پیر، 19 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

غزل الغزلات 3: 1

’’مَیں نے اُسے ڈھونڈا پر نہ پایا۔‘‘
مجھے بتائیے کہ آپ نے مسیح کا ساتھ کہاں کھویا ، اور مَیں آپ کو بتا دُوں گا کہ آپ اُسے کہاں پا سکتے ہیں۔ کیا آپ نے خلوت میں دُعا کرنے سے باز رہنے کے باعث مسیح کو کھو دیا؟ تو پھر آپ کو عین اُسی جگہ اُس کے طالب ہونا اور اُسے پانا ہوگا۔ کیا آپ نے گناہ کے باعث مسیح کو کھو دیا؟ تو پھر گناہ کو ترک کیے بغیر اَور کوئی راستہ نہیں، اور پھر روح القدس کی مدد سے اُس عضو کو بھی بیکار کرنا ہوگا جس میں بُری خواہش بسی ہوئی ہے۔ کیا آپ نے کلامِ مقدس کو نظرانداز کر کے مسیح کو کھو دیا؟ تو آپ کو مسیح کلام ہی میں ملے گا۔ یہ ایک سچائی پر مبنی محاورہ ہے کہ ’’جو چیز جہاں گِری ہو اُسے وہیں تلاش کرو، تو وہ تمہیں وہیں مل جائے گا۔‘‘ پس مسیح کو وہیں تلاش کریں جہاں آپ نے اُسے کھویاتھا ، کیونکہ وہاں سے وہ اَور کہیں نہیں گیاہوگا۔لیکن مسیح کے پاس واپس جانا آسان نہیں۔ جان بنینؔ ہمیں بتاتا ہے کہ مسیحی مسافر کے لیے اُس آرام گاہ تک واپس جانے کا راستہ، جہاں اُس نے اپنا طومار کھویا تھا، اپنی پوری مسافرت میں سب سے زیادہ دُشوار ثابت ہوا۔ آگے کی طرف بیس میل چلنا، اپنی کھوئی ہوئی گواہی کے لیے ایک میل پیچھے لوٹنے سے کہیں زیادہ آسان ہوتا ہے۔پس جب آپ اپنے مالک کو پا لیں تو پوری مضبوطی کے ساتھ اُس سے لپٹے رہنا۔ مگر یہ کیسے ہُوا کہ آپ نے اُسے کھو دیا؟ ایسا قیمتی دوست، جس کی حضوری اتنی شیریں، جس کا کلام اتنا تسلی بخش، اور جس کی رفاقت آپ کو اتنی عزیز تھی، اُس سے جدائی کیسے ہو گئی؟ آپ نے ہر لمحہ اُس پر نگاہ کیوں نہ رکھی کہ کہیں وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جائے؟ پھر بھی، چونکہ آپ نے اُسے جانے دیا، یہ بڑے فضل کی بات ہے کہ اب آپ اُسے تلاش کر رہے ہیں ، اگرچہ آپ درد بھرے دل سے یہ فریاد کرتے ہیں کہ ، کاش مجھے معلوم ہوتا کہ وہ مجھے کہاں مل سکتا ہے۔ اپنی تلاش جاری رکھیں ، کیونکہ اپنے خداوند کے بغیر جینا خطرے سے خالی نہیں۔ مسیح کے بغیر آپ اُس بھیڑ کی مانند ہیں جس کا کوئی چرواہا نہ ہو، اُس درخت کی مانند جس کی جڑوں میں پانی نہ ہو، اُس سوکھے پتے کی مانند جو طوفان میں اُڑ رہا ہو، جو زندگی کے درخت میں پیوست نہیں۔ پورے دل سے اُسے تلاش کریں ، اور وہ آپ کو مل جائے گا۔ بس اپنے آپ کو پوری طرح اس جستجو کے حوالے کر دیں، اور یقیناً آپ اُسے پا کر بہت خوش اور شادمان ہوں گے۔

لوقا 24: 45

’’پھر اُس نے اُن کا ذہن کھولا تاکہ کِتابِ مقدس کو سمجھیں۔‘‘
جسے ہم گزشتہ شام کتابِ مقدس کو کھولتے ہوئے دیکھ رہے تھے، یہاں ہم اُسے ذہنوں کو کھولتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ پہلے کام میں اُس کے بہت سے مددگار ہو سکتے ہیں، مگر دوسرے میں وہ اکیلا کھڑا ہے۔ بہت سے لوگ مقدس نوشتوں کو ذہن تک پہنچا سکتے ہیں، لیکن صرف خداوند ہی ذہن کو اِس قابل بنا سکتا ہے کہ وہ اُن نوشتوں کو قبول کرے۔ ہمارا خداوند یسوعؔ مسیح باقی تمام اُستادوں سے مختلف ہے۔ وہ اپنی بات صرف کان تک ہی نہیں پہنچاتا بلکہ دل و دماغ کے اندر جاگزین کر دیتا ہے۔ دوسرے صرف تحریر اور تقریر سے معاملہ رکھتے ہیں، مگر وہ سچائی کا اندرونی ذوق اور شوق عطا کرتا ہے، جس کے ذریعے ہم اُس کی حقیقت اور روح کو پہچاننے کے قابل ہو جاتے ہیں۔فضل کے مکتب میں سب سے اَن پڑھ انسان بھی جید عالم بن جاتا ہے، جب خداوند یسوعؔ روح القدس کے وسیلہ سے بادشاہی کے بھید اُس پر ظاہر کرتا ہے، اور اُسے وہ الٰہی مسح عطا کرتا ہے جس کے باعث وہ اندیکھی چیزوں کو بھی دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اگر ہمارے ذہن کو معلمِ اعظم نے کھولا، صاف اور مضبوط کیا ہےتو ہم کتنے خوش نصیب ہیں ۔ کتنے اصحابِ علم اِن ابدی حقیقتوں سے ناآشنا ہیں۔ وہ تحریری الہام سے تو واقف ہیں ، مگر اُس کی روح کو نہیں پہچانتے۔ اُن کے دِلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے جسے نفسانی عقل کی باتیں ہٹا نہیں سکتیں۔کچھ عرصہ پہلے ہماری حالت بھی ایسی ہی تھی۔ جو اَب دیکھتے ہیں وہ کبھی بالکل اندھے تھے۔ مسیح کی سچائی ہمارے لیے اندھیرے میں نُور کی مانند تھی، جسے دُنیا نے قبول نہ کیا۔ اگر یسوعؔ کی محبت نہ ہوتی تو ہم بھی آج تک سراسر نادانی میں پڑے رہتے، کیونکہ جب تک وہ ہمارے ذہنوں کو نہ کھولتا اُس وقت تک ہم اِس روحانی معرفت تک ایسے نہیں پہنچ سکتے تھے جیسے ایک شِیر خوار بچہ اہرامِ مصر پر چڑھ جائے، یا شُتر مرغ اُڑ کر ستاروں تک پہنچ جائے۔ یسوع کا مکتب ہی وہ واحد جگہ ہے جہاں خدا کی سچائی حقیقی طور پر سیکھی جا سکتی ہے۔ دوسرے مکاتیب ہمیں یہ سکھا سکتے ہیں کہ عقیدہ کیا ہے، مگر صرف مسیح ہی ہمیں یہ دکھا سکتا ہے کہ اِس عقیدے پر ایمان کیسے لاناہے۔ آئیے ہم یسوعؔ کے قدموں میں بیٹھیں، اور پُرجوش دُعا کے ساتھ اُس کی مدد و رہنمائی کے طالب ہوں، تاکہ ہمارے کند ذہنوں میں اُس کے کلام کا نُور چمکے ، اور ہماری کمزور سمجھ آسمانی باتوں کو قبول کرنے کے لائق بن سکے۔
16