یشوع 5: 12
’’اُس سال اُنہوں نے مُلکِ کنعان کی پیداوار کھائی۔‘‘
اسرائیل کی اعصاب شکن آوارگیاں اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھیں اور موعودہ آرام بھی حاصل ہو چکا تھا۔ خیموں کی نقل مکانی ، جلانے والے سانپ، تند مزاج عمالیقی اور بیابانوں کی آہ و بکا سب موقوف ہو گیا کیونکہ اب وہ اُس سرزمین پر پہنچ چکے تھے جہاں دُودھ اور شہد بہتا تھا، اور اُنہوں نے اُس کی قدیم پیداوار کا پہلا مزہ چکھا۔ عزیز مسیحی قاری، یہی معاملہ اِمسال آپ اور میرے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے۔ یہ منظر کیسا دلنشیں ہے، اور اگر ایمان پوری طرح فعال و مستعد ہو، تو یہ بات ہمارے لئے بے انتہا شادمانی کا باعث بن سکتی ہے۔ ابدی آرام میں یسوعؔ کی رفاقت جو خُد ا کے لوگوں کے لئے ہنوز باقی ہے، ایک پُر مسرت اُمید ، اور اُس ابدی جلال کی عنقریب رونمائی کی صورت میں گویا ہمارے ایک دوگنی سعادت ہے۔ بے ایمانی ہنوز اُس دریائے یردن کے کنارے لرزاں ہے جو ہمارے اور اُس مبارک سرزمین کے درمیان رواں دواں ہے، لیکن آئیے ہم اِس بات پر کامل یقین رکھیں کہ ہم پہلے ہی موت کی ہولناک ترین مصیبتوں سے گزر آئے ہیں۔ اب آئیے ہر ایک خوفناک خیال کو اپنے ذہنوں سے نکال کر، بڑی خوشی اور اِس جلالی اُمید کے ساتھ اِس نئے سال میں داخل ہوں کہ ہم ’’ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے خداوند کے ساتھ رہیں گے‘‘۔
اِس لشکر کا ایک حصہ اِمسال بھی خداوند کی خدمت کے لئے زمین پر ٹھہرا رہے گا۔ اگر ہمارا بھی یہی مقدر ٹھہرا، تو اِس صورت میں بھی نئے سال کی اِس آیت کے صادق نہ ہونے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ ’’ہم جو ایمان لائے اُس آرام میں داخل ہوتے ہیں‘‘۔ روح القدس کی میراث ہمارا حقیقی بخرہ ہے اور وہی ہمیں ’’خُدا کے جلال‘‘ کی اُمید سے ہمکنار کرتا ہے۔ جو ایماندار ہم سے پہلے وہاں جا چکے ہیں وہ محفوظ ہیں، اور اِسی طرح ہم بھی اپنے یسوعؔ مسیح میں محفوظ ہیں۔ وہاں وہ اپنے دشمنوں پر فتح کا جشن مناتے ہیں ، یہاں ہم بھی فتح سے بڑھ کر غلبہ پاتے ہیں۔ آسمانی روحیں خُداوند کی رفاقت میں شادمان ہیں، اور وہی شادمانی ہمارے پاس بھی ہے۔ وہ اُس کی محبت میں آرام پاتے ہیں، اور ہمیں بھی اُسی میں کامل اطمینان حاصل ہوتا ہے، وہ اُس کی حمد میں گاتے ہیں اور یہی استحقاق ہمیں بھی بقدر حاصل ہے۔ اِس سال ہم زمین پر رہتے ہوئے آسمانی پیداوار کھائیں گے جہاں ایمان اور اُمید نے ہمارے بیابان کو باغِ عدن میں بدل دیا ہے۔ قدیم زمانوں میں آدمیوں نے فرشتوں کی غذا کھائی تھی، تو آج کیوں نہیں؟ یسوعؔ کا فضل اور اُس کا کلام ، اِس سال ہمارے لئے ملکِ کنعان کی پیداوار جیسا ہے۔ آئیے اِسے نوش کریں!
غزل الغزلات 1: 4
’’ہم تُجھ میں شادمان اور مسرُور ہوں گی۔‘‘
ہم اپنے خداوند میں شادمان اور مسرور ہوں گے۔ ہم اپنے نئے سال کا دروازہ الغوزے کی غمگین دُھنوں کے ساتھ نہیں بلکہ خوشی کے بربط کی مدُھر تانوں اور مسرت کی بلند آواز جھانجھ کی جھنکار کے ساتھ کھولیں گے۔ ’’آؤ ہم خُداوند کے حضور نغمہ سرائی کریں! اپنی نجات کی چٹان کے سامنے خُوشی سے للکاریں۔‘‘ ہم جو خُدا کے بلائے ہوئے، وفادار اور برگزیدہ لوگ ہیں، اپنے ہر طرح کے غموں کو دُور کر کے اپنے خُدا پر ایمان کا جھنڈا خُوب لہرائیں گے۔ دُنیا اپنی مصیبتوں پر ماتم کرتی ہے تو کرتی رہے ، مگر ہم جو مارہ کے کڑوے پانی کو میٹھا بنا دینے والی صلیب کے ماننے والے ہیں ، اپنے خُداوند میں خوشی مناتے ہوئے اُسکے نام کو اونچا کریں گے۔ اُس ابدی روح کے وسیلہ سے، جو ہمارا سچا مددگار اور ہمارے بدنوں کے مقدِس میں سکونت کرنے والا ہے، ہم یسوعؔ نام کی حمد کرنے اور اُسے مبارک کہنے سے کبھی باز نہ آئیں گے۔ ہم یہ عزم کر چکے، اور اِس پر قائم بھی ہیں کہ ہم اپنی دِلی مُسرت کا تاج یسوعؔ کے سر پر سجائیں گے اور اپنے دُلہا کی حضوری میں ماتم کناں ہو کر اُس کی ہر گز ہر گز تحقیر نہیں کریں گے۔
ہمیں آسمانوں کے خُدا کی تمجید کے لئے مقرر کیا گیا ہے ، تو آؤ ہم نئے یروشلیم کے دربانوں میں پہنچ کر اپنا گیت گانے سے پہلے یہاں پورے طمطراق کے ساتھ اُس کا اعادہ کریں۔ ہم شادمان اور مسرُور ہوں گے ، غور کیجئے کہ یہ دونوں الفاظ ایک ہی معنی رکھتے ہیں یعنی دوگنی خُوشی، برکت پر برکت۔ کیا اب اپنے خُداوند میں شادمان اور مسرُور ہونے پر کوئی قدغن لگانا ضروری ہے؟ کیا فضل کے فرزندوں کے لئے آج بھی اپنے خداوند کی شادمانی میں شریک ہونا خوشبودار ترین بخُور سے بڑھ کر نہیں، تو ذرا سوچیں کہ آسمان پر اِس کی مہکار اَور کتنی زیادہ دلنشیں ہو گی؟ ہم تُجھ میں شادمان اور مسرُور ہوں گے، یہاں مستعمل ترکیب’’تُجھ میں‘‘ اِس روحانی غذا کا حقیقی مرغن، میوے کا اصل مغز اور آیت کی اصل روحِ رواں ہے۔ یسوعؔ میں سارے آسمانوں کی برکات کا خزانہ پوشیدہ ہے! وہ برکتوں کے لامتناہی دریا کا منبع اور اُس کے ہر ایک قطرےمیں شادمانی کو بھرنے والا سرچشمہ ہے! اے پیارے یسوعؔ، تُو جو اپنے لوگوں کا حقیقی بخرہ ہے، ہمارے اِس نئے سال کو اپنی قدرت سے ایسا مالامال کر دے کہ اِس کے پہلے دِن سے آخری دِن تک ہم تُجھ میں شادمان اور مسرُور رہیں۔ کاش کہ اِس جنوری کا آغاز خُداوند میں شادمان ہونے سے اور دسمبر کا اختتام یسوعؔ میں مسرُور ہونے پر ہو۔