گلتیوں 2: 10
’’غریبوں کو یاد رکھنا۔‘‘
خُدا اپنے بہت سے فرزندوں کو غریب کیوں رہنے دیتا ہے؟ اگر وہ چاہے تو اُن سب کو امیر بنا سکتا ہے، وہ اُن کی دہلیز پر سونے کی تھیلیاں رکھ سکتا ہے، وہ اُنہیں ایک بڑی سالانہ آمدنی بھیج سکتا ہے، یا وہ اُن کے گھروں کے گرد وافر خوراک بکھیر سکتا ہے، جیسے اُس نے ایک بار بنی اسرائیل کی لشکر گاہ کے گرد بٹیروں کے ڈھیر لگا دیے تھے اور اُنہیں کھلانے کے لیے آسمان سے روٹی برسائی تھی۔ خُدا کے فرزندوں کا غریب ہونا یا غریب رہنا کوئی ضروری نہیں ، سوائے اِس کے کہ وہ اُن کے حق میں اِسی کو بہتر سمجھتا ہے۔ ’’ہزاروں پہاڑوں کے چوپائے اُسی کے ہیں ‘‘۔ وہ اُن کی بخوبی کفالت کر سکتا ہے۔ وہ امیر ترین، عظیم ترین اور طاقتور ترین لوگوں کو اِس بات پر مائل کر سکتا ہے کہ وہ اپنی تمام تر دولت اور طاقت اُس کے فرزندوں کے قدموں میں لے آئیں، کیونکہ تمام اِنسانوں کے دِل اُسی کے اِختیار میں ہیں۔ لیکن وہ ایسا کرنا پسند نہیں کرتا بلکہ اُنہیں ضرورت مند رہنے دیتا ہے، وہ اُنہیں مفلسی اور گمنامی میں کڑھنے دیتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اِس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ ہمیں، جِنہیں ضرورت کے مطابق کافی کچھ مِلا ہے، یہ موقع دیا جائے کہ اِس طرح ہم یسوعؔ کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کر سکیں۔ ہم مسیح سے اپنی محبت کا اظہار اُس کی حمد و ثنا گا کر اور اُس سے دُعا کر کے کرتے ہیں لیکن اگر دُنیا میں کوئی ضرورت مند نہ ہوتا، تو ہم اُس کے غریب بھائیوں کی مالی مدد کر کے اپنی محبت ثابت کرنے کے اِس پُرکشش استحقاق سے محروم رہ جاتے۔ اُس نے یہ معین و مقرر کِیا ہے کہ ہم اِسی طرح سے ثابت کریں کہ ہم صِرف کلام ہی سے محبت نہیں رکھتے بلکہ عمل اور سچائی کو بھی عزیز جانتے ہیں ۔ اگر ہم واقعی مسیح سے محبت رکھتے ہیں، تو ہم اُن کا خیال رکھیں گے جِن سے وہ محبت رکھتا ہے۔ جو اُس کے لیے عزیز ہیں، وہی ہمارے لیے بھی عزیز ہوں گے۔پس، آئیے ہم خداوند کے گلّے میں شامل غریبوں کی مدد کو ایک فرض نہیں بلکہ ایک استحقاق سمجھیں۔ خداوند یسوعؔ کے اِن الفاظ کو یاد کرتے ہوئے کہ’’ جَب تُم نے میرے اِن سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے ایک کے ساتھ یہ کِیا، تو میرے ہی ساتھ کِیا ‘‘۔ یقیناً یہ بات ہمارے لئے تسلی بخش اور بے حد شیریں ہے، جس کا کُلی مقصد یہ ہے کہ ہم کُھلے ہاتھ اور مُحبّت بھرے دِل کے ساتھ دوسروں کی مدد کریں، یہ یاد رکھتے ہوئے کہ جو کچھ بھی ہم اُس کے لوگوں کے لیے کرتے ہیں، گویا مسیح کے ساتھ کرتے ہیں اور وہ اُسے اِسی طور پر قبول بھی کرتا ہے۔
متی 5: 9
’’مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں کیونکہ وہ خُدا کے بیٹے کہلائیں گے۔‘‘
یہ ساتویں مبارکبادی ہےاور اسرائیلیوں کے نزدیک سات کا عدد کاملیت کی علامت تھا۔ مُمکن ہے کہ مُنجیِ عالم نے صلح کرانے والے کو اِس فہرست میں ساتویں نمبر پر اِس لیے رکھّا ہو کیونکہ وہ مسیح یسوعؔ میں کامل اِنسان کے نمونے کے طور پر سب سے زیادہ قریب ہے۔ جو کوئی کامل برکت پانا چاہتا ہے، جِتنی کہ اِس زمین پر مُمکن ہے، اُسے اِس ساتویں برکت تک پہنچنا اور صلح کرانے والا بننا ہوگا۔ اِس آیت کی ترتیب میں بھی ایک خاص اہمیت پائی جاتی ہے۔ اِس سے پہلی آیت ’’ پاک دِل ‘‘ لوگوں کی برکت کے بارے میں بتاتی ہے کہ ’’ وہ خُدا کو دیکھیں گے ‘‘۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہمیں ’’ پہلے پاک، پھر صلح جُو ‘‘ بننا ہے ۔ ہماری صلح جوئی کا مطلب ہرگز گُناہ کے ساتھ سمجھوتہ یا بدی کی برداشت نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ہر اُس چیز کے خلاف اپنے چہرے چقماق کی طرح سخت کر لینے چاہئیں جو خُدا اور اُس کی پاکیزگی کے برعکس ہے لیکن جب پاکیزگی ہماری رُوحوں میں پوری طرح جاگزین ہو جائے، تب ہی ہم صلح جوئی کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔اِسی طرح اِس کے بعد آنے والی آیت بھی گویا کسی خاص مقصد کے تحت وہاں رکھی گئی معلوم ہوتی ہے۔ ہم اِس دُنیا میں کتنے ہی صلح جُو کیوں نہ ہوں، پھر بھی ہمیں غلط سمجھا جائے گا اور ہماری باتوں کا غلط مطلب نکالا جائے گا یعنی اِس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، کیونکہ خود صلح کے شہزادے نے اپنی صلح جوئی کے باوجود زمین پر آگ بھڑکائی۔ وہ خود، باوجود اِس کے کہ اُس نے نوعِ اِنسان سے محبت رکھی اور کوئی بُرائی نہ کی، تو بھی وہ ’’ آدمیوں میں حقیر و مردود، مردِ غمناک اور رنج کا آشنا تھا ‘‘۔ پس، کہیں ایسا نہ ہو کہ صلح جُو دِل رکھنے والے دشمنوں کا سامنا ہونے پر حیران رہ جائیں، اِس لیے اگلی آیت میں یہ اضافہ کِیا گیا ہے کہ ’’ مبارک ہیں وہ جو راست بازی کے سبب سے ستائے گئے ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے ‘‘۔ اِس طرح، صلح کرانے والوں کو نہ صرف مبارک کہا گیا ہے، بلکہ اُن کے آگے پیچھے بھی برکتیں ہی برکتیں ہیں۔اے خداوند! ہمیں وہ فضل عطا کر کہ ہم اِس ساتویں مبارکبادی کے درجے تک پہنچ سکیں! ہمارے ذہنوں کو پاک کر تاکہ ہم ’’ پہلے پاک اور پھر صلح جُو ‘‘ بنیں۔ ہماری رُوحوں کو اِتنی تقویت عطا فرما کہ جب تیری خاطر ہمیں ستایا جائے تو ہماری صلح جوئی ہمیں بزدلی اور مایوسی کی طرف نہیں بلکہ دلیری اور سچائی پر قائم رہنے کی طرف لے کر جائے۔