودمختار محبّت کے اَور کچھ نظر نہیں آتی، اور ہم صِرف حیرت کے مارے اپنے دِل خداوند کی طرف اُٹھا کر اُس کی شکرگزاری اور حمد کر سکتے ہیں کہ اُس نے ہمیں بھی ’’مطلوبہ‘‘ کہا ہے۔
12