اعمال 14: 22
’’ ضرُور ہے کہ ہم بُہت مُصِیبتیں سہہ کر خُدا کی بادشاہی میں داخِل ہوں۔‘‘
خُدا کے لوگوں کو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خُدا نے جب اپنے لوگوں کو چُنا، تو یہ کبھی مقصود نہ تھا کہ وہ ایسے لوگ ہوں جنہیں کبھی آزمایا نہیں جائےگا۔ اُنہیں مصیبت کی بھٹّی میں مقدس کیا گیا اور اُن کا چُناؤ دُنیوی اِطمینان اور زمینی خوشی کے لیے نہیں تھا۔ اُن سے بیماری اور فانی تکلیفوں سے آزادی کا وعدہ کبھی نہیں کیا گیا تھا، بلکہ مصیبتیں تو اُنہیں خداوند کی مزید برکات کے لئے تیار کرنے آتی ہیں اور یا پھر تنبیہ کے طور پر تاکہ وہ پاک ہو کر اپنی الہٰی برکات کے لائق اور وارث بن سکیں۔ چنانچہ، مصیبتیں ہمارے مسیحی ایمان اور مقدر کا حصّہ ہیں کیونکہ وہ مِسیح کی آخری وراثت میں ہمارے لیے پیشتر سے مقرر کر دی گئی تھیں۔ جِس طرح ستارے اُس کے ہاتھوں کی کاریگری ہیں اور اُن کے مدار اُسی کے مقرر کردہ ہیں، اِسی طرح ہماری مصیبتیں بھی ہمارے لیے پہلے سے ٹھہرائی ہوئی ہیں تاکہ ہم کامل کئے جائیں ۔ غرض، خُدا نے اُن کا وقت اور مقام، اُن کی شدّت اور وہ اثر جو وہ ہم پر ڈالیں گی، سب کچھ پہلے سے طے کر رکھا ہے۔ دیندار اور ایماندار لوگوں کو کبھی اپنی مصیبتوں سے بچنے کی اُمید نہیں رکھنی چاہیے ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو مایوس ہوں گے، کیونکہ اُن سے پہلے والوں میں سے بھی کوئی اِن کے بغیر نہیں رہا۔ ایوبؔ کے صبر پر غور کریں۔ ابرہامؔ کو یاد کریں، کیونکہ اُس کی اپنی مصیبتیں تھیں، اور اُن کے دوران اپنے اِیمان کی وجہ سے وہ ’’اِیمانداروں کا باپ‘‘ ٹھہرا۔ تمام بزرگوں، نبیوں، رسولوں اور شہیدوں کی زندگیوں کو غورسے دیکھیں اور آپ کو اُن میں سے ایک بھی ایسا نہیں ملے گا جِسے خدا نے فضل کا برتن بنایا ہو مگر وہ مصیبت کی آگ سے نہ گزرا ہو۔ یہ قدیم زمانے سے مقرر ہے کہ مصیبت کی صلیب فضل کے ہر برتن پر نقش ہونی چاہیے، جیسے وہ شاہی نشان جِس سے بادشاہ کے عزّت والے برتنوں کی پہچان ہوتی ہے۔ لیکن اگرچہ مصیبت خُدا کے فرزندوں کی راہ ہے، اُنہیں یہ جان کر تسلی ملتی ہے کہ اُن کے خداوند نے اُن سے واسطے خود یہ راستہ طے کیا ہے۔ اُن کے پاس ہمّت بڑھانے کے لیے اُس کی حضوری اور ہمدردی ہے، اُنہیں سنبھالنے کے لیے اُس کا فضل ہے، اور اُنہیں صبر سکھانے کے لیے اُس کی مِثال موجود ہے۔ پھر جب وہ ’’بادشاہی‘‘ میں پہنچیں گے، تو وہ اُن ’’بڑی مُصیبتوں‘‘ کا بہترین اجر ثابت ہوگی جِن سے گزر کر وہ اِس میں داخِل ہونے کے لائق ٹھہرے۔
پیدائش 35: 18
’’ اُس نے مَرتے مَرتے اُس کا نام بِنؤنی (دُکھ کا بیٹا ) رکھّا اور مَر گئی پر اُس کے باپ نے اُس کا نام بنِیمین (میرے دہنے ہاتھ کا بیٹا) رکھّا۔
ہر معاملے کا ایک روشن اور ایک تاریک پہلو ہوتا ہے۔ راخلؔ اپنی زچگی کی تکلیف اور موت کے غم میں ڈوبی ہوئی تھی۔ یعقوبؔ نے اگرچہ اپنے بچوں کی ماں کے کھو جانے پر آنسو بہائے، مگر وہ بچے کی پیدائش میں خدا کے فضل کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ ہمارے لیے یہ کتنا ہی اچھا ہے کہ جب ہمارا جسم تو مصیبتوں پر ماتم کرے، مگر ہمارا اِیمان الٰہی وفاداری پر غالب آئے ۔ سمسونؔ کو اپنے ہاتھوں سے ڈھیر کئے ہوئے شیر کے پنجر سے شہد مِلا تھا، اور اگر ہم صحیح طور پر غور کریں تو ہماری مصیبتیں ہمیں بھی ایسا ہی پھل دیں گی۔ طوفانی سمندر اپنی مچھلیوں سے لاکھوں کا پیٹ بھرتا ہے، جنگل بیابان خوبصورت پھولوں سے مہکتاہے، تند و تیز ہوا وبا کو اڑا لے جاتی ہے، اور کڑاکے کی سردی زمین کی مٹی کو نرم کر دیتی ہے۔ سیاہ بادلوں سے روشن قطرے ٹپکتے ہیں، اور سیاہ مٹی سے رنگین پھول کھلتے ہیں۔ برائی کی ہر بات میں بھلائی کا ایک پہلو ضرور پایا جاتا ہے۔افسردہ دِلوں کو یہ خاص مہارت حاصل ہوتی ہے کہ وہ آزمائش کو دیکھنے کے لیے سب سے زیادہ منفی اور نقصان دہ نکتہ تلاش کر لیتے ہیں۔ اگر دُنیا میں صرف ایک ہی دلدل ہو، تو وہ جلد ہی اُس میں گردن تک دھنس جائیں گے، اور اگر صحرا میں صرف ایک ہی شیر ہو، تو وہ اُس کی دھاڑ سن لیں گے۔ ہم سب میں اِس افسوسناک نادانی کی کچھ نہ کچھ رمق ضرور پائی جاتی ہے، اور کبھی کبھی ہم بھی یعقوبؔ کی طرح پکار اٹھتے ہیں کہ ’’یہ سب باتیں میرے خلاف ہیں‘‘۔ اِیمان پر چلنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنا تمام بوجھ خداوند پر ڈال دیا جائے، اور پھر بدترین آفات سے بھی اچھے نتائج کی توقع رکھی جائے۔ جدعونؔ کے سپاہیوں کی طرح، اِیمان اپنے گھڑے توڑنے پر رنجیدہ نہیں ہوتا، بلکہ اِس بات سے خوش ہوتا ہے کہ مشعل کی روشنی مزید تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مصیبت کی سخت سیپی سے تعظیم کا نایاب موتی نکلتا ہے، اور پریشانی کے گہرے سمندر کی غاروں سے تجربے کا قیمتی مونگا برآمد ہوتا ہے۔ جب ہماری خوشحالی کا سیلاب اُتر جاتا ہے، تو ہمیں ریت میں چھپے ہوئے خزانے بھی دکھائی دینے لگتے ہیں ۔ جب اُس کی خوشی کا سورج غروب ہوتا ہے، تو وہ اپنی اُمید کی دوربین آسمان کے ستاروں جیسے وعدوں کی طرف موڑ دیتا ہے۔ جب موت خود سامنے آتی ہے، تو اِیمان قبر سے پرے روزِ قیامت کے جلال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور یوں ہمارا یہی ایمان مرتے ہوئے بنونیؔ کو ہمارا زندہ بنیمِینؔ بنا دیتا ہے۔