جمعرات، 12 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

متی 5: 43

’’اپنے پڑوسی سے محبت رکھ۔‘‘
’’اپنے پڑوسی سے محبّت رکھ۔‘‘ ہو سکتا ہے کہ وہ دولت میں کھیل رہا ہے اور تُو اپنی مفلسی سے عاجز ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تیری چھوٹی سی کٹیا اُس کی شاہانہ حویلی کے پہلو بہ پہلو ہو اور تُو ہر روز اُس کی املاک ، اُس کے نفیس لباس اور اُس کی پُر تکلف ضیافتوں کو دیکھتا ہو۔ یہ سب نعمتیں اُسے خُدا نے بخشی ہیں۔ مگر اُس کی دولت کا لالچ نہ کر اور اُس کے بارے میں دِل میں کوئی بُرا خیال نہ لا۔ اپنے نصیب پر صابر رہ کیونکہ تُو اپنی کوشش سے اِسے بہتر نہیں بنا سکتا۔ اپنے پڑوسی کو اِس نظر سے نہ دیکھ کہ کاش وہ بھی تیری طرح (غریب) ہوتا۔ اُس سے محبّت رکھ اور حسد کو اپنے قریب پھٹکنے بھی نہ دے۔ دوسری طرف، شاید تُو امیر ہو اور تیرے آس پاس غریب بستے ہوں۔ اُنہیں پڑوسی کہنے میں عار محسوس نہ کر۔ اِس بات کا اقرار کر کہ تُو اُن سے محبّت رکھنے کا پابند ہے۔ دُنیا اُنہیں تجھ سے کمتر کہتی ہے۔ وہ کِس بات میں کمتر ہیں؟ وہ کمتر ہونے کی بجائے تیرے برابر ہیں، کیونکہ ’’خُدا نے ایک ہی اصل سے آدمیوں کی ہر ایک قوم تمام رویِ زمین پر رہنے کے لئے پیدا کی‘‘۔ یہ محض تیرا لباس ہے جو اُن کے لباس سے بہتر ہے، مگر تُو کِسی بھی طور اُن سے بہتر نہیں ہے۔ وہ اِنسان ہیں، اور تُو بھی اِنسان ہونے سے بڑھ کر اَور کیا ہے؟ اِحتیاط کر کے تُو اپنے پڑوسی سے محبّت رکھ خواہ وہ چیتھڑوں میں ہو یا غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں پڑا ہو۔لیکن شاید تُو کہے کہ ’’مَیں اپنے پڑوسیوں سے محبّت نہیں کر سکتا، کیونکہ میرے ہر بھلے کام کے بدلے وہ ناشکری اور حقارت لوٹاتے ہیں‘‘۔ تو پھر محبّت کی بہادری دِکھانے کا موقع اَور بھی زیادہ ہے۔ کیا تُو محبّت کی کٹھن جنگ لڑنے کی بجائے محض راحت کے بستر کا سپاہی بننا چاہتا ہے؟ جو سب سے زیادہ ہمت کرتا ہے وہی سب سے زیادہ جیتا ہے۔ اور اگر محبّت کی راہ دشوار گزار ہے تو اِس پر دلیری سے چل، اور ہر حال میں اپنے پڑوسیوں سے محبت کئے جا۔ اُن کے سروں پر آگ کے انگارے جمع کر، اور اگر اُنہیں خوش کرنا مشکل ہو تو اُنہیں خوش کرنے کی جستجو نہ کر بلکہ اپنے مالک یسوعؔ کو خوش کرنے کی فکر کر۔ یاد رکھ کہ اگر وہ تیری محبّت کو ٹھکرا دیں، تو بھی تُو محبت کرتا جا کیونکہ تیرا مالک اِسے نہیں ٹھکراتا ، اور تیرا یہ عمل اُس کے نزدیک اِتنا ہی مقبول ہے جتنا کہ اُن کے نزدیک ۔ اپنے پڑوسی سے محبّت رکھ، کیونکہ ایسا کرنے سے ہی تُو مسیح یسوعؔ کے نقشِ قدم پر چل پائے گا۔

1۔ سموئیل 30: 13

’’تُو کس کا آدمی ہے؟‘‘
دِین داری میں کوئی غیر جانبداری ممکن نہیں۔ ہم یا تو جلالی شہزادے عِمانوایلؔ کے خادم اور اُس کی جنگیں لڑنے والے سپاہی ہیں، اور یا پھر سیاہ فام شہزادے یعنی شیطان کے غلام ہیں۔ ’’تُو کِس کا آدمی ہے؟‘‘ اے قاری! مجھے جواب دینے میں اپنی مدد کرنے دے۔ کیا تُو نئے سِرے سے پیدا ہو چکا ہے؟ اگر ہاں، تو تُو مسیح یسوعؔ کا ہے، لیکن نئی پیدائش کے بغیر تُو اُس کا نہیں ہو سکتا۔ تُو کِس پر بھروسہ رکھتا ہے؟ کیونکہ جو یسوعؔ پر اِیمان لاتے ہیں وہی خُدا کے فرزند ہیں۔ تُو کِس کا کام کر رہا ہے؟ یہ یقینی بات ہے کہ تُو اپنے مالک ہی کی خدمت کرے گا، کیونکہ جِس کی تُو خدمت کرتا ہے وہی تیرا آقا ہے۔ تُو کِن لوگوں کی رفاقت اختیار کرتا ہے؟ اگر تُو یسوعؔ کا ہے، تو تُو اُنہی سے رفاقت رکھّے گا جو صلیب کے راہی ہیں۔ ہمنوا پرندے ایک ساتھ اُڑتے ہیں۔ تیری گفتگو کیسی ہے؟ کیا یہ آسمانی ہے یا دُنیوی؟ تُو نے اپنے آقا سے کیا سیکھا ہے؟ کیونکہ شاگرد اپنے اُن اُستاد سے ہی سیکھتے اور تربیت پاتے ہیں۔ اگر تُو نے اپنا وقت یسوعؔ کی خدمت میں گزارا ہے، تو تیرے بارے میں بھی وہی کہا جائے گا جو پطرسؔ اور یوحناؔ کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ’’پھر اُنہیں پہچانا کہ یسوعؔ کے ساتھ رہے ہیں‘‘۔ہم اِس سوال پر زور دیتے ہیں کہ ’’تُو کِس کا آدمی ہے؟‘‘ نیند کی وادی میں اُترنے سے پہلے اِیمانداری سے اِس کا جواب دے۔ اگر تُو مسیح کا نہیں ، تو تُو ایک کٹھن غلامی میں ہے۔ ابھی وقت ہے اور اپنے اِس ظالم آقا سے اپنا دامن چھڑا کر بھاگ جا ! محبّت بھرے خداوند کی خدمت میں داخِل ہو ، اور تُو برکتوں بھری زندگی سے لُطف اندوز ہوگا۔ اگر تُو مسیح یسوعؔ کا ہے، تو مَیں تجھے چار کام کرنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ تُو یسوعؔ کا ہے، پس اُس کی فرمانبرداری کر، اُس کے کلام کو اپنا نصب العین بنا، اُس کی خواہش کو اپنی مرضی بنا لے۔ تُو یہوواہ خُدا کا ہے، پس اُس سے عشق کر۔ اپنے دِل سے اُسے گلے لگا اور اپنی پُوری رُوح کو اُس کی یاد سے بھر دے۔ تُو خُدا کے بیٹے یسوعؔ کا ہے، پس اُس پر توکّل کر۔ اُس کے سوا کہیں آرام نہ پا۔ تُو بادشاہوں کے بادشاہ کا ہے، پس اُسی کے لیے تابع رہ اور اُس کے نام سے ڈٹ جا ۔ یوں ، اپنے ماتھے پر کوئی ظاہری نشان نمایاں کئے بغیر ہی سب جان لیں گے کہ تُو کِس کا آدمی ہے۔
10