متی 26: 56
’’ اِس پر سب شاگِرد اُسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔‘‘
اُس نے اُنہیں کبھی نہیں چھوڑا تھا ، مگر اُنہوں نے اپنے بزدلانہ خوف کے سبب، دُکھوں کا آغاز ہوتے ہی اُسے چھوڑ کر بھاگنے میں عافیت جانی۔ یہ سب اِیمانداروں کی کمزوری کی ایک سبق آموز مثال ہے کہ جب اُنہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تو کیا ہوتا ہے۔ آخر وہ بھیڑیں ہی تو ہیں جو بھیڑیے کو دیکھ کر بھاگ کھڑی ہوتی ہیں۔ اُن سب کو خطرے سے پیشگی آگاہ کر دیا گیا تھا، اور اُن سب نے اپنے مالک کو چھوڑنے کی بجائے جان دینے کا وعدہ کِیا تھا، لیکن پھر بھی وقت آنے پر وہ ناگہاں خوف کا شکار ہوئے اور دُم دبا کر بھاگ گئے۔ عین مُمکن ہے کہ مَیں نے بھی آج کے دِن کی ابتدا میں خداوند کی خاطر کوئی آزمائش سہنے کے لیے خود کو تیار کِیا ہو، اور مَیں یہ گمان کر رہا ہوں کہ مَیں کامل وفاداری کا مظاہرہ کروں گا، لیکن مُجھے بھی اپنے بارے میں بہت زیادہ محتاط اور خبردار رہنا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے دِل کی بے ایمانی یا کمزور ایمانی کے باعث مجھے بھی خداوند سے زیادہ اپنی جان کے لالے پڑ جائیں۔ وعدہ کرنا ایک بات ہے اور اُسے پورا کرنا بالکل دُوسری بات۔ یسوعؔ کے پہلو میں دیوانہ وار کھڑے رہنا اُن کے لیے ابدی عزت کا باعث ہوتا مگر وہ اِس عزت افزائی کو بھول کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ کاش مَیں اُن کی تقلید سے محفوظ رہوں! وہ بھلا اپنے مالک کے قریب رہنے سے زیادہ کہیں اَور کیسے محفوظ ہو سکتے تھے، جو فوراً فرشتوں کے بارہ تُمن طلب کر سکتا تھا؟ وہ اپنی حقیقی سلامتی ہی سے بھاگ گئے۔ اے خُدا، مُجھے ایسی حماقت نہ کرنے دے۔ خُدا کا فضل تو بزدل کو بھی بہادر بنا سکتا ہے۔ خداوند کی مرضی ہو تو سُلگتا ہوا سن بھی قربان گاہ کی آگ کی طرح بھڑک سکتا ہے۔ یہ وہی رُسول تھے جو گیدڑ کی طرح ڈرپوک نکلے ، نزولِ رُوح القدس کے بعد شیر ببر کی طرح نڈر بن گئے، اور اِسی طرح روح القدس ہماری پست ہمتی کو بھی اپنے خداوند کے اِقرار اور اُس کی سچائی کی گواہی کے لیے دلیر بنا سکتا ہے۔ جب مُنجی نے اپنے دوستوں کی اتنی بے وفائی دیکھی ہوگی تو اُس کا دِل کس قدر رنجیدہ ہُوا ہو گا! یہ اُس کے پیالے کا ایک کڑوا جُزو تھا، مگر وہ پیالہ اب خالی ہو چکا ہے۔ اب میری باری ہے۔ اگر مَیں اپنے خداوند کو چھوڑ دوں گا، تو مَیں اُسے دوبارہ مصلوب اور اُسے اعلانیہ رُسوا کروں گا۔ اے رُوح القدس ! مُجھے ایسے شرمناک انجام سے محفوظ رکھ۔
متی 15: 27
’’ اُس نے کہا ہاں خُداوند کیونکہ کُتّے بھی اُن ٹُکڑوں میں سے کھاتے ہیں جو اُن کے مالِکوں کی میز سے گِرتے ہیں۔‘‘
یہ عورت مسیح کے بارے میں بڑے اور عظیم خیالات رکھتی تھی جو اُس کے لئے واحد اُمید کا باعث تھے۔ مالک نے لڑکوں کی روٹی کا ذکر کر کے اُس کے ایمان کو پرکھا۔ مگر اُس کی دلیل بے حد جاندار تھی کہ ’’چونکہ تُو ہی فضل کی میز کا مالک ہے، مَیں جانتی ہوں کہ تُو ایک فیاض میزبان ہے، اور تیری میز پر یقیناً روٹی کی کثرت ہوگی؛ بچوں کے لیے اِتنی زیادہ فراوانی ہوگی کہ فرش پر کُتوں کے لیے بھی ٹکڑے گریں گے، اور اُن سے بچے ہوئے ٹکڑے بھی ہمارے لئے کافی ہوں گے۔ ‘‘ اُس کا خیال تھا کہ خداوند کی میز اِتنی بڑی ہے کہ اُس میں سے اگر اُسے ایک ٹکڑا بھی میسر آ جائے تو وہ بھی اُس کے لئے کافی ہوگا۔ یاد رکھیں، وہ اپنی بیٹی میں سے بدروح نکلوانی چاہتی تھی۔ یہ اُس کے لیے بہت بڑی بات تھی، لیکن مسیح کے بارے میں اُس کی سوچ اور قدر و منزلت اِتنی بلند تھی کہ اُس نے کہا، ’’ یہ مسیح کے لیے کچھ بھی نہیں، یہ تو اُس کے دینے کے لیے محض ایک ٹکڑا ہے۔ ‘‘یہی تسلی کا شاہی اور آسمانی راستہ ہے۔ صرف اپنے گُناہوں کے بارے میں بڑے خیالات آپ کو مایوسی کی طرف لے جائیں گے، لیکن مسیح کے بارے میں بڑے خیالات آپ کو سلامتی کی بندرگاہ تک پہنچائیں گے۔ ’’ میرے گُناہ بہت ہیں، لیکن رُکیں ! اِن سب کو دُور کرنا یسوعؔ کے لیے تو کچھ بھی نہیں۔ میری خطا کا بوجھ مُجھے یوں دباتا ہے جیسے کِسی دیو قامت کا پاؤں ایک کِرم کو کچل دے، لیکن اُس کے لیے یہ دُھول کے ایک ذرے سے بھی زیادہ نہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی صلیب پر اپنے بدن میں اِس کی لعنت اٹھا چکا ہے۔ میرے لیے پوری معافی پانا ایک لامتناہی برکت ہوگی، لیکن اُس کے لیے یہ معافی دینا ایک معمولی بات ہے۔ ‘‘ اُس عورت نے یسوعؔ سے بڑی توقعات رکھتے ہوئے اپنے دِل کو خوب کھولا، اور اُس نے اِسے اپنی مُحبت سے بھر دیا۔ عزیز قاری، آپ بھی ایسا ہی کیجئے۔ مسیح نے جو کچھ اُس کے سامنے رکھا اُس نے اُس کا اِقرار کِیا، لیکن اُس نے مسیح کو مضبوطی سے تھامے رکھا، اور اُس کی سخت باتوں سے بھی اپنے حق میں اسباب نکال لیے۔ اُس نے اُس کے بارے میں سُنی ہوئی بڑی بڑی باتوں کا یقین کِیا، اور بے ایمانی کا شکار نہ ہوئی۔ بلکہ اپنے ایمان پر قائم رہ کر فتح اور شفا پائی ۔ اُس کا واقعہ غالب آنے والے اِیمان کی ایک عمدہ مثال ہے۔ آج اگر ہم بھی اُس کی طرح فتحمندی حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اُس کی حکمتِ عملی اور مثال پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔