پیر، 26 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

متی 6: 26

’’تمہارا آسمانی باپ‘‘۔
خدا کے لوگ دوہرے طور پر اُس کے فرزند ہیں؛ وہ تخلیق کے اعتبار سے اُس کی اولاد ہیں اور مسیح میں لے پالک ہونے کے باعث اُس کے بیٹے بیٹیاں ہیں، اِسی لیے انہیں یہ شرف حاصل ہے کہ اُسے ’’اے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے‘‘ کہہ کر پکار سکیں اور یہاں لفظ باپ! کس قدر قیمتی ہے جس میں اختیار اور محبت دونوں پوشیدہ ہیں۔ اِس میں ایک ایسا اختیار پایا جاتا ہے ، ’’اگر مَیں باپ ہوں، تو میری عزت کہاں ہے؟‘‘ اگر تُو بیٹا ہے، تو تیری فرمانبرداری کہاں ہے؟ اِس لفظ میں شفقت اور اختیار کا ایک ایسا حسین امتزاج پایا جاتا ہے ہے جو تجھے بغاوت پر نہیں اُکساتا بلکہ ایک ایسی فرمانبرداری کی مائل کرتا ہے جسے تُو نہایت خوشی اور دلی رغبت کے ساتھ بجا لا سکتا ہے، یہاں تک کہ اگر تُو اُسے روکنا بھی چاہے تو نہ روک سکے۔ وہ فرمانبرداری جو خُدا کے فرزند اُس کے حضور پیش کرتے ہیں، محبت سے لبریز ہونی چاہیے۔ تُو خُدا کی خدمت ایک ایسے غلام کی طرح مت کر جسے اپنے مالک کی خوشنودی کے لئے جبراً سب کچھ کرنا پڑتا ہے بلکہ تُو اُس کے فرمان کی راہ میں اِس لیے دوڑ کیونکہ یہ تیرے باپ کی راہ ہے اور اپنے بدن کو راستبازی کے ہتھیار کے طور پر پیش کر کیونکہ راستبازی ہی تیرے باپ کی مرضی و منشا ہے اور اُس کی مرضی ہی تیری مرضی ہونی چاہیے۔ باپ کے اِس لقب میں شاہانہ صفت محبت کے پردے میں کچھ اس طرح سے پنہاں ہے کہ بادشاہ کے جاہ و جلال کی جگہ اُس کا شفقت سے بھرا چہرہ نظر آتا ہے اور اُس کا عصا کوئی لوہے کا آہنی عصا نہیں بلکہ رحم کی چاندی سے بنا شاہی عصا بن جاتا ہے جو اُسے تھامنے والے فرزند کے لئے اُلفت و محبت کی علامت ہے۔ باپ! اِس میں عزت اور شفقت کے دو پہلو پائے جاتے ہیں۔ باپ کی اپنے بچوں کے لیے محبت کس قدر عظیم ہوتی ہے کہ جو کام دوستی نہیں کر سکتی اور محض ہمدردی سے عمل میں نہیں لا یا جا سکتا، وہ ایک باپ کا دِل اور ہاتھ اپنے بیٹوں کے لیے ضرور کرتا ہے کیونکہ تُو اس کی اولاد ہے اور وہ تجھے برکت دے گا نیز تیری حفاظت کے لئے خود کو زورآور ثابت کرے گا۔ اگر ایک دُنیاوی باپ اپنے بچوں کی ایسی فکر کرتا ہے تو تیرا آسمانی باپ تیری کس قدر زیادہ نگہبانی کرے گا؟ ’’ابّا، اے باپ!‘‘ جو کوئی یہ کہہ سکتا ہے، اُس کا مقام ایسا ہے جو فرشتوں کی پہنچ سے بے حد بلند ہے۔ اِس ایک لفظ ’’باپ‘‘ کی گہرائی میں پورا آسمان چھپا ہے؛ اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جو تیری ضرورت اور تمنا ہو سکتی ہے پھر جب جب تُو اسے ’’باپ‘‘ کہہ کر پکارتا ہے تو تُجھے معلوم ہونا چاہئے کہ تیرے پاس ابد تک کے لیے سب کچھ موجود ہے۔

لوقا 2: 18

’’اور سب سننے والوں نے اِن باتوں پر جو چرواہوں نے اُن سےکہیں تعجب کیا۔‘‘
ہمیں اپنے خُدا کے عظیم عجائبات پر تعجب کرنا کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ پاکیزہ تعجب اور حقیقی پرستش کے درمیان کوئی لکیر کھینچنا بہت مشکل ہے؛ جب روح خدا کے جلال کی عظمت سے مغلوب ہو جاتی ہے تو خواہ وہ گیتوں میں اُس کا اظہار کرےیا نہ کرے یا جھکے ہوئے سر کے ساتھ حلیمی سے دعا میں اپنی آواز بلند کرے یا نہ کرے پھر بھی وہ خاموشی سے سجدۂ تعظیم پیش کر رہی ہوتی ہے اور اسی لیے ہمارے مجسم خدا کی پرستش ’’عجیب‘‘ کے طور پر کی جانی چاہیے کیونکہ یہ بات واقعی حیران کن ہے کہ خُدا نے اپنی گناہ کی گراوٹ میں گِری ہوئی مخلوق یعنی انسان کا خیال کیا اور اُسے ہلاکت کے تازیانے سے پیٹنے کے بجائے خود انسان کا مخلصی دینے والا بننے اور اُس کا فدیہ ادا کرنے کا بیڑا اٹھایا! ہر ایماندار کے لیے مخلصی کا کام سب سے زیادہ حیرت انگیز تب ہوتا ہے جب وہ اُسے اپنی ذات کے تعلق سے دیکھتا ہے کیونکہ یہ واقعی فضل کا ایک معجزہ ہے کہ یسوعؔ نے تیرے لیے نیچے آ کر رسوائی کے ساتھ دُکھ اٹھانے کی خاطر آسمانی تخت و تاج اور شاہی رُتبے کو چھوڑ دیا۔ پس اپنی روح کو اِس تعجب میں کھو جانے دے کیونکہ یہ تعجب ایک بہت ہی گہرا احساس ہے جو تجھے شکر گزاری ، پرستش اور قلبی اطمینان کی طرف لے جائے گا اور تیرے اندر ایک ایسی خداترسی پیدا کرے گا کہ تُو اِس محبت کے خلاف گناہ کرنے سے ڈرے۔ اُس کے پیارے بیٹے کی نعمت میں قادرِ مطلق خدا کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے تُو اپنے پاؤں سے جوتے اتار دے گا کیونکہ جس مقام پر تُو کھڑا ہے وہ مقدس زمین ہے اور اس کے ساتھ ہی تُو ایک شاندار اُمید کی طرف مائل ہوگا کیونکہ اگر یسوعؔ نے تیری خاطر ایسے حیرت انگیز کام کیے ہیں تو تُو محسوس کرے گا کہ آسمان بھی تیری توقع کے لیے کچھ زیادہ بڑا نہیں ہے؛ جس نے ایک بار چرنی اور صلیب پر تعجب کیا ہو وہ اَور کس بات پر حیران ہو سکتا ہے اور نجات دہندہ کو دیکھنے کے بعد بھلا کیا عجیب رہ جاتا ہے؟ اے عزیز قاری، ہو سکتا ہے کہ تُو اپنی زندگی کی خاموشی اور تنہائی کی وجہ سے بیت لحم کے اُن چرواہوں کی پیروی نہ کر سکے جنہوں نے جو کچھ دیکھا اور سنا وہ دوسروں کو بتایا، لیکن تُو کم از کم خدا کے کاموں پر تعجب کر کے اُس کے تخت کے سامنے پرستش کرنے والوں کے کے ساتھ مل کر سجدۂ تعظیم تو پیش کر ہی سکتا ہے۔
19