اتوار، 25 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

یسعیاہ 63: 7

’’مَیں خُداوند کی شفقت کا ذِکر کروں گا۔ خُداوند ہی کی ستایش کا۔ اُس سب کے مطابق جو خُداوند نے ہم کو عنایت کِیا ہے۔‘‘
’’مَیں خُداوند کی شفقت کا ذِکر کروں گا۔ خُداوند ہی کی ستایش کا۔ اُس سب کے مطابق جو خُداوند نے ہم کو عنایت کِیا ہے۔‘‘
اور کیا آپ ایسا نہیں کر سکتے؟ کیا ایسی کوئی رحمتیں نہیں جن کا آپ کو تجربہ نہ ملا ہو؟ کیا ہُوا ، اگر آپ آج اُداس ہیں، کیا آپ اُس مبارک گھڑی کو بھول سکتے ہیں جب یسوعؔ آپ سے ملا اور کہا، ’’میرے پاس آؤ‘‘؟ کیا آپ وہ پُر کیف لمحہ یاد نہیں کر سکتے جب اُس نے آپ کی بیڑیاں توڑ ڈالیں اور آپ کی زنجیروں کو زمین پر پٹخ کر کہا، ’’مَیں تیرے بندھن توڑنے اور تُجھے آزاد کرنے آیا ہوں‘‘؟ کیا ہُوا کہ اگر اُس کے ساتھ آپ کی نسبت کی وہ پہلی محبت بھلا دی گئی ہے، تو بھی یقیناً زندگی کی راہ پر کوئی تو ایسا قیمتی سنگِ میل ہوگا جس پر ابھی کائی نہ جمی ہو اور جس پر آپ اُس کی شفقت کی کوئی خوشگوار یاد از سر نو تازہ کر سکتے ہیں ؟کیا ایسا نہیں ہُوا کہ ہر بار جب جب آپ بسترِ مرض پر جا پڑے اور وہ بستر ، بسترِ مرگ میں بدلنے والا تھا، کیا اُس نے آپ کی جان کو بحال نہ کیا؟ کیا آپ کی مفلوک الحالیوں میں بھی اُس نے آپ کی ضرورتیں پوری نہ کیں؟ کیا آپ کی تنگدستیوں کے ایام میں اُس نے آپ کی ڈھارس نہ بندھائی ؟ اُٹھیں، اپنے تجربے کے دریا پر جائیں اور وہاں سے چند سرکنڈے توڑ کر اُن سے ایک صندوقچی بنائیں، تاکہ آپ کا شِیرخوار ایمان اُس دھارے پر سلامتی کے ساتھ تیر سکے۔جو کچھ آپ کے خدا نے آپ کے لیے کیا ہے اُسے کبھی فراموش نہ کریں؛ اپنی یادداشت کی کتاب کے ورق پلٹیں اور قدیم دنوں پر غور کریں۔ کیا آپ کو کوہِ مصغار یاد نہیں؟ کیا خداوند آپ سے حِرمون پر کبھی نہیں ملا؟ کیا آپ کبھی دلکش پہاڑوں پر نہیں چڑھے؟ کیا ضرورت کے وقت آپ کی کبھی مدد نہیں کی گئی؟ نہیں، میں جانتا ہوں کہ مدد ہمیشہ کی گئی ہے۔پس، ذرا مُڑ کر گزرے کل کی شفقتوں کی طرف ایک بار دیکھیں ، اور اگر اِس وقت سب کچھ تاریک ہو، تو بھی اِس گھنیری تیرگی کے اندر ماضی کے چراغ روشن کریں، وہ اِس تاریکی میں چمکیں گے اور آپ کا توکل اُس وقت تک بنا رہے گا جب تک کہ دِن نہ نکل آئے اور سائے کافور نہ ہو جائیں۔ ’’اے خداوند، اپنی رحمتوں اور شفقتوں کو یاد فرما کیونکہ وہ ازل سے ہیں‘‘ (زبور ۲۵: ۶)۔

رومیوں 3: 31

’’پس کیا ہم شریعت کو ایمان سے باطل کرتے ہیں؟ ہر گز نہیں بلکہ شریعت کو قائم کرتے ہیں۔‘‘
جب ایماندار کو خداوند کے خاندان میں شامل کر لیا جاتا ہے، تو پرانے آدم اور شریعت کے ساتھ اُس کا رشتہ فوراً ختم ہو جاتا ہے؛ لیکن پھر وہ ایک نئے ضابطے اور ایک نئے عہد کے ماتحت ہوتا ہے۔ اے ایماندار، تُو خُدا کا فرزند ہے؛ اپنے آسمانی باپ کی فرمانبرداری کرنا تیرا اولین فریضہ ہے۔ غلامانہ سوچ سے تیرا کوئی واسطہ نہیں کیونکہ تُو غلام نہیں بلکہ بیٹا ہے؛ اور اب، چونکہ تُو ایک عزیز فرزند ہےاِس لئے تُو اپنے باپ کی ادنیٰ سی خواہش اور اس کی مرضی کے معمولی سے اشارے کی بھی تعمیل کرنے کا پابند ہے۔کیا وہ تجھے کسی مقدس دستور کی تعمیل کا حکم دیتا ہے؟ اُس حکم کو نظر انداز کرنا تیرے لیے ہولناک ہے ، کیونکہ اِس سے تُو اپنے باپ کی نافرمانی کا مرتکب ہوگا۔ کیا وہ تجھے یسوعؔ کے ہمشکل بننے کا حکم دیتا ہے؟ کیا ایسا کرنا تیرے لئے خوشی اور افتخار کی بات نہیں ؟ کیا یسوعؔ تجھ سے کہتا ہے کہ، ’’پس چاہئے کہ تُم کامل بنو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے ‘‘؟ پھر اِس لیے نہیں کہ شریعت حکم دیتی ہے، بلکہ اِس لیے کہ تیرا نجات دہندہ تجھے حکم دیتا ہے، تجھے پاکیزگی میں کامل ہونے کے لیے تگ و دو کرنی چاہئے۔ کیا وہ اپنے مقدسوں کو ایک دوسرے سے محبت رکھنے کا حکم دیتا ہے؟ یہ کام اِ س لیے نہ کر کہ شریعت کہتی ہے’’اپنے پڑوسی سے محبت رکھ‘‘، بلکہ اِس لیے کہ یسوعؔ فرماتا ہے، ’’اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے‘‘؛ اور یہ وہ حکم ہے جو اُس نے تجھے دیا ہے کہ ’’ ایک دوسرے سے محبت رکھو‘‘۔ کیا تجھے غریبوں کو دینے کے لیے کہا جاتا ہے؟ یہ کام اِس نیت سے مت کر کہ خیرات کرنے کا حکم ایک بوجھ ہے جس سے تُو جی نہیں چرا سکتا، بلکہ اِس لیے کہ یسوعؔ کی یہ تعلیم ہے کہ، ’’جو کوئی تجھ سے مانگے اُسے دے‘‘۔کیا خُدا کا کلام یہ کہتا ہے کہ، ’’خداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل سے محبت رکھ‘‘؟ اس حکم کی طرف دیکھ اور جواب دے کہ، ’’آہ! یہ حکم، مسیح تو اِسے پہلے ہی پورا کر چکا ہے، اِس لیے مجھے اپنی نجات کے لیے اِسے پورا کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ، بلکہ مَیں خوشی سے اِس حکم کی فرمانبرداری کرتا ہوں کیونکہ اب خُدا میرا باپ ہے اور اُس کا مجھ پر حق ہے جس سے مَیں انکار نہیں کرنا چاہتا‘‘۔روح‌القدس تیرے دِل کو مسیح کی محبت کی مجبور کرنے والی قوت کا فرمانبردار بنائے، تاکہ تیری دُعا یہ ہو کہ، ’’مجھے اپنے فرمان کی راہ پر چلاکیونکہ اِسی میں میری خُوشی ہے‘‘۔ فضل گناہ کا حمایتی نہیں بلکہ پاکیزگی اور راستبازی کا ذریعہ ہے‘‘۔
12