ہفتہ، 28 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن
ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

افسیوں 3: 19

’’ اور مسِیح کی اُس مُحبّت کو جان سکو جو جاننے سے باہر ہے۔‘‘
مسیح کی مُحبّت اپنی شیرینی، اپنی معموری، اپنی عظمت اور اپنی وفاداری میں اِنسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔ وہ زبان کہاں سے ملے گی جو بنی نوع اِنسان کے لیے اُس کی بے مثال اور لاثانی مُحبت کو بیان کر سکے؟ یہ اِتنی وسیع اور لامحدود ہے کہ جِس طرح ابابیل پانی کو صرف چھو کر گزر جاتی ہے اور اُس کی گہرائیوں میں غوطہ نہیں لگاتی، ویسے ہی تمام بیانیہ الفاظ صرف سطح کو چھو پاتے ہیں، جبکہ ناقابلِ پیمائش گہرائیاں نیچے چُھپی ہوئی ہیں۔ شاعر نے کِتنا سچ کہا ہے کہ:
’’ اے مُحبت! تُو ایک بے اتھاہ سمندر ہے! ‘‘
اور مسیح کی مُحبّت ہر ایک سمندر سے زیادہ گہری ، ناقابلِ پیمائش اور ادراک سے ماورا ہے ، کیونکہ کوئی بھی اِس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اِس سے پہلے کہ ہم یسوعؔ کی مُحبّت کا کوئی صحیح تصور قائم کریں، ہمیں اُس کے سابقہ جلال کی بلندیوں اور زمین پر اُس کے تجسم کی تمام تر شرمندہ حالی کی گہرائیوں کو سمجھنا ہوگا۔ لیکن مسیح کی عظمت کے بارے میں ہمیں کون بتا سکتا ہے؟ جب وہ اعلیٰ ترین آسمانوں پر تخت نشین تھا، وہ برحق خُدا سے برحق خُدا تھا۔ آسمان اور اُن کے تمام لشکر اُسی کے وسیلہ سے بنے۔ اُسی کے قادرِ مطلق ہاتھ نے کائنات کے سیاروں کو بنایا اور سنبھالا ہُوا تھا۔ کروبیوں اور سرافیم کی حمد و ثنا ہر وقت اُس کے گرد جاری رہتی تھی۔ پوری کائنات کی ہالیلویاہ ہالیلویاہ کہتے ہوئے اُس کے قدموں پر سجدہ ریز ہو جاتی تھی کیونکہ اپنی ساری مخلوقات پر ممتاز اور مختار تھا یعنی سب سے بلند اور ابد تک مبارک خدا۔ اُس کے حقیقی جلال کی سربلندی کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟اور دُوسری طرف، کون بتا سکتا ہے کہ وہ کِتنا نیچے اُترا؟ اِنسان بننا ہی بڑی بات تھی، مردِ غم ناک بننا اُس سے بھی کہیں بڑھ کر تھا۔ پھر خون بہانا، جان دینا اور دُکھ اٹھانا، یہ سب اُس کے لیے بہت بڑی باتیں تھیں کیونکہ وہ ذاتِ الہٰی اور ابنِ خداتھا جس کے لئے ایسی بے مثال اذیت سہنا، شرمناک بلکہ لعنتی موت کو گلے لگانا اور اپنے باپ کی طرف سے چھوڑ دیا جانا، یہ فروتنی اور مُحبت کی وہ گہرائی ہے جِسے بڑے سے بڑا الہٰیات میں ماہر دماغ بھی ناپنے میں مکمل طور پر قاصر ہے۔ مُحبّت اِسی میں ہے! اور سچ تو یہ ہے کہ یہ وہ مُحبّت ہے جو ہر ایک ’’ عِلم سے باہر ‘‘ ہے۔ آئیے اپنے دِلوں کو اِس مُحبّت کے لئے خُداوند یسوع ؔ کی شکرگزاری سے ایسا بھر دیں کہ بدلے میں ہمارے اندر بھی اُس کے ساتھ ویسی ہی محبت رکھنے کا جذبہ بیدار ہو۔

حزقی ایل 20: 41

’’ تب مَیں تُم کو خُوشبُو کے ساتھ قبُول کرُوں گا۔‘‘
ہمارے عظیم نجات دہندہ کے فضائل حق تعالیٰ کے نزدیک راحت انگیز خوشبو کی مانند ہیں۔ خواہ ہم مسیح کی راستبازی کی بات کریں یا اُس کی اُس کی فرمانبرداری کی، دونوں میں برابر خوشبو پائی جاتی ہے۔ اُس کی عملی زندگی میں ایک ایسی مہک پائی جاتی تھی جِس کے ذریعے اُس نے خُدا کی شریعت کو اپنی زندگی میں پورا کیا ، اور ہر ایک حکم کو اپنی ذات کے پاکیزہ جُزو میں ایک قیمتی جوہر کی طرح چمکایا۔ اِسی طرح اُس کی فرمانبرداری تھی، جب اُس نے بغیر کسی شکایت کے بھوک اور پیاس، سردی اور ننگ کو برداشت کِیا، اور آخر کار گتسمنی باغ میں اِس دُکھ کی انتہا پرایسا جا پہنچا کہ اُس کا اپنا خون بڑی بوندوں کی صورت میں گویا پسینے کی طرح بہنے لگا ۔ اُس نے اپنی پیٹھ کو پیٹنے والوں کے حوالے کِیا اور اپنے گالوں کو اُن کے سامنے پھیر دیا جنہوں نے اُس کے بال نوچے، طمانچے مارے ، اور اُسے صلیب پر جڑ دیا مگر یہ سب خُدا کے غضب کو اپنے اوپر لے کر ہمیں نجات دینے کے لئے ہُوا۔ یہ ساری باتیں حق تعالیٰ کے حضور راحت انگیزخوشبو ہیں جن کے ساتھ خُدا ہمیں اپنی حضوری میں قبول کرتا ہے۔ اُس کے کام اور اُس کی موت، اُس کے عوضی بن کر ہماری خاطر اُٹھائے جانے والے دُکھوں اور اُس کی فرمانبرداری کے صلے میں خداوند ہمارا خُدا ہمیں قبول کرتا ہے۔ اُس کی ذات میں کیسی قدرت پائی جاتی ہے جو ہماری بے وقعتی پر غالب آ جاتی ہے! کیسی شیریں خوشبو جو ہمارے گناہوں کی بدبو کو دُور کر دیتی ہے! اُس کے خون میں کیسی پاک کرنے والی قدرت پائی جاتی ہے جو ہمارے سارے گُناہوں کو مٹا دیتی ہے! اور اُس کی راستبازی میں کیسی تاثیر پائی جاتی ہے جو ہم جیسی ناقابلِ قبول مخلوق کو اُس کے عزیز بیٹے میں مقبول ٹھہرا دیتی ہے! اے اِیماندار، غور کر کہ تیرا اِس قبولیت پر کِس قدر ایمان، یقین اور اعتقاد ہونا چاہیے، کیونکہ یہ سب اُس کی ذات کے خاصے ہیں۔ خبردار، کبھی یسوعؔ میں اپنی اِس قبولیت پر شک نہ کرنا۔ مسیح کے بغیر آپ کبھی قبول نہیں ہو سکتے۔ لیکن جب آپ نے اُس کے فضائل کو پا لیا، تو پھر آپ کبھی رد نہیں ہو سکتے۔ آپ کے تمام تمام شکوک، خوف اور گُناہوں کے باوجود، یہوواہ خُدا کی فضل بھری آنکھ کبھی قہر سے آپ کی طرف نہیں دیکھتی۔ اگرچہ اُسے ہماری ذات میں گُناہ نظر آتا ہے، لیکن جب مسیح کے خون کے پردے کے اندر سے دیکھتا ہے، تو اُسے کوئی گُناہ نظر نہیں آتا۔ آپ مسیح میں ہمیشہ مقبول ہو، باپ کے دِل کو ہمیشہ عزیز اور اُس کے مبارک لوگ ہیں۔ اِسی لیے حمد کا گیت گائیں، اور جب آپ آج شام جلالی تخت کے سامنے مُنجی کے اِن فضائل کا لوبان میں سے راحت انگیز خوشبو کا دُھواں اٹھتے ہوئے دیکھیں ، تو اُس میں اپنی پرستش، شکرگزاری اور مناجات بھی شامل کر دیں۔
26