جمعہ، 13 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

2۔ سلاطین 7: 3

’’ہم یہاں بیٹھے بیٹھے کیوں مریں؟‘‘
عزیز قاری! یہ چھوٹی سی کتاب بنیادی طور پر اِیمان داروں کی رُوحانی تربیت کے لیے لکھی گئی ہے، لیکن اگر آپ ابھی تک نجات یافتہ نہیں ہیں، تو میرا دِل آپ کے لیے تڑپتا ہے، اور مَیں آپ کے لیے کوئی ایسی بات کہنا چاہتا ہوں جو آپ کے لیے باعثِ برکت ہو۔ اپنی بائبل کھولیں اور سلاطین کی دوسری کتاب میں سے کوڑھیوں کی کہانی پڑھیں، اور اُن کی حالت پر غور کریں جو بالکل آپ کی حالت جیسی تھی۔ اگر آپ وہیں بیٹھے رہے جہاں آپ ہیں، تو آپ ضرُور ہلاک ہو جائیں گےلیکن اگر آپ یسوعؔ کے پاس جاتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ آپ اپنی طبعی موت مریں گے۔ پرانی کہاوت ہے کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے، اور آپ کے معاملے میں یہ سودا کوئی بڑا نہیں۔ اگر آپ مایوسی کی حالت میں یونہی بیٹھے رہے، تو جب تباہی آئے گی تو کوئی آپ پر ترس نہیں کھائے گا، لیکن اگر آپ فضل کی تلاش کرنے کے بعد مریں ، وہ بھی اگر ایسا مُمکن ہُوا تو، پھر آپ سب کی عالمگیر ہمدردی کا مرکز ہوں گے۔ جو لوگ یسوعؔ کی طرف دیکھنے سے اِنکار کرتے ہیں اُن میں سے کوئی نہیں بچتا۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ بہرحال کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو اُس پر اِیمان لا کر بچ گئے ہیں، کیونکہ آپ کے اپنے بعض رفقاء نے بھی یہی فضل پایا ہے، تو پھر آپ کیوں نہیں؟ نینوہ کے لوگوں نے کہا تھا، ’’شاید خُدا رحم کرے ‘‘ ۔ آپ بھی اِسی اُمید پر عمل کریں اور خداوند کی رحمت کو آزما کر دیکھیں۔ ہلاکت اِس قدر بھیانک اور ہولناک ہے کہ اگر تھامنے کے لیے کوئی تِنکا بھی ہو، تو اپنی بقا کی جبلت کے تحت آپ کو اپنا ہاتھ آگے بڑھانا چاہیے۔ مَیں نے اب تک آپ کے اِیمان نہ لانے کی بنیاد پر آپ سے بات کی ہے، لیکن اب مَیں خداوند کی طرف سے آپ کو یقین دِلاتا ہوں کہ اگر آپ اُسے ڈھونڈیں گے تو وہ آپ کو مِل جائے گا۔ یسوعؔ اپنے پاس آنے والے کسی کو بھی اپنی حضوری سے نکال نہیں دیتا۔ اگر آپ اُس پر توکّل کریں گے تو آپ ہلاک نہ ہوں گے، بلکہ اِس کے برعکس، آپ اُس سے کہیں زیادہ قیمتی خزانہ پائیں گے جتنا اُن بے چارے کوڑھیوں نے ملکِ شام کی ویران لشکر گاہ سے اکٹھا کیا تھا۔ خُدا رُوح القدس آپ کو یہ جرأت دے کہ آپ فوراً اُٹھیں ، اور آپ کا اِیمان لانا ہرگز رائیگاں نہ جائے گا۔ جب آپ خُود نجات پا لیں، تو اِس خُوشخبری کو دوسروں تک پہنچائیں۔ خاموش نہ رہیں، پہلے شاہی خاندان یعنی کلیسیا کو بتائیں اور اُن کے ساتھ رفاقت میں شامِل ہوں۔ شہر کے دربان یعنی انجیل کے خادم کو اپنی اِس دریافت کی خبر دیں، اور اُس کے بعد ہر جگہ اِس خُوشخبری کا اعلان کریں۔ میری دُعا ہے کہ آج کا سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے خداوند آپ کو اپنی نجات سے ہمکنار کرے۔

پیدائش 8: 9

’’تب اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُسے لے لیا اور اپنے پاس کشتی میں رکھا۔‘‘
اپنی آوارگیوں سے تھکی ہاری فاختہ آخر کار کشتی کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ وہی اُس کے آرام کی واحد جگہ ہے۔ اپنی بے سُود اُڑان کے بعد وہ اِس قدر بوجھل اور ماندہ ہو چکی تھی کہ گویا وہ راہ میں ہی کہیں گِر جائے گی اور کشتی تک کبھی پہنچ نہیں پائے گی! مگر وہ اپنی جدوجہد جاری رکھتی ہے۔ نوحؔ سارا دِن اپنی فاختہ کی راہ تکتا رہا اور اُسے قبول کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ فاختہ میں بس اِتنی ہی سکت ہے کہ وہ کشتی کے کنارے تک پہنچ سکے۔ وہ مُشکل سے وہاں پہنچ کر اُس پر بیٹھ پاتی ہے اور گِرنے ہی والی ہے کہ نوحؔ اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے اور اُسے کھینچ کر اپنے پاس اندر لے لیتا ہے۔ اِس بات پر غور کیجئے، ’’ اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُسے لے لیا ۔‘‘ وہ خود اُڑ کر اندر نہیں گئی تھی، بلکہ وہ ایسا کرنے کے لیے بہت سہمی ہوئی یا بہت تھکی ہوئی تھی۔ وہ جتنا اُڑ سکتی تھی اُڑتی رہی ، اور پھر نوحؔ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اُسے اپنے پاس اندر کھینچ لیا۔فضل کا یہ عمل اُس بھٹکی ہوئی فاختہ کے لیے دِکھایا گیا، اور اُس کی آوارگی اور بے مُراد لوٹنے پر اُسے جِھڑکا نہ گیا۔ وہ جیسی تھی، ویسی ہی کشتی کے اندر کھینچ لی گئی۔ اے نجات کے طالب و متلاشی گنہگار! تُو بھی اپنے تمام گُناہوں کے ساتھ ویسے ہی قبول کیا جائے گا۔ ’’فقط لوٹ آ‘‘۔ خُدا کے یہ دو الفاظ کس قدر فضل سے بھرے ہیں’’صرف لوٹ آ۔‘‘ کیا اَور کچھ نہیں؟ نہیں، ’’صرف لوٹ آ۔‘‘ اِس بار اُس کے منہ میں زیتون کی ڈالی نہ تھی، اُس کے پاس کچھ بھی نہ تھا سوائے اپنی ذات اور اپنی آوارگیوں کے۔ مگر حُکم صِرف یہی ہے کہ ’’صرف لوٹ آ‘‘، اور وہ لوٹ آتی ہے اور نوحؔ اُسے اندر کھینچ لیتا ہے۔اے بھٹکے ہوئےاور برگشتہ انسان ! اُڑ کر آ۔ اے نڈھال مسافر! خواہ تُو خود کو گُناہ کی کیچڑ کی وجہ سے کوّے کی طرح سیاہ ہی کیوں نہ سمجھتا ہو، پر تُو ہے فاختہ ہی۔ پس واپس آ، اپنے منجی خداوند کے پاس واپس آجا ۔ وہ ہر لمحہ جسے تُو اِنتظار میں ضائع کرتا ہے، تیری بدحالی میں اضافہ ہی کرتا ہے۔ اپنے پَروں کو سنوارنے اور خود کو یسوعؔ کے لائق بنانے کی تیری تمام کوششیں لایعنی ہیں۔ تُو جِیسا بھی ہے، اُس کے پاس آ جا۔ ’’اے برگشتہ اسرائیل لوٹ آ۔‘‘ وہ یہ نہیں کہتا کہ ’’اے توبہ کرنے والے اسرائیل لوٹ آ‘‘ (بلاشبہ ایسی دعوت بھی موجود ہے)، بلکہ وہ کہتا ہے ’’اے برگشتہ‘‘، یعنی اپنی تمام تر برگشتگی کے ساتھ لوٹ آ، لوٹ آ، لوٹ آ! یسوعؔ تیرا منتظر ہے! وہ اپنا ہاتھ بڑھائے گا اور تجھے ’’ اندر کھینچ لے گا‘‘، اپنے پاس، جو تیرا حقیقی اور ابدی گھر ہے۔
19