1۔ سموئیل 13: 20
’’سو سب اسرائیلی اپنی اپنی پھالی اور بھالے اور کلہاڑی اور کدال کو تیز کرانے کے لئے فلستیوں کے پاس جاتے تھے۔‘‘
ہم بدی کے فلستیوں کے ساتھ ایک بڑی جنگ میں مصروف ہیں۔ ہر ہتھیار جو ہماری دسترس میں ہے ، اُسے ہمیں ضرور بروئے کار لانا چاہئےجیسے کہ منادی، تعلیم، دُعا، قربانی وغیرہ نیز وہ توڑے، لیاقتیں اور صلاحیتیں بھی جنہیں خدمت کے لیے معمولی سمجھا جاتا تھا، اب اُنہیں بھی استعمال میں لانا چاہیے جیسے زیرِ نظر آیت میں پھالی، ، بھالے ، کلہاڑی اور کدال وغیرہ جیسے چھوٹے ہتھیار بھی فلستیوں کو ہلاک کرنے میں مفید ثابت ہو تے تھے کیونکہ زیادہ کھردرے اوزار زیادہ سخت ضربیں لگا سکتے ہیں، اور ہلاک کرنے کے لئے ہتھیار یا اوزار کا خوبصورت اور پرکشش ہونا ضروری نہیں بلکہ مؤثر ہونا لازمی ہے۔ وقت کا ہر لمحہ، چاہے وہ موزوں ہو یا نہ ہو؛ قابلیت کا ہر ٹکڑا، چاہے وہ تربیت یافتہ ہو یا غیر تربیت یافتہ؛ ہر موقع، چاہے وہ سازگار ہو یا ناسازگار، اسے استعمال کیا جانا چاہیے، کیونکہ ہمارے دشمن بہت ہیں اور ہماری قوت بہت کم ہے۔ ہمیں اپنے اکثر اوزاروں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے؛ ہمیں سمجھ بوجھ کی تیزی، حکمت، توانائی اور مستعدی کی ضرورت ہے یعنی اگر ایک جملے میں کہیں تو خداوند کے کام کی تیزی کے ساتھ مکمل مطابقت ہونی چاہیے۔ مسیحی کاوشوں کے منتظمین میں عملی عقلِ سلیم بہت نادر و نایاب چیز ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اپنے دشمنوں سے سیکھ سکتے ہیں، اور اس طرح فلستیوں سے اپنے ہتھیار تیز کروا سکتے ہیں۔ آج صبح ، آئیے ہم رُوح القدس کی مدد سے اِس دن کے دوران اپنی مسیحی غیرت و حمیت کو تیز کرنے کے لیے کچھ باتیں سیکھ لیں۔ بے ایمانوں کی توانائی دیکھیں کہ وہ ایک نیا پیروکار بنانے کے لیے کس طرح سمندر اور زمین کے چکر لگاتے ہیں، کیا تمام سرگرمی پر صرف انہی کا حق ہے؟ غیر معبودوں کے عقیدت مندوں پر غور کریں کہ وہ اپنے بتوں کی خدمت میں کیسی تکلیفیں برداشت کرتے ہیں! کیا صرف انہیں ہی صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہئے ؟ تاریکی کے حاکم کا مشاہدہ کریں کہ وہ اپنی کوششوں میں کس قدر مستقل مزاج، اپنی کوششوں میں کتنا بے باک، اپنے منصوبوں میں کتنا دلیر، اپنی سازشوں میں کتنا زیرک ، اور ہر کام میں کتنا متحرک ہے! شیاطین اپنی ناپاک بغاوت میں ایک آدمی کی طرح متحد ہیں، جبکہ ہم یسوعؔ پر ایمان لانے والے خدا کی خدمت کے نام پر دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں، اور شاذ و نادر ہی کبھی اتفاق کے ساتھ کام کرپاتے ہیں۔ کاش کہ ہم شیطان کی اِس انتھک محنت سے نیک سامریوں کی طرح چلنا سیکھ لیں اور یہ دیکھیں کہ ہم دشمن کی تدبیروں سے سیکھ کر کس طرح آپس میں متحد مگر دشمن کے لئے سینہ سپر ہو سکتے ہیں!
افسیوں 3: 8
’’مجھ پر جو سب مقدسوں میں چھوٹے سے چھوٹا ہُوں یہ فضل ہُوا کہ مَیں غیر قوموں کو مسیح کی بے قیاس دولت کی خوشخبری دُوں۔‘‘
پولسؔ رسول نے انجیل کی منادی کو ایک بہت بڑے شرف اور اعزاز کی بات سمجھا۔ اُس نے اپنی بلاہٹ کو کوئی بیگار یا بوجھ نہیں سمجھا، بلکہ وہ دِلی شوق اور خوشی کے ساتھ اِس کام میں شامل ہوا۔ اگرچہ پولسؔ اپنی اِس خدمت کے لیے بہت شکر گزار تھا، لیکن اِس کام میں اُس کی فقید المثال کامیابی نے اُسے مزید عاجز بنا دیا۔ ایک برتن جتنا زیادہ بھرتا ہے، وہ پانی میں اتنا ہی گہرا ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ فارغ بیٹھنے والے لوگ اپنی صلاحیتوں کے بارے میں خوش فہمی کا شکار ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ آزمائے نہیں گئے، لیکن محنتی خادم جلد ہی اپنی کمزوری کو بھانپ لیتا اور فروتن ہو جاتا ہے۔ اگر آپ عاجزی تلاش کرنا چاہتے ہیں، تو سخت محنت کر کے دیکھیں، اگر آپ اپنی بے مائیگی کو جاننا چاہتے ہیں، تو یسوعؔ کے لیے کسی بڑے کام کا بیڑا اُٹھائیں۔ اگر آپ یہ محسوس کرنا چاہتے ہیں کہ زندہ خدا کے بغیر آپ کتنے بے بس ہیں، تو خاص طور پر مسیح کی بے قیاس دولت کی منادی کرنے کی کوشش کریں، اور تب آپ کو پہلے سے کہیں بڑھ کر یہ معلوم ہوگا کہ آپ کس قدر کمزور اور ناچیز ہیں۔ اگرچہ پولسؔ اپنی کمزوری سے بخوبی واقف تھا اور اُس کا اقرار بھی اکثر کرتا رہتا تھا، لیکن وہ اپنی خدمت کے بارے میں کبھی پریشان نہیں ہُوا ۔ اپنی پہلی سے لے کر آخری منادی تک، پولسؔ نے صرف مسیح کی منادی کی، اور مسیح کے سوا کچھ نہیں بیان کیا۔ اُس نے صلیب کو سر بلند کیا، اور خُدا کے اُس بیٹے کی ہر قدم پر بڑائی بیان کی جس نے اُس کی خاطر لہو بہایا تھا۔ نجات کی خوشخبری پھیلانے کی اپنی تمام انفرادی و اجتماعی کوششوں میں اُس کی مثال ہمارے لئے قابلِ تقلید ہے ، اور ہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی ’’مسیحِ مصلوب ‘‘ کو اپنا دائمی موضوع بنا لیں۔ ایک مسیحی کو بہار کے اُن خوبصورت پھولوں کی طرح ہونا چاہیے جو سورج کے چمکنے پر اپنی سنہری پنکھڑیاں کھول دیتے ہیں، گویا کہہ رہے ہوں کہ ’’ہمیں اپنی کرنوں سے بھر دے!‘‘لیکن جب سورج بادلوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے، تو وہ اپنی وہی پنکھڑیاں بند کر کے اپنے سر جھکا لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک مسیحی کو بھی یسوعؔ ، جو آفتابِ صداقت ہے، کی روشنی سے خود کو منور اور سرگرم کرنا چاہئے! صرف مسیح کے بارے میں کلام کرنا ہی وہ موضوع ہے جو بونے والے کے لیے بیج اور کھانے والے کے لیے روٹی ہے۔ یہی بولنے والے کے لبوں کے لیے دہکتا ہوا کوئلہ اور سننے والے کے دل کو کھولنے والی وہ خاص کنجی ہے جو سب پر غالب آنے اور دِلوں کو موہ لینے کی قدرت رکھتی ہے۔