منگل، 13 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

1۔ سلاطین 22: 48

’’یہوسفطؔ نے ترسیس کے جہاز بنائے تاکہ اوفیر کو سونے کے لئے جائیں پر وہ گئے نہیں کیونکہ وہ (جہاز) عصیون جابر ہی میں ٹُوٹ گئے۔‘‘
سلیمانؔ کے جہاز بخیر و عافیت لوٹ آئے تھے، مگر یہوسفطؔ کے جہاز سونے کی سرزمین تک پہنچ ہی نہ سکے۔ ایک ہی کام میں، ایک ہی مقام پر، قدرت ایک کو کامیاب کرتی ہے اور دوسرے کی تدبیر کو ناکام ہونے دیتی ہے، اور اس کے باوجود حاکمِ اعلیٰ یعنی یہوواہ خُدا ہر وقت اپنی حکمت اور مصلحت میں ہمیشہ یکساں رہتا ہے۔ آج ہمیں اس کلام کی یاد میں یہ فضل عطا ہو کہ ہم عصیون جابر میں ٹوٹنے والے جہازوں پر بھی خداوند کو مبارک کہیں، جیسے ہم عارضی برکتوں سے لدے ہوئے جہازوں پر اس کی شکرگزاری کرتے ہیں۔ زیادہ کامیاب لوگوں سے حسد کریں نہ اپنے نقصان پر یوں بڑبڑائیں گویا یہ آزمائش خاص ہم پر ہی نازل ہوئی ۔ اپنی تدبیروں کے ناکامی اور مایوسی پر منتج ہونے کے باوجود ہم یہوسفطؔ کی طرح ، ہم بھی خداوند کی نظر میں بیش قیمت ہو سکتے ہیں۔ یہوسفطؔ کے نقصان کی پوشیدہ وجہ قابلِ غور ہے، کیونکہ یہی خدا کے بہت سے لوگوں کے دُکھوں کی جڑ بنتی ہے، یعنی گنہگار خاندان کے ساتھ اُس کا اتحاد اور خطاکاروں کے ساتھ رفاقت۔ 2۔ تواریخ 37: 20میں بتایا گیا ہے کہ خداوند نے ایک نبی کو بھیجا جس نے اعلان کیا کہ چونکہ تُو نے اخزیاہؔ کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے اس لیے خداوند نے تیرے بنائے ہوئے کاموں کو توڑ دیا ہے۔ یہ باپ کی سی تنبیہ اور تادیب تھی جو بظاہر اس کے لیے باعثِ برکت بنی، کیونکہ ہمارے آج کے متن سے اگلی آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ شریر بادشاہ کے خادموں کے ساتھ اپنے خادموں کو انہی جہازوں میں روانہ کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ کاش یہوسفطؔ کا یہ تجربہ خداوند کے باقی لوگوں کے لیے خبردار ہونے کا سبب بنے کہ بے ایمانوں کے ساتھ ناہموار جُوئے میں نہ جُتیں ۔ عموماً اُن لوگوں کا مقدر رنج و الم کی زندگی بنتا ہے جو ازدواج میں یا کسی اَور اپنی مرضی کے رشتے میں دنیا داروں کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں۔ کاش یسوعؔ کے ساتھ ہماری محبت کا تعلق ایسا گہرا اور مضبوط ہو جائے کہ ہم بھی اس کی مانند پاک، بے ضرر، بے عیب اور گنہگاروں سے جُدا رہیں، کیونکہ اگر ہماری حالت ایسی نہ ہوئی تو ہمیں بارہا یہ سننے کی توقع رکھنی چاہیے کہ خداوند نے تیرے بنے بنائے کام توڑ دئیے ہیں۔

2۔ سلاطین 6: 6

’’لوہا تیرنے لگا۔‘‘
کلہاڑی کا پھل بظاہر ہمیشہ کے لیے کھو گیا تھا، اور چونکہ وہ مانگا ہُوا تھا اس لیے نبیوں کی جماعت کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا، اور یوں اُن کے خُدا کے نام پر بھی حرف آ سکتا تھا۔ مگر انسانی توقع کے برخلاف، خُدا کی قدرت نے لوہے کو پانی کی گہرائی سے اوپر آنے اور تیرنے پر مجبور کر دیا ، کیونکہ جو باتیں اِنسان کے لیے ناممکن ہیں وہ خدا کے لیے ممکن ہیں۔ میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو چند ہی برس پہلے مسیح میں تھا، اور اسے ایک ایسا کام سونپا گیا جو اس کی قوت سے کہیں بڑھ کر تھا۔ یہ کام اتنا دشوار دکھائی دیتا تھا کہ اُسے انجام دینے کا خیال ہی مضحکہ خیز معلوم ہوتا تھا۔ لیکن اُسے بلایا گیا، اور اُس کا ایمان بروقت مضبوط ہُوا اور اُس نے اُس کام کو انجام دینے کی حامی بھر لی۔ خُدا نے اُس کے ایمان کو عزت بخشی، غیر متوقع مدد بھیجی گئی، اور لوہا تیرنے لگا۔خُداوند کے خاندان کے ایک اَور فرد کو سخت مالی تنگی نے آ لیا ۔ اگر وہ اپنی جائیداد کے فقط ایک حصے کو فروخت کر دیتا تو وہ تمام مطالبات بلکہ اُس سے بھی زیادہ ادا کر سکتا تھا، مگر اچانک شدید دباؤ آن پڑا۔ اس نے دوستوں کو ڈھونڈا مگر بے سود۔ تب ایمان اسے اس مددگار کی طرف لے گیا جو کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ دیکھو، مصیبت ٹل گئی، اس کے قدم کشادہ ہو گئے، اور لوہا تیرنے لگا۔ایک تیسرا شخص اپنی گناہ آلود طبیعت کے باعث ایک نہایت دردناک معاملے سے دوچار ہو گیا ۔ اُسے تعلیم دی گئی ، ملامت کی گئی ، خبردار کیاگیا ، دعوت دی گئی ، اور شفاعت تک بھی کی گئی ، مگر سب بے اثر رہا۔ پرانا انسان بہت زور آور تھا، سرکش دل نرم نہ ہوتا تھا۔ پھر دُعا کی شدید تڑپ پیدا ہوئی ، اور تھوڑے ہی عرصے میں آسمان سے مبارک جواب آ گیا۔ سخت دل ٹوٹ گیا، اور لوہا تیرنے لگا۔
عزیز قاری، آپ کس ناامیدی سے دوچار ہیں؟ اِس شام آپ کی زندگی کا بھاری معاملہ کون سا ہے؟ اسے یہاں لے آئیے ! نبیوں کا خدا آج بھی زندہ اور تابندہ ہے، ۔ وہ اپنے مقدسوں کے لئے آج بھی اپنی مدد تیار رکھتا ہے۔ وہ آپ کو کسی برکت سے محروم نہ رہنے دے گا۔ رب الافواج پر ایمان رکھئے۔ یسوعؔ کے نام کا واسطہ دے کر اس کے حضور جائیے ، اور پھر دیکھئے، آپ کا لوہا بھی تیرنے لگے گا۔ آپ بھی خدا کی انگلی کو اپنے لئے عجائبات کرتے دیکھیں گے ۔ آپ کے ایمان کے مطابق آپ کے لئے بھی ہو جائے گا ، اور وہی ڈُوبا ہُوا لوہا ایک بار پھر سے تیرنے لگے گا۔
29