جمعہ، 6 فروری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

افسیوں 6: 18

’’ہر وقت دُعا کرتے رہو۔‘‘
جب سے ہم نے دُعا کرنا سیکھا ہے تب سے ہم ہزاروں دُعائیں بارگاہِ الہٰی میں پیش کر چکے ہیں۔ ہماری پہلی دُعا ہمارے اپنے لیے تھی جس میں ہم نے خُدا سے مانگا تھا کہ ہم پر رحم کر اور ہمارے گناہوں کو مٹا دے۔ اُس نے ہماری سُن لی۔ لیکن جب اُس نے بادل کی طرح ہمارے گناہوں کو مٹا دیا، تو پھر ہمیں اپنے لیے مزید دعاؤں کی ضرورت پڑ گئی۔ پھر ہمیں تقدیس کرنے والے فضل نیز نیکی پر مائل کرنے اور برائی سے روکنے والی قوت اور قدرت کے لئے دُعا کرنا پڑی۔ ہمیں ایمان کی تازہ تصدیق کے لئے ، وعدوں کی تسلی بخش فراہمی کے لئے ، آزمائش کی گھڑی سے خلاصی کے لئے ، فرض کی ادائیگی میں مدد اور دُکھ کے دن میں الہٰی دستگیری کے لئے دستِ دُعا بلند کرنا پڑا۔ آج بھی ، ہمیں چارو ناچار اپنی زندگیوں کی بقا کے لیے خدا کی حضوری میں جانا ہی پڑتا ہے اُن پکے بھکاریوں کی طرح جنہیں ہر چیز مانگنے کی عادت پڑ جاتی ہے ۔ اے خدا کے فرزندو، میرے ساتھ گواہی دو کہ ہمیں اپنی جانوں کے لئے آج تک جو کچھ بھی درکار تھا وہ ہمیں اپنے خُدا کے سِوا اَور کہیں سے نہیں ملا۔ وہ تمام روٹی جسے کھا کر ہماری جان آسودہ ہوئی ہے ، آسمان سے اُتری ہے اور وہ سارا پانی جسے پی کر ہماری پیاس بجھی ہے وہ ہماری زندہ چٹان یعنی خداوند یسوعؔ مسیح سے جاری ہُوا ہے۔ آپ کی جان کبھی اپنے بل بوتے پر مالدار نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ ہمیشہ سے خدا کی روزمرہ سخاوت کی وظیفہ خوار رہی ہےاور اِسی لیے آج تک آپ کی دعائیں اُن لامتناہی روحانی رحمتوں کے حصول کے لیے آسمان تک بلند ہوتی رہی ہیں جو آپ کو زندگی کے لئے درکار ہیں۔ آپ کی ضرورتیں بے شمار تھیں، اِس لیے فراہمی بھی لامتناہی طور پر وسیع رہی، اور آپ کی دعائیں بھی اُتنی ہی اَن گنت رہی ہیں جتنی کہ وہ نعمتیں جو بے شمار تھیں۔ کیا پھر آپ کے پاس یہ کہنے کی وجہ نہیں کہ ’’میں خداوند سے محبت رکھتا ہوں کیونکہ اُس نے میری فریاد اور منت سُنی ہے‘‘؟جیسے آپ کی دعائیں بہت تھیں، ویسے ہی خُدا کے جوابات بھی بہت اور بروقت تھے۔ اُس نے ہمیشہ مصیبت کے دِن آپ کی فریاد سُنی، آپ کو زور بخشا ، اور آپ کی مدد کی، حتیٰ کہ اُس وقت بھی جب آپ نے سرپوش (فضل کے تخت) پر تھرتھراتے اور شک کرتے ہوئے اُس کی بے توقیری کا ارتکاب کیا تھا۔ یاد رکھیں، اور خدا کی شکرگزاری کے لئے اِسے اپنے دِل کی تختی پر لکھ لیں کہ کمزور اور نحیف دعائیں کرنے کے باوجود اُس نے کان جھکا کر آپ کی التجاؤں کو تحمل کے ساتھ سُنا اور جواب دیا ہے۔’’اے میری جان خداوند کو مبارک کہہ اور اُس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کر۔‘‘

یعقوب 5: 16

’’ایک دوسرے کے لئے دُعا کرو۔‘‘
ایک دوسرے کے لئے دُعا کو شفاعت کرنا کہا جاتا ہے۔ شفاعتی دُعا کرنے کے لیے ایک خوش آئند بات ہے جو ہمیں سدا یاد رکھنی چاہئے کہ ایسی دُعائیں خُدا کے کان کو سب سے زیادہ شیریں اور بھلی سُنائی دیتی ہیں کیونکہ شفاعت مسیح کی دُعا کا بھی طرۂ امتیاز رہا ہے۔ ہمارے بڑے سردار کاہن نے اُ س سنہری بخور دان میں اب تک جتنا بخور ڈالا ہے، اُس کا ایک ذرّہ بھی اُس کی اپنی ذات کے لیے نہیں ہے۔اُس کی شفاعت تمام مناجاتوں میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔ بدیں سبب، ہماری دُعا مسیح کی دُعا کے جتنی مشابہ ہو گی ، اتنی ہی وہ شیریں اور مقبول ٹھہرے گی۔ پس جہاں ایک طرف ہماری اپنی ضرورتوں کی درخواستیں قبول کی جاتی ہیں ، وہاں دوسروں کے لیے ہماری گریہ و زاری، جس میں روح کے پھل، محبت ، ایمان اور برادرانہ شراکت کی کثرت ہوتی ہے، یسوعؔ کے طفیل خُدا کے حضور وہ ہمارا سب سے پاکیزہ نذرانہ متصور ہوگی یعنی ہماری قربانی کا اصل مغز۔یہ بھی یاد رکھیں کہ شفاعتی دُعا بے حد اثر انگیز ہوتی ہے۔ شفاعتی دُعاؤں نے ہمیشہ کتنے ہی کمالات اور عجائبات دکھائے ہیں! خدا کا کلام اُس کے حیرت انگیز کاموں سے بھرا پڑا ہے۔ اے ایماندار، تیرے ہاتھ میں شفاعت ایک طاقتور وسیلہ ہے، اسے اچھی طرح استعمال کر، اسے مستقل مزاجی سے اور ایمان کے ساتھ کام میں لا، اور تو یقیناً اپنے بھائیوں کے لیے باعثِ برکت ٹھہرے گا۔جب بادشاہ تیری فریاد سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہو، تو اُس کے بدن کے دُکھ جھیلنے والے اعضا کی تسلی کے لیے اُس سے فریاد کر۔ جب جب تجھے اُس کے تخت کے بہت قریب آنے کا استحقاق ملے اور بادشاہ تجھ سے کہے کہ ’’مانگ، اور مَیں تجھے وہ دُوں گا جو تو چاہے گا،‘‘ تو تیری التجا صرف تیرے اپنے لیے نہ ہو بلکہ اُن بہت سوں کے لیے بھی ہو جنہیں اُس کی مدد درکار ہے۔اگر تجھ میں ذرا بھی فضل پایا جاتا ہے مگر تُو شفاعت کار نہیں، تو وہ فضل رائی کے دانے جتنا چھوٹا ہوگا۔ تیرے پاس بس اتنا فضل ہے کہ تیری اپنی روح مصیبت کی دلدل سے نکل کر آبِ رواں میں تیرتی رہے، لیکن تیرے پاس فضل کا وہ گہرا بہاؤ نہیں، جس کی بدولت تُو اپنی خوشیوں سے بھری کشتی میں دوسروں کی ضرورتوں کا بھاری بوجھ اُٹھائے پھرے، اور تُو خداوند اپنے خُدا کے حضور سے اُن عظیم برکات کو دوسروں پر نچھاور کر سکے جو شاید تیرے بغیر اُنہیں حاصل نہیں ہو سکتیں۔
؎بھول جائیں میرے ہاتھ اپنا یہ ہنر اور مہارت
میری گویائی ہو جائے سدا کے لیے ساکت
میرا دھڑکتا ہوا دل بھی دھڑکنا چھوڑ دے
بھول جاؤں گر میں تختِ فضل کی سعادت
29