اتوار، 8 فروری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

متی 1: 21

’’تُو اُس کا نام یسوعؔ رکھنا۔‘‘
جب کوئی شخص آپ کو پیارا لگتا ہے تو اُس کی خاطر اُس سے وابستہ ہر چیز بھی پیاری لگنے لگتی ہے۔ اسی طرح ، تمام سچے ایمانداروں کی نظر میں خداوند یسوعؔ کی ذات اِس قدر بیش قیمت ہے کہ وہ اُس سے منسوب ہر بات کو انمول اور ہر قیمت سے بالاتر سمجھتے ہیں۔داؤدؔ نے کہا تھا کہ ’’تیرے ہر لباس سے مُر، عُود اور تِج کی خوشبو آتی ہے،‘‘ گویا منجی کی خلعت بھی اُس کی ذات سے منسوب ہونے کی وجہ سے اِتنی خوشبودار ہو گئی کہ وہ اُس کے لئے بھی اپنی محبت کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکا۔ یہ بات یقینی ہے کہ ہر وہ جگہ جہاں اُس نے اپنا قدمِ مبارک رنجہ فرمایا ، ہر وہ لفظ بھی جو اُس کی زبانِ مبارک سے ادا ہُوا، یا ہر وہ خیال بھی جو اُس کے محبت بھرے کلام میں ظاہر ہُوا، وہ ہمارے لیے دُنیا کی ساری دولت سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہی حقیقت مسیح کے ناموں پر بھی صادق آتی ہے کہ اُس سے منسوب سارے نام بھی تما م ایمانداروں کے لئے نہایت شیریں اور عزت و تعظیم کا مقام رکھتے ہیں چاہے اُسے کلیسیا کا شوہر کہا جائے یا اُس کا دُلہا ، اُس کا دوست کہا جائے یا بنایِ عالم سے پیشتر ذبح کیا ہُوا برّہ ، بادشاہ، نبی یا کاہن کہا جائے یا شیلوحؔ، عمانوایل، عجیب ، مشیر اور خُدائے قادر یا کچھ بھی۔ اُس سے منسوب ہر ایک ذاتی و صفی نام و القاب اُس چھتے کی مانند ہے جس سے شیریں اور مقوی شہد ٹپکتا ہے ۔ لیکن اُس سے منسوب سارے ناموں میں سے ایک نام ایسا ہے جو ہر ایماندار کے کانوں میں گویا رس گھولتا ہے تو وہ یسوعؔ نام ہے ! یسوعؔ وہ نام ہے جسے سُن کر آسمانی بربطیں ایک جلالی جلترنگ کے انداز میں نغمہ سرائی کرنے لگتی ہیں اور تمام مخلوقات سجدہ ریز ہو کر کورنش بجا لاتی ہیں۔ یہی نام ہماری تمام خوشیوں کی حیات ہے۔ اِس سے بڑھ کر دُنیا میں اَور کوئی نام دلکش اور قیمتی نہیں ہے ۔ ۔ ہماری حمد و ثنا کے تانے بانے اِسی نام سے مرصع و مسجع ہیں کیونکہ ہمارے بہت سے گیت اِسی نام سے شروع ہوتے ، اِسی نام پر مبنی ہوتے اور اِسی نام کی تمجید میں گائے جاتے ہیں۔ شاید ہی کوئی اچھا گیت ہو جو اِس نام پر ختم نہ ہوتا ہو کیونکہ یہ نام ساری راحتوں کا واحد مجموعہ اور سرچشمہ ہے جسے سُنتے ہی پوری کائنات کھِل اُتھتی ہے ۔ یہ نام اختصار میں چار حروف پر مبنی ہے مگر حقیقت میں ازل سے ابدتک کے سارے عالموں سے زیادہ وسیع و بسیط اور عمیق ہے۔ آسمان و زمین کی ساری برکتیں جس اسمِ واحد میں پنہاں ہے، وہ نام یسوعؔ ہے!
؎ مَیں تیرے پیارے نام سے بےحد پیار کرتا ہوں
کہ اِس سے دِل اور جان و روح سرشار کرتا ہوں

متی 1: 21

’’وہی اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دے گا۔‘‘
کچھ لوگوں سے اگر پوچھا جائے کہ وہ نجات سے کیا مُراد لیتے ہیں، تو اُن کا جواب یہ ہوگا کہ ، ’’جہنم سے بچایا جانا اور آسمان پر لے جایا جانا۔‘‘ یہ نجات کا ایک نتیجہ تو ہے، لیکن اِس نعمت میں جو کچھ شامل ہے یہ اُس کا دسواں حصہ بھی نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہمارا خداوند یسوعؔ مسیح اپنے سب لوگوں کو آنے والے غضب سے چھڑاتا ہے؛ وہ اُنہیں اُس ہولناک سزا سے بچاتا ہے جو اُن کے گناہوں کی وجہ سے اُن پر واجب تھی؛ لیکن اُس کی فتح اِس سے کہیں زیادہ کامل اور مکمل ہے۔ وہ اپنے لوگوں کو ’’اُن کے گناہوں سے‘‘ نجات دیتا ہے۔ آہ! ہمارے بدترین دُشمنوں سے کیسی شیریں خلاصی ۔ جہاں مسیح نجات کا کام کر کےاپنے لوگوں کو فتح ، بادشاہی اور ہمیشہ کی زندگی سے ہمکنار کرتا ہے ، وہاں وہ اپنی قدرتِ کاملہ سے شیطان کو بھی تخت و تاراج کرتا ہے۔ کوئی بھی شخص اُس وقت تک حقیقی مسیحی نہیں ہو سکتا جب تک گُناہ اُس کے فانی بدن پر حکومت کرتا رہے۔ ہاں، یہ سچ ہے کہ گُناہ ہمارے جسمانی باطن میں بسا رہتا ہے اور اُس وقت تک ہماری زندگیوں سے دائمی طور پر جُدا نہیں ہوگا جب تک کہ ہماری رُوحیں ابدی جلال میں داخل نہ ہو جائیں۔ مگر یہ کبھی ہم پر غالب نہیں آئے گا۔ غلبے کی جنگ اور کشمکش ہماری جاری رہے گی کیونکہ اُس نئی شریعت اور نئی روح کو مغلوب کرنے کی اپنے تئیں سرتوڑ کوشش کرے گا جو خُدا نے ہمارے باطن میں جاگزین کی ہے ، مگر گناہ سے نجات کی برکت سے گناہ ہم پر کبھی اِس طرح غالب نہیں آئے گا کہ ہمارے پورے وجود کو ایک مطلق العنان بادشاہ کی طرح اپنے قبضے میں لے کر ہماری زندگیوں کا بادشاہ بن جائے۔ بلکہ مسیح ہماری زندگیوں کا مالک اور حقیقی بادشاہ ہے جس نے گناہ کے زور کو توڑ کر ہمیں اپنی نجات سے بہرہ مند کیا ہے۔ یہوواہ کے قبیلے کے اُس ببر نے سانپ کے سر کو کُچل دیا ہے۔ اے مسیحی! اب تُو بتا۔ کیا گناہ تیرے اندر مغلوب ہو چکا ہے؟ اگر تیری زندگی ناپاک ہے تو تیرا دل ہنوز تبدیل نہیں ہُوا، اور اگر تیرا دل تبدیل نہیں ہُوا تو تُو ایک غیر نجات یافتہ شخص ہے۔ اگر منجی نے تجھے پاک نہیں کیا، تجھے نیا نہیں بنایا، تجھے گناہ سے نفرت اور پاکیزگی سے محبت کرنے کی توفیق نہیں بخشی، تو تیرے اندر نجات کا کوئی کام نہیں ہُوا یا اُس کا ثمر پُوری طرح ظاہر نہیں ہُوا۔ وہ فضل جو اِنسان کو دوسروں سے بہتر نہیں بناتا، ایک بے کار اور جعلی چیز ہے۔ مسیح اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں میں نہیں پھنساتا ، بلکہ اُن سے نجات دیتا ہے۔ ’’پاکیزگی کے بغیر کوئی خداوند کو نہ دیکھے گا۔‘‘ ’’جو کوئی خُداوند کا نام لیتا ہے ناراستی سے باز رہے۔ ‘‘ اگر گناہ سے نجات نہ ملے ، تو ہم اُس کے برگزیدوں میں شمار ہونے کی اُمید کیسے رکھ سکتے ہیں۔ اے خداوند، مَیں تجھ سے اپنے ہر گناہ کی معافی مانگتا اور اُس سے نجات کی درخواست کرتا ہوں۔ مجھے توفیق بخش دے کہ مَیں اِس نجات کے لئے عمر بھر اپنے منجی کی شکرگزاری اور تعظیم کر سکوں۔
27