ہفتہ، 3 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

یسعیاہ 49: 8

’’مَیں ۔۔۔ لوگوں کے لئے تُجھے عہد ٹھہراؤں گا۔‘‘
ہر عہد کے جملہ فضائل اور جوہر کا سرچشمہ یسوعؔ مسیح خُود ہے۔ وہی ہر ایماندار کا بخرہ ہے۔ اے ایماندار، کیا تُو اندازہ لگا سکتا ہے کہ مسیح کےوسیلہ سے تُجھ پر کون کون سا فضل کیا گیا ہے؟ ’’الوہیت کی ساری معموری اُسی میں مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے‘‘۔ ذرا لفظ ’’خُدا‘‘ اور اُس کی لامحدودیت پر غور کر، نیز پھر ’’کامل انسان‘‘ اور اُس کے سارے حُسن و جمال پر توجہ کر کیونکہ وہ سب کچھ جو بطورِ خُدا اور انسان مسیح کے پاس کبھی تھا یا ہو سکتا ہے ، وہ سب فضل کی بخشش کے طور پر تیری دائمی میراث اور تیرے لافانی بخرے کے لئے تیرے کھاتے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہمارا مبارک یسوعؔ ، خُدا کے طور پر ہمہ دان ، ہمہ جا اور قادرِ مطلق ہے۔ کیا یہ امر تیرے سب سے بڑی تسلی اور تشفی کا باعث نہیں کہ یہ سب بڑی بڑی اور جلالی صفات اب سراسر تیری ہیں؟ وہ قدرت والا ہے؟ وہی قدرت اب تیرے پاس بھی ہے تاکہ تُجھے سہارا اور قوت بخشے، تاکہ تُو اپنے دشمنوں پر غالب آئے اور تُجھے آخر تک برداشت کرنے کی ہمت سے مالامال کرے۔ کیا وہ محبت سے بھرا ہے؟ تو دیکھ، اُس کی دِلی محبت کا ایک بھی قطرہ ایسا نہیں جو تیرا نہیں ، تُو اُس کی بیکراں و بے پایاں محبت میں غوطہ زن ہو اور اِس ساری محبت کے بارے میں ببانگِ دُہل بتا کہ ’’یہ میری محبت ہے‘‘۔ کیا وہ انصاف کرنے والا ہے؟ اگرچہ یہ ایک کڑی صفت ہے، مگر وہ بھی تیری ہے کیونکہ وہ اپنے انصاف کے تقاضے کی وجہ سے اپنی اِس خوبی کو بھی فضل کے عہد کی راہ سے تیری اُس موعودہ میراث کے طور پر دیکھتا ہے جو ضرور بالضرور تیرے لئے محفوظ کر دی گئی ہے۔ اور ایک کامل انسان کے طور پر بھی اُس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب تیرا ہے۔ ایک کامل انسان ہونے کے ناطے اُسے خُدا باپ کی خوشنودی حاصل تھی۔ وہ خُدا تعالیٰ کے حضور مقبول ٹھہرا۔ اے ایماندار، مسیح کے لئے خُدا کی قبولیت اب تیری قبولیت ہے کیونکہ جو محبت باپ نے اُس کامل مسیح کے ساتھ روا رکھی ، وہی محبت اب وہ تُجھ سے روا رکھتا ہے۔ جو کچھ مسیح کا ہے وہ سب تیرا ہے۔ وہ کامل راستبازی جسے یسوعؔ نے اپنی بے عیب زندگی کے وسیلہ سے شریعت کو پورا کر کے اپنے لئے ایک اجرِ تعظیم کے طور پر حاصل کیا، اب تیری ہے اور تیرے کھاتے میں ڈال دی گئی ہے۔ اِس عہد میں مسیح ہے۔
اے میرے خُدا، مَیں ہوں تیرا سدا ، یہ کیسی تسلی کی بات ہے !
میری یہ زندگی، جو مسیح میں ملی، اُس منجی کی دی ہوئی سوغات ہے !
آسمانی برّے ، اے خداوند میرے، یہ تیرے لہو کا کمال ہے
ملی ہے زندگی، وہ تیری مخلصی، جو میری گناہ سےنجات ہے

لوقا 3 :4

’’بیابان میں پُکارنے والے کی آواز آتی ہے کہ خُداوند کی راہ تیار کرو۔‘‘
بیابان میں پکارنے والے کی آواز خُداوند کے لئے ایک راہ، ایک تیار راہ، اور بیابان میں ایک تیار راہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ مَیں اِس مالک کے پیامبر کا پیغام سُنوں گا، اور اُس کے واسطے اپنے دِل کی راہ تیار کروں گا، تاکہ وہ میرے دِل میں آئے اور میری زندگی پر بادشاہی کرے۔ اِس آیت کی چار باتیں میرے لئے نہایت غور طلب ہیں۔ ہر ایک گھاٹی بھر دی جائے۔ دُنیاداری کے خیالات نیچے اور خُدا کے خیالات اونچے کئے جائیں۔ شک اور مایوسی جاتی رہے۔ خُود پرستی اور نفسانی خواہشیں موقوف ہو جائیں۔ اور اِن سب کے بیچوں بیچ فضل کی شاہراہ نمودار ہو۔ ہر ایک پہاڑ اور ٹیلہ نیچا کیا جائے۔ متکبر خُود انحصاری اور شیخی سے بھرپور خود راستی ہموار کی جائے، تاکہ وہ بادشاہ کے بادشاہ کی گزرگاہ ہو۔ اونچے خیالات باندھنے یا اونچی سوچ رکھنے والے گنہگاروں کو الہٰی رفاقت کبھی نصیب نہیں ہوتی۔ خداوند فروتن کی عزت کو بڑھاتا اور دِل سے رجوع لانے والے کے پاس آتا ہے مگر مغرور اُس کی نگاہ میں مکروہ ہیں۔ اے میری جان، روح القدس سے التجا کر کہ وہ تُجھے راہِ مستقیم پر چلنے کی تعلیم دے۔جو ٹیڑھا ہے وہ سیدھا کیا جائے۔ ہر ایک ڈانونڈول زندگی راہِ راست پر چلنے کا فیصلہ کرے اور خُدا پر پُختہ ایمان اور پاکیزگی اُس کا خاصہ ہو۔ سچائی کا خُدا دو دِلوں سے کوئی واقفیت روا نہیں رکھتا۔ اے میری جان، ہوش میں آ اور سب باتوں میں ایمانداری اور سچائی پر قائم رہ تاکہ دِلوں کو پرکھنے اور جانچنے والی خُدا کی نظر میں مقبول ہو۔ ناہموار جگہوں کو ہموار کیا جائے۔ گناہ کے ٹھوکر دِلانے والے پتھر ہٹائے جائیں اور سرکشی کے اونٹ کٹارے اور جھاڑیاں اُکھاڑ دی جائیں۔ تاکہ جب شاہِ عظیم کی سواری گزرے تو اُسے پورے راستے میں کہیں کوئی دلدل اور پتھریلی زمین دکھائی نہ دے۔ کاش آج کی شام، جب میرا فاتح خداوند اپنے پورے جلو میں میرے پاس آئے تو میرے دِل کی راہ کو تیار پائےاور یہ راہ سال کے شروع سے آخر تک اُس کے لئے ہمیشہ کھلی رہے۔
20