جمعرات، 8 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

خروج 28: 38

’’مُقدّس ٹھہرائی ہوئی چیزوں کی بدی‘‘۔
ان الفاظ نے صورتحال سے کیسا پردہ اُٹھاکر ، اصل حقیقت کو کیسے آشکار کِیا ہے! بہتر ہے کہ کچھ دیر ٹھہر کر اِس دلخراش مگر انتہائی سبق آموز منظر کو ہم بغور دیکھیں۔ ہماری عام عبادت کی حرامکاریاں، اِس میں شامل ریاکاری، رسمی طرزِ عمل، نیم گرم رویہ، بے ادبی، پراگندہ خیالی اور خُدا فراموشی سب کچھ اِس بدی میں شامل ہے! خُداوند کے لئے ہماری خدمت، اس میں باہمی رقابت، خود غرضی، لاپرواہی، سستی اور بے ایمانی، ان میں کتنی ناپاکی پائی جاتی ہے! ہماری نجی عبادات، ان کی ڈھیل، سرد مہری، غفلت، غنودگی اور خود پسندی، ان میں کیسی مُردہ دِلی نظر آتی ہے! یہ تو وہ خباثتیں ہیں جو پہلی نظر میں دیکھنے ہی عیاں ہو جاتی ہیں لیکن اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو اِن کے اندر اِس سے بھی زیادہ بڑی لعنتیں نظر آنا شرو ع ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر پیسنؔ اپنے بھائی کے نام ایک خط میں یوں رقمطراز ہیں کہ ’’میری کلیسیا، اور میرا اپنا دِل بھی، کاہل آدمی کے باغ کی مانند اُجاڑ اور ویران ہے بلکہ اِس سے بھی زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ جب میرے اندر اِن دونوں کے سُدھار کی خواہش پیدا ہوتی ہے تو اُس خواہش کی جڑ بھی تکبر، خُودنمائی اور کاہلی میں پیوست ملتی ہے۔ مَیں اپنے اُجڑے باغ میں جابجا پھیلی ہوئی جھاڑیوں کو دیکھتا ہوں تو میرا دِل فوراً چاہتا ہے کہ اُنہیں جڑ سے اُکھاڑ پھینکوں، مگر کیوں؟ اس خواہش کے پیچھے کیا محرک ہے؟ ممکن ہے یہ اس لیے ہو کہ میں ٹہلتے ہوئے اپنے آپ سے کہہ سکوں کہ میرا باغ کس قدر منظم اور مترتب ہے، یہ تکبر ہے۔ یا یہ کہ میرے پڑوسی دیوار کے اُس پار سے دیکھ کر کہیں کہ آپ کا باغ کتنا خوب پھل پھول رہا ہے، یہ خود نمائی ہے۔ یا پھر مَیں جھاڑیوں کے خاتمے کی خواہش اس لیے کروں کہ میں انہیں اُکھاڑتے اُکھاڑتے تھک گیا ہوں، یہ کاہلی ہے۔ اس طرح ہماری پاکیزگی کی معراج کو پانے کی خواہشات تک بھی ناپاک محرکات سے آلودہ ہو سکتی ہیں۔ سب سے ہری بھری گھاس کے نیچے بھی کیڑے چھپے ہوتے ہیں، انہیں ڈھونڈنے کے لیے زیادہ تلاش درکار نہیں ہوتی۔ یہ کتنا تسلّی بخش خیال ہے کہ جب سردار کاہن مقدّس چیزوں کی بدی کو اُٹھائے ہوئے تھا تو اُس کی پیشانی پر یہ الفاظ نقش تھے کہ خُداوند کے لیے مقدّس۔ اسی طرح جب یسوع ہمارے گناہ اُٹھائے ہوئے ہے تو وہ باپ کے حضور ہماری ناپاکی نہیں بلکہ اپنی ہی پاکیزگی اور راستبازی کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔ کاش ہمیں یہ فضل حاصل ہو کہ ایمان کی آنکھ سے اپنے عظیم سردار کاہن کو دیکھیں اور اُس کی پاکیزگی میں اپنی اپنی زندگی بسر کریں!

غزل الغزلات 1: 2

’’تیرا عشق مے سے بہتر ہے‘‘۔
ایماندار کے لیے مسیح کے ساتھ رفاقت سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں ہوتی ۔ اُس کے پاس وہ شادمانی ہے جسے دوسرے لوگ زندگی کی عام نعمتوں میں تلاش کرتے ہیں ، اور وہ شادمانی ہمیں مسیح پر ایمان لانے سے حاصل ہوتی ہے، لیکن روحانی اور جسمانی چیزیں الگ الگ بھی ہیں اور ایک جیسی بھی البتہ جسمانی چیزوں کے بارے میں ایک بات ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے دل کو وہ گہرا اور دائمی اطمینان نہیں دے پاتیں جو آپ کو اپنے بیمثال خُداوند یسوعؔ کی ذاتِ اقدس میں ملتا ہے۔ آپ کے پاس ایک ایسی مَے ہے جو زمین کے کسی تاکستان سے کبھی پیدا نہیں ہوئی، اور ایک ایسی روٹی ہے جو مصر کے تمام کھیت بھی فراہم نہیں کر سکتے تھے۔ وہ مٹھاس کہاں مل سکتی ہے جو آپ نے اپنے محبوب یسوعؔ کی قربت میں چکھی ؟ ہمارے نزدیک زمین کی خوشیاں، یسوعؔ جو آسمانی من ہے، کے مقابلے میں سؤروں کی پھلیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ آپ ایک لمحے کے لیے بھی اگر مسیح کی محبت کا ذائقہ پا لیں اور آپ کو اس کی رفاقت کا ایک گھونٹ بھی نصیب ہو جائے تو آپ دنیا بھر کی تمام جسمانی لذتوں پر اسے ترجیح دیں گے۔ بھوسی کا گندم سے کیا مقابلہ، نقلی چمک کا اصل ہیرے سے کیا جوڑ، خواب کا جیتی جاگتی حقیقت سے کیا رشتہ، اور وقت کی بہترین خوشی کا اُس یسوعؔ کے ساتھ کیا موازنہ جو اپنی سب سے فروتن حالت میں بھی جلال سے معمور ہے۔ اگر آپ باطنی زندگی سے ذرا بھی واقف ہیں تو آپ اقرار کریں گے کہ ہماری سب سے حقیقی، اعلیٰ، پاکیزہ اور دائمی خوشیاں اُس حیات کے درخت کا پھل ہیں جو خُدا کے فردوس کے درمیان ہے۔ کوئی چشمہ اُس کنویں جیسا میٹھا پانی نہیں دیتا جسے سپاہی کے نیزے نے کھودا۔ تمام زمینی مسرتیں زمینی ہی رہتی ہیں، لیکن مسیح کی حضوری سے حاصل ہونے والی خوشیاں خود اُس کی مانند آسمانی ہیں۔ جب آپ یسوعؔ کے ساتھ اپنی رفاقت پر نظر ڈالتے ہیں تو اس میں کوئی خالی پن یا پچھتاوا نہیں پاتے، نہ اس مے میں تلچھٹ ہے اور نہ اس خوشبو میں کوئی کڑواہٹ۔ خُداوند کی خوشی مضبوط اور دائمی ہے۔ یہ بطلان کے دیکھنے کی چیز نہیں بلکہ حکمت اور فہم اِس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ برسوں کی کسوٹی پر پوری اُترتی ہے اور وقت میں بھی اور ابدیت میں بھی بجا طور پر واحد حقیقی شادمانی کہلانے کے لائق ہے۔ بہترین غذا، تسلی، فرحت اور تازگی میں سے کوئی چیز یسوعؔ کی محبت کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اس لیے آئیے آج کی شام ہم مسیح کے عشق سے خوب سیر ہوں۔
19