یوحنا 18: 8
’’ یِسُوع نے جواب دِیا پس اگر مُجھے ڈُھونڈتے ہو تو اِنہیں جانے دو۔‘‘
اے میری جان! ذرا اُس فکر پر غور کر جِس کا اِظہار یسوعؔ نے اپنی آزمائش کی مشکل گھڑی میں اپنی بھیڑوں کے لیے کِیا! موت کے وقت بھی وہی غالب جذبہ پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ وہ اپنے آپ کو تو دُشمن کے حوالے کر دیتا ہے، لیکن اپنے شاگردوں کو آزاد کرنے کے لیے قدرت کا کلام درمیان میں لاتا ہے۔ جہاں تک اُس کی اپنی ذات کا تعلق ہے، وہ اُس بھیڑ کی مانند ہے جو اپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زبان رہتی ہے اور اپنا مُنہ نہیں کھولتی، لیکن اپنے شاگردوں کی خاطر وہ قادرِ مطلق کی قوت کے ساتھ کلام کرتا ہے۔ یہی وہ مُحبت ہے جو مستقل، خود کو بُھلا دینے والی اور وفادار ہے۔ لیکن کیا یہاں اِس ظاہری مفہوم سے کہیں بڑھ کر کچھ اَور موجود نہیں ہے؟ کیا اِن الفاظ میں ہمیں کفارے کی اصل رُوح نہیں ملتی ؟ اچھا چرواہا بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا ہے، اور اِلتجا کرتا ہے کہ اُس کے بدلے اِنہیں جانے دیا جائے۔ ضامن جکڑا ہوا ہے، اور عدل کا تقاضا ہے کہ جِن کا وہ عوضی بنا ہے، اُنہیں جانے دیا جائے۔مصر کی غلامی کے درمیان، وہ آواز قدرت کے کلام کے طور پر گونجتی ہے کہ ’’ اِنہیں جانے دو۔ ‘‘ گُناہ اور شیطان کی غلامی سے مسح شدہ لوگوں کو باہر آنا ہی ہوتا ہے۔ مایوسی کے قید خانوں کی ہر کوٹھڑی میں اِسی آواز کی گونج سنائی دیتی ہے کہ ’’ اِنہیں جانے دو ‘‘، اور تب ہی بے ہمتی کے مارے اور سہمے ہوئے لوگ باہر نکل آتے ہیں۔ شیطان اِس جانی پہچانی آواز کو سُنتا ہے اور گِرے ہوؤں کی گردن سے اپنا پاؤں اٹھا لیتا ہے۔ موت اِس آواز کو سُنتی ہے، اور اپنے مُردے دے دیتی ہے۔ اُن کا راستہ ترقی، پاکیزگی، فتح اور جلال کا راستہ ہے، اور کوئی بھی اُنہیں روکنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ اُن کی راہ میں کوئی شیر نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی درندہ وہاں چڑھے گا۔ ’’ صبح کی ہرنی ‘‘ (مسیح) نے ظالم شکاریوں کو اپنی طرف مائل کر لیا ہے، اور اب میدان کی نہایت ڈرپوک ہرنیاں اور آہو اُس کی مُحبت کے سوسنوں کے درمیان پُورے اِطمینان سے چر سکتے ہیں۔ گرجدار بادل کلوری کی صلیب پر پھٹ چکا ہے، اور صِیون کے مسافر اب کبھی اِنتقام کی بجلیوں سے ہلاک نہیں ہوں گے۔ آ، اے میرے دِل! اُس مخلصی پر خوشی منا جو تیرے فدیہ دینے والے نے تیرے لیے حاصل کی ہے، اور تمام دِن بلکہ ہر روز اُس کے نام کو مبارک کہہ۔
مرقس 8: 38
’’ اِبنِ آدمؔ بھی جب اپنے باپ کے جلال میں پاک فرِشتوں کے ساتھ آئے گا۔‘‘
اگر ہم یسوعؔ کی شرمندگی میں اُس کے شریک رہے ہیں، تو ہم اُس نُور میں بھی اُس کے ساتھی ہوں گے جو اُس کے جلال میں دوبارہ ظاہر ہونے کے وقت اُس کے گِرد چھایا ہوگا۔ اے میرے عزیز! کیا تُو مسیح یسوعؔ کے ساتھ ہے؟ کیا ایک زندہ تعلق نے تجھے اُس کے ساتھ جوڑ رکھا ہے؟ اگر ایسا ہے، تو آج تُو اُس کی رُسوائی میں اُس کے ساتھ ہےکیونکہ تُو نے اُس کی صلیب اُٹھائی ہے، اور اُس کی ملامت کا ٹوکرہ اپنے سر پر رکھے ہوئے خیمہ گاہ کے باہر اُس کے ساتھ نکل گیا ہے۔ اِس لیے ، بے شک تُو اُس وقت بھی اُس کے ساتھ ہوگا جب صلیب کے بدلے شاہی اور جلالی تاج مِلے گا۔ لیکن آج شام اپنا خود محاسبہ کرکیونکہ اگر تُو نئی پیدائش میں اُس کے ساتھ نہیں ہے، تو تُو اُس وقت بھی اُس کے ساتھ نہ ہوگا جب وہ اپنے جلال میں آئے گا۔ اگر تُو رفاقت کے تاریک پہلو سے خائف ہو کر پیچھے ہٹتا ہے، تو تُو اُس کے روشن اور پُرمسرت دَور کو بھی نہیں پائے گا، جب وہ بادشاہ اپنے پورے جلو کے ساتھ آئے گا اور تمام مُقدّس فرشتے اُس کے ساتھ ہوں گے۔کیا فرشتے اُس کے ساتھ ہیں؟ اور پھر بھی اُس نے فرشتوں کو نہیں اپنایا بلکہ ابرہامؔ کی اولاد کو اپنایا۔ کیا مُقدّس فرشتے اُس کے ساتھ ہیں؟ آ، اے میری جان ! اگر تُو واقعی اُس کی محبوبہ ہے، تو تُو اُس سے دُور نہیں رہ سکتی۔ اگر اُس کے دوستوں اور پڑوسیوں کو اُس کا جلال دیکھنے کے لیے اکٹھا کِیا گیا ہے، تو ذرا سوچ کہ تیرا کیا مقام ہے جب کہ تُو اُس کی منکوحہ دُلہن ہے؟ کیا تُو اُس سے دُور رہے گی؟ اگرچہ وہ عدالت کا دِن ہوگا، پھر بھی تُو اُس دِل سے جُدا نہیں ہو سکتی جِس نے فرشتوں کو تو قربت بخشی ہے، لیکن تجھے اپنے ساتھ ایک کر لیا ہے۔ اے میری جان ! کیا اُس نے تجھ سے یہ نہیں کہا کہ ’’ مَیں تُجھے صداقت اور عدالت اور شفقت و رحمت سے اپنی نامزد کرُوں گا۔‘‘ ؟ کیا اُس کے اپنے ہونٹوں نے یہ نہیں کہا کہ ’’ مَیں تیرا شوہر ہوں اور میری خوشی تجھ میں ہے‘‘؟اگر فرشتے، جو محض دوست اور پڑوسی ہیں، اُس کے ساتھ ہوں گے، تو یقینی بات ہے کہ اُس کی اپنی پیاری ’’ حِفصِیباؔہ‘‘ (سہاگن) جو اُس کی ساری خُوشی کا محور ہے ، اُس کے قریب ہوگی بلکہ اُس کے دہنی ہاتھ بیٹھے گی۔ یہ تیرے لیے اُمید کا ایک ایسا روشن ستارہ ہے، جِس کی چمک تیرے تاریک ترین اور ویران ترین لمحے کو بھی پوری تابانی کے ساتھ منور کر سکتی ہے۔