پیر، 23 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

لوقا 22: 44

’’ اُس کا پسِینہ گویا خُون کی بڑی بڑی بُوندیں ہو کر زمِین پر ٹپکتا تھا۔‘‘
اِس بڑی آزمائش کے ساتھ کشمکش کی وجہ سے پیدا ہونےو الے ذہنی دباؤ نے ہمارے خُداوند کے بدن کو اِس قدر غیر فطری کیفیت سے دوچار کر دیا کہ اُس کے مساموں سے خُون کی بڑی بڑی بُوندیں گویا پسینے کی طرح نکل کر زمین پر گِرنے لگیں۔ یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ گُناہ کا بوجھ کِتنا ہولناک رہا ہوگا جِس نے مُنجی کو اِس قدر گھائل کر دیا کہ اُس کے بدن سے گویا خُون رِسنے لگا! یہ اُس کی مُحبت کی عظیم قدرت کا بے مثال مظہر ہے۔ قدیم ماہرِ الہٰیات آئزک ایمبروزؔ کا یہ ایک نہایت خوبصورت مشاہدہ ہے کہ وہ گوند جو درخت سے کِسی کٹاؤ کے بغیر خود بخود نکلتی ہے، وہ ہمیشہ بہترین ہوتی ہے۔ مہندی کا یہ قیمتی پودا تب تو نہایت شیریں خوشبوئیں دیتا ہی تھا جب وہ کوڑوں سے زخمی ہوا یا جب صلیب پر کیلوں سے چھیدا گیا۔ لیکن دیکھیں، یہ اپنی بہترین خوشبو تب دے رہا ہے جب نہ کوئی کوڑا ہے، نہ کیل اور نہ ہی کوئی ظاہری زخم۔ یہ حالت مسیح کے دُکھوں کی رضاکارانہ نوعیت کو ظاہر کرتی ہے، کیونکہ کِسی نیزے کے بغیر ہی خُون روانی سے بہہ نکلا۔ اُس کے بدن کو گھائل کرنے کی کوئی ضرورت نہ پڑی بلکہ اُس کا لہو خود بخود بہنے لگا تھا۔ حاکموں کو یہ پکارنے کی ضرورت نہیں کہ ’’ اے چشمے، جاری ہو جا ‘ بلکہ یہ چشمہ تو آپ ہی آپ آبِ رواں کی طرح بہہ رہا ہے ۔عام طور پر جب اِنسان شدید ذہنی کرب سے گزرتا ہے تو اُس کا خُون واپس دِل کی طرف لپکتا ہے، گال زرد پڑ جاتے ہیں اور غشی طاری ہونے لگتی ہے۔ گویا آزمائش کے وقت خُون بھی انسان کی روح کو تقویت دینے کے لیے اندر کی طرف بہنے لگتاہے۔ لیکن ہمارے مُنجی کو اُس کی جان کنی میں دیکھیں۔ وہ اپنی ذات سے اِس قدر بے خبر ہے کہ اُس کا کرب خُون کو دِل کی طرف نہیں بلکہ باہر کی طرف دھکیلتا ہے تاکہ زمین کو سیراب کر ے۔ مسیح کا یہ کرب اُس کی کامل قربانی کی تصویر پیش کرتا ہے جس کا خُون باغِ گتسمنی سے ہی بہنا شروع ہو گیا تھا۔کیا ہم اِس بات کو محسوس نہیں کرتے کہ وہ کِتنی شدید جِدوجہد تھی جِس سے وہ گزرا؟ اور کیا ہم اُس کی آواز کو نہیں سُنیں گے جو ہمیں پکار رہی ہے؟ ’’ تُم نے گُناہ سے لڑنے میں اب تک اَیسا مُقابلہ نہیں کِیا جِس میں خُون بہا ہو۔ ‘‘۔ اپنے اِقرار کے اُس عظیم رسول اور سردار کاہن کو دیکھیں ، اور اپنے آزمانے والے دشمن کے سامنے جُھکنے کی بجائے اپنا خُون پسینے کی طرح بہانے کے لیے تیار رہیں۔

لوقا 19: 40

’’مَیں کہا مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر یہ چُپ رہیں تو پتّھر چِلاّ اُٹھیں گے۔‘‘
لیکن کیا پتھر چِلا سکتے ہیں؟ اگر وہ جو گُونگوں کا مُنہ کھو ل دینے کی قدرت رکھتا ہے اُنہیں اپنی آواز بلند کرنے کا حکم دے تو یقیناً وہ بھی چِلا اُٹھیں گے ۔ بلا شبہ اگر وہ بولتے، تو اُن کے پاس اُس کی حمد میں گواہی دینے کے لیے بہت کچھ ہوتا جِس نے اُنہیں اپنی قدرت کے کلام سے پیدا کِیا تھا۔ وہ اپنے خالق کی حکمت اور قدرت کی ستائش کر سکتے تھے جس نے اُنہیں عدم سے وجود میں بلایاتھا۔ کیا ہم اُس کی تعریف نہ کریں گے جِس نے ہمیں نئے سرے سے پیدا کِیا اور گویا پتھروں سے ابرہامؔ کے لیے اولاد پیدا کر دی؟ قدیم چٹانیں پرانی نشانیوں کے آثار کے بارے میں بتا سکتی ہیں ، اور تخلیق کے منظرنامے پر رونما ہونے والے پے در پے مراحل کے دوران خُدا کی کاریگری کو ثابت کر سکتی ہیں ، تو کیا ہم خُدا کے حکموں ، خُدا کے عظیم کارناموں اور اُن سارے کاموں کے بارے میں بتا نہیں سکتے جو اُس نے گزرے ہوئے دِنوں میں اپنی کلیسیا کے واسطے کیے ہیں؟اگر پتھر بولتے، تو وہ اپنے اُس کاریگر کے بارے میں بتا سکتے تھے جس نے اُنہیں کان سے نکالا ، توڑا اور ہیکل کے لیے موزوں بنایا، تو کیا ہم اپنے عظیم کاریگر کے بارے میں نہیں بتا سکتے جِس نے ہمارے دِلوں کو اپنے کلام کے ہتھوڑے سے توڑ دیا تاکہ وہ ہمیں اپنے مقدِس کے اندر تعمیر کا حصہ بنا سکے؟ اگر پتھر چِلا اٹھتے تو وہ اپنے معمار کی بڑائی کرتے جِس نے اُنہیں صورت بخشی اور شاہی محل کی طرح سنوارا، تو کیا ہم اپنے معمار اور بنانے والے کی بات نہ کریں جِس نے ہمیں زندہ خُدا کی ہیکل میں اپنی مخصوص جگہ اور خدمت پر فائز کیا ہے؟اگر پتھر چِلا سکتے تو اُن کے پاس یادگار کے طور پر سنانے کے لیے ایک طویل داستان ہوتی، کیونکہ کئی بار خداوند کے حضور یادگار کے طور پر بڑے بڑے پتھر رکھے گئے ، جو ابن عزر جیسے مدد کے پتھروں اور یادگار کے ستونوں کی طرح زندہ خُدا کی گواہی دے سکتے تھے۔ دس احکام کی ٹوٹی ہوئی پتھر کی لوحیں ہمارے خلاف چِلاتی ہیں، لیکن مسیح خود جِس نے قبر کے دروازے سے پتھر ہٹا دیا، ہمارے حق میں کلام کرتا ہے۔ پتھر بے شک چِلا سکتے ہیں، لیکن ہم اُنہیں ایسا کرنے نہیں دیں گے۔ ہم اپنی آواز سے اُن کے شور کو خاموش کرا دیں گے۔ ہماری صدائیں مُقدّس نغمات کی صورت میں گونجیں گی اور ہم حق تعالیٰ کی عظمت کو بیان کریں گے۔ ہم اپنی زندگی کے باقی سارے ایام میں اُس کی تمجید کریں گے جِسے یعقوبؔ نے اسرائیل کا چرواہا اور پتھر کہا ہے ۔
21