اتوار، 4 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

2۔ پطرس 18:3

’’ہمارے خداوند اور مُنجی یسوعؔ مسیح کے فضل اور عرفان میں بڑھتے جاؤ‘‘۔
’’فضل میں بڑھتے جاؤ‘‘ اور صرف ایک فضل میں نہیں بلکہ پورے فضل میں۔ فضل کی جڑ یعنی ایمان میں بڑھتے جائیں ۔ خُدا کے وعدوں پر پہلے سے زیادہ مضبوطی کےساتھ ایمان رکھیں ۔ ایمان کو کمال، استقامت اور سادگی میں بڑھنے دیں۔ محبت میں بھی خوب ترقی کریں۔ دعا کریں کہ آپ کی محبت پہلے سے زیادہ بڑی ، گہری اور عملی ہو، یہاں تک کہ آپ کے ہر خیال ، ہر لفظ اور ہر عمل پر اُس کی گہری چھاپ نظر آئے۔ اِسی طرح فروتنی میں بھی بڑھیں۔ کمال عاجزی کے طالب رہیں اوراپنی نیستی کا اقرار کرتے ہوئے ہمیشہ یہی کہیں کہ مَیں کچھ بھی نہیں۔ فروتنی میں نچلے درجوں کی طرف بڑھتے ہوئے، اوپر کے درجوں کی طرف دُعا کے ذریعے خُدا کی زیادہ قربت اور یسوعؔ کے ساتھ گہری رفاقت میں بھی خوب ترقی کریں۔ کاش روح القدس آپ کو اِس قابل بنائے کہ آپ ’’ہمارے خداوند مُنجی کے عرفان میں بڑھتے ‘‘ جائیں۔ جو یسوعؔ کے عرفان میں ترقی نہیں کرتا، وہ اپنے آپ کو ایک بہت بڑی برکت سے محروم رکھتا ہے۔ اُس کا عرفان ’’ہمیشہ کی زندگی ‘‘ ہے اور اُس کے عرفان میں بڑھنے کا مطلب ہے شادمانی میں بڑھنا۔ جو شخص مسیح کو اَور گہرے طور پر جاننے کی آرزو نہیں رکھتا، وہ مسیح کے بارے میں ابھی کچھ نہیں جانتا۔ جو ایک اِس مے کا ذائقہ چکھ لیتا ہے وہ مزید پیاسا ہو جاتا ہے، کیونکہ اگرچہ مسیح کی قربت تسکین بخش ہے تو بھی یہ ایک ایسی تسکین ہے جو پیاس کو بجھاتی نہیں بلکہ اَور بڑھا دیتی ہے۔ اگر آپ یسوعؔ کی محبت سے واقف ہیں ، تو جیسے ہرنی پانی کے نالوں کو ترستی ہے، ویسے ہی آپ بھی اُس کی محبت کے گہرے گھونٹ بھرنے کے لئے ہمہ وقت بیقرار اور بیتاب رہیں گے۔ اگر آپ اُسے اَور بہتر طور پر جاننے کی تمنا نہیں رکھتے، تو آپ کے دِل میں اُس کے لئے محبت ابھی کامل نہیں ہوئی کیونکہ محبت ہمیشہ یہی پکارتی ہے کہ ’’اَور قربت، اَور قربت‘‘۔ مسیح سے جُدائی جہنم ہے مگر یسوعؔ کی قربت بہشت ہے۔ پس یسوعؔ کے عرفان میں ایک درجہ اَور بڑھنے سے کم پر کبھی مطمئن نہ ہوں۔ بڑھتے جائیں اُس کی الہٰی فطرت کے عرفان میں، اُس کے انسانوں کےساتھ تعلق کے عرفان میں، اُس کے کامل کفارے کے عرفان میں، اُس کی صلیبی موت کے عرفان میں، اُس کے جی اُٹھنے کے عرفان میں، اُس کی موجودہ جلالی شفاعت کے عرفان میں اور پھر اُس کی جلالی آمدِ ثانی کے عرفان میں۔ اُس کی صلیب کے قدموں میں ڈیرے ڈال لیں اور اُس کے زخموں کے بھید کو دریافت کریں۔ یسوعؔ کی محبت میں بڑھیں اور اُس کی محبت کے کامل مکاشفے کو مزید گہرے طور پر جانیں کیونکہ فضل میں بڑھنا ہماری روحانی ترقی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

پیدائش 42: 8

’’یُوسُف نے تو اپنے بھائیوں کو پہچان لیا تھا پر اُنہوں نے اُسے نہ پہچانا۔‘‘
آج صبح کے کلام میں ہم نے خُداوند یسوعؔ مسیح کےفضل اور اُس کے عرفان میں بڑھنے کے تعلق سے سیکھا اور اب مناسب یہی ہے کہ آج شام کے کلام میں ہم اِسی سے ملتے جلتے ایک عنوان ’’ہمارے آسمانی یُوسُف کا ہمیں پہچاننا ( یا ہمارے آسمانی یُوسُف کا ہمارے بارے میں عرفان)‘‘ پر غور کریں۔ یہ پہچان انتہائی مبارک اور کامل تھی کیونکہ اُس نے ہمیں اُس وقت پہچانا جب ہمیں اُس کی کوئی پہچان نہ تھی۔ ’’تیری آنکھوں نے میرے بے ترتیب مادے کو دیکھا اور جو ایام میرے لئے مقرر تھے وہ سب تیری کتاب میں لکھے تھے۔‘‘ اِس سے پہلے کہ دُنیا میں ہمارا کوئی وجود ہوتا ، ہم اُس کے دِل میں وجود رکھتے تھے۔ جب ہم اُس کے دشمن ہی تھے، وہ تب بھی ہمیں جانتا تھا، وہ ہماری بدحالی، ہماری دیوانگی اور ہماری بدکرداری کو خوب پہچانتا تھا۔ جب ہم نا اُمیدی کے عالم میں توبہ کے آنسو بہا تےہوئے ، اُسے ایک عادل منصف اور حاکم کے طور پر دیکھ رہے تھے، تب بھی وہ ہمیں اپنے عزیز بھائیوں کے طور پر پہچانتا تھا اور من ہی من میں اُس کا دِل ہمارے لئے بشدت تڑپ رہا تھا۔ وہ اپنے برگزیدوں کے چناؤ میں کبھی خطا نہیں کرتا بلکہ وہ ہمیشہ اُنہیں اپنی لامحدود محبت کے ذریعے جانتا اور پہچانتا ہے۔ ’’خداوند اپنوں کو پہچانتا ہے‘‘ اور یہ بات اُن مسرف بیٹوں پر بھی اُسی قدر صادق آتی ہے جو سؤر چرانے میں مشغول ہیں جتنی اُن فرزندوں پر جو اُس کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھتے ہیں۔ مگر افسوس! ہم اپنے حاکم بھائی کو نہ پہچان سکے اور اِسی عدمِ معرفت نے ہمارے بے شمار گناہوں کو جنمدیا۔ ہم نے اپنے دِلوں کو اُس سے باز رکھا اور اپنی محبت میں اُس کے لئے کوئی جگہ نہ چھوڑی۔ ہم نے اُس پر توکل نہ کیا اور اُس کے کلام کو معتبر نہ جانا۔ ہم نے اُس سے سرکشی کی اور اپنی محبت بھری اطاعت اُسے پیش نہ کی۔ راستبازی کا آفتاب طلوع ہُوا مگر ہم اُسے دیکھ نہ سکے۔ آسمان خُود چل کر دھرتی پر آ گیا ، مگر دھرتی نے اُسے نہ پہچانا۔ خُدا کا شکر ہو کہ ہمارے وہ دِن اب لد گئے، مگر دُکھ کی بات یہ ہے کہ ہم آج بھی یسوعؔ کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں، خاص طور پر اُس تعلق کے بارے میں جو ہمارے اور اُس کے درمیان حقیقی معنوں میں پایا جاتا ہے۔ ہم نے تو بھی اُس کے عرفان کا آغاز ہی کیا ہے مگر وہ ہمیں پورے طور جانتا اور پہچانتا ہے۔ یہ ایک نہایت بابرکت حقیقت ہے کہ یہ عدمِ معرفت اُس کی طرف سے نہیں بلکہ ہماری طرف سے ہے کیونکہ رہی اُس کی بات تو وہ ہمارے ظاہر باطن سے پوری طرح واقف ہے ورنہ ہمارے لئے اُمید باقی نہ رہتی۔ وہ کبھی ہم سے یہ نہیں کہے گا کہ ’’میری تُم سے کبھی واقفیت نہ تھی‘‘ بلکہ وہ اپنے ظہور کے دِن باپ کے سامنے ہمارا نام بنام اقرار کرے گا اور اِس درمیانی عرصہ میں بھی وقتاً فوقتاً وہ اپنے آپ کو ہم پر اِسی طرح ظاہر کرتا رہے گا جس طرح وہ دُنیا پر ظاہر نہیں کرتا۔
31