بدھ، 4 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

2۔ کرنتھیوں 12: 9

’’میرا فضل تیرے لئے کافی ہے۔‘‘
اگر خدا کے مقدسین میں سے کوئی بھی مصیبت اور مفلوک الحالی سے آزمایا نہ جاتا ، تو ہم الٰہی فضل کی تسلیوں کو آدھا بھی نہ جان پاتے۔ جب ہم کسی ایسے مسافر کو دیکھتے ہیں جس کے پاس سر چھپانے کی جگہ بھی نہیں ہوتی ، لیکن پھر بھی وہ کہہ سکتا ہے کہ ’’مَیں اب بھی خداوند اپنے خُدا پر توکل کروں گا‘‘، یا جب مَیں کسی ایسے نادار کو دیکھتا ہوں جو روکھی سوکھی پر گزارا کر رہا ہے مگر پھر بھی یسوع پر فخر کرتا ہے، اور جب مَیں کسی بیوہ کو مفلسی میں گھرا ہُوا دیکھتا ہوں اور پھر بھی اُس کے ایمان کو مسیح پر قائم و دائم پاتا ہوں، تو یقین مانئے! مجھے اُن کی زندگیوں میں انجیل کا عملی عکس دکھائی دینے لگتا ہے۔ خدا کا فضل ایمانداروں کی غربت اور آزمائشوں میں زیادہ واضح طور پر ظاہر اور عیاں ہو جاتا ہے۔ مقدسین ہر مایوسی کے عالم میں اِس ایمان کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہیں کہ سب چیزیں مِل کر اُن کے لئے بھلائی پید اکرتی ہیں ، اور دیدہ برائیوں سے بالآخر ایک حقیقی برکت جنم لے گی، یعنی اُن کا خُدا یا تو جلد اُن کے لئے مخلصی کا کوئی راستہ نکالے گا، یا جب تک اُس کی مشیت ہے کہ وہ اِس مصیبت میں رہیں، وہ یقیناً اُنہیں سنبھالے رکھے گا۔ مقدسین کا یہ صبر الٰہی فضل کی قدرت کو بھی ثابت کرتا ہے۔اُن کا یہ ایمان اور تیقن گویا سمندر کے بیچوں بیچ ایک روشنی کا مینار ہے۔ رات خاموش ہے اِس لئے مَیں نہیں بتا سکتا کہ یہ عمارت مضبوط ہے یا نہیں، اس کے اِرد گرد طوفان کا گرجنا اور لہروں کا ٹکرانا ضروری ہے، تب ہی مجھے معلوم پڑے گا کہ آیا یہ عمارت قائم رہے گی یا نہیں۔ رُوح الُقدس کا کام بھی ایسا ہی ہے ۔ اگر یہ کام کئی موقعوں پر طوفانی لہروں میں گھِرا نہ ہوتا، تو ہم کبھی جان نہ پاتے کہ یہ کتنا سچا اور کس قدر مضبوط ہے یعنی اگر ہوائیں اِس پر نہ چلتیں، تو ہمیں معلوم نہ ہوتا کہ یہ کتنا مستحکم اور محفوظ ہے۔ خدا کے شاہکار وہ لوگ ہیں جو مشکلات کے درمیان ثابت قدم اور غیر متزلزل کھڑے رہتے ہیں،
؎شور و غوغے کے بیچ پُرسکون
فتح کے یقین سے بھرپور
جو بھی اپنے خُدا کو جلال دینا چاہتا ہے، اُسے بہت سی آزمائشوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ خداوند کے حضور کوئی بھی شخص اُس وقت تک سرفراز نہیں ہو سکتا جب تک اُس کی جنگیں متعدد نہ ہوں۔ پس، اگر آپ کی راہ آزمائشوں سے بھری ہے، تو اِس پر خوش ہوں، کیونکہ آپ خدا کے ہمہ گیر اور کافی فضل کو بہتر طور پر ظاہر کر سکیں گے۔ جہاں تک اُس کے آپ کو چھوڑ دینے کا تعلق ہے، تو کبھی یہ خیال خواب میں بھی اپنے پاس پھٹکنے نہ دیں بلکہ ایسے خیال سے نفرت کریں۔ وہ خُدا جو اَب تک آپ کے لئے کافی رہا ہے، اُس پر آخر تک توکل کیا جانا چاہئے۔

زبور 36: 8

’’وہ تیرے گھر کی نعمتوں سے خُوب آسودہ ہوں گے۔‘‘
سبا کی ملکہ سلیمانؔ کے دسترخوان کی فراوانی دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی۔ جب اُس نے ایک دِن کی رسد کا مشاہدہ کیا تو اُس کا دِل قابو میں نہ رہا۔ اِس پر طُرہ یہ کہ وہ اُن خادموں کی جماعت کو دیکھ کر بھی اُس سے بھی زیادہ حیران ہوئی جنہیں شاہی میز پر ضیافت دی جاتی تھی۔ لیکن فضل کے خُدا کی مہمان نوازی کے سامنے یہ سب کیا ہے؟ اُس کے در سے لاکھوں لوگ روزانہ کھاتے اور پیتے ہیں۔ کروڑوں بھوکے اور پیاسے، اُس کی ضیافت میں بڑی اشتہا لے کر آتے ہیں، مگر اُن میں سے کوئی ایک بھی بے آسودہ نہیں لوٹتا۔ وہاں ہر ایک کے لئے کافی ہے، سب کے لئے کافی ہے اور ہمیشہ کے لئے کافی ہے۔ اگرچہ یہوواہ کے دسترخوان پر کھانا کھانے والا جمِ غفیر آسمان کے ستاروں کی مانند اَن گنت ہے، پھر بھی ہر ایک کو اُس کی کثرت کا حصہ ضرور ملتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ ایک مُقدس شخص کو کتنے فضل کی ضرورت ہوتی ہے، اتنے زیادہ فضل کی کہ لامحدود خُدا کے سِوا کوئی اُسے ایک دن کے لئے بھی فراہم نہیں کر سکتا۔ اِسی لئے اُس کا خُداوند خُود اُس کے واسطے اپنا دسترخوان بچھاتا ہے، ایک کے لئے نہیں بلکہ سارے مقدسین کے لئے اور پھر ایک دن کے لئے نہیں بلکہ زندگی بھر کے لئے بلکہ اور پشت در پشت نسلوں کے لئے۔اِس آیت کی بھرپور ضیافت پر غور کریں، رحمت کی اِس ضیافت کے مہمان آسودہ ہوتے ہیں، بلکہ اِس سے بھی بڑھ کر ’’خوب آسودہ‘‘ ہوتے ہیں ۔ اور وہ بھی عام خوراک سے نہیں بلکہ چکنائی سے، یعنی خُدا کے اپنے گھر کی خاص نعمتوں سے کیونکہ ایسی ضیافت کی ضمانت بنی آدم کے اُن تمام فرزندوں کو ایک سچے وعدے کے ذریعے دی گئی ہے جو یہوواہ کے پروں کے سائے تلے پناہ لیتے ہیں۔ مَیں کبھی سوچتا تھا کہ اگر مَیں خدا کے فضل کے پچھلے دروازے سے بچا کھچا کھانا بھی پا لوں تو آسودہ ہو جاؤں گا، اُس عورت کی طرح جس نے کہا تھا کہ ’’کتے بھی اُن ٹکڑوں سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں جو اُن کے مالک کی میز سے گرتے ہیں‘‘۔ لیکن خدا کے کسی فرزند کی پرورش اُس کی بچی کھچی خوراک سے نہیں کی جاتی۔ مفیبوست ؔ کی طرح وہ سب بادشاہ کی اپنی میز سے کھاتے ہیں۔ فضل کے معاملے میں ہم سب کو بنیمینؔ کا سا حصہ ملتا ہے یعنی ہم سب کو اُس سے دس گنا زیادہ ملتا ہے جس کی ہم توقع کر سکتے تھے، اور اگرچہ ہماری ضروریات بہت بڑی ہیں، پھر بھی ہم اکثر فضل کی اُس حیرت انگیز کثرت پر حیران رہ جاتے ہیں جو خُدا ہمیں تجرباتی طور پر لطف اندوز ہونے کے لئے فراوانی کے ساتھ عطا کرتا ہے۔
10