متی 3: 7
’’آنے والا غضب‘‘۔
طوفانِ باد و باراں کے بعد کسی علاقے سے گزرنا کتنا بھلا لگتا ہے کیونکہ بارش تھمنے کے بعد جڑی بوٹیوں کی تازگی کو محسوس کرنا اور اُن قطروں کو دیکھنا کتنا اچھا لگتا ہے جو سورج کی روشنی میں خالص ہیروں کی طرح چمکتے ہیں۔ ایک مسیحی کی حالت بھی ایسی ہی ہے۔ وہ ایک ایسی زمین سے گزر رہا ہے جہاں طوفان اُس کے منجی خداوند یسوعؔ مسیح کے سر پر سے گزر کر ختم ہو چکا ہے، اور اگر غم کے چند قطرے گر بھی رہے ہیں تو اب وہ ابرِ رحمت کے بادلوں سے ٹپک رہے ہیں، اور یسوعؔ اُسے اِس یقین دہانی کے ذریعے حوصلہ دیتا ہے کہ یہ قطرے اُسے برباد کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ لیکن کسی طوفان کو آتے ہوئے دیکھنا کتنا ہولناک ہوتا ہے جیسے طوفان سے پہلے کی نشانیاں دیکھنا یا آسمان کے پرندوں کو دیکھنا کہ وہ ڈر کے مارے کس طرح اپنے پرلٹکائے ہوئے ہیں، مویشیوں کو دیکھنا کہ وہ کس طرح دہشت سے اپنے سر نیہوڑائے ہوئے ہیں، آسمان کا بدلتا رنگ دیکھنا کہ وہ کیسے سیاہ ہو رہا ہے، اور ایک ایسے سورج کو دیکھنا جس کی تابانی کہیں کھو چکی ہے، اور پھر اُس آسمان کو جو انتہائی مشتعل ہو کر گویا تیوریاں چڑھا رہا ہے! کسی سمندری طوفان کے خوفناک آغاز کا انتظار کرنا کتنا ہولناک ہے، جیسے بعض اوقات گرم علاقوں میں ہوتا ہے، اور اِس ہولناک اندیشے کے ساتھ انتظار کرنا کہ کب ہوا طوفانی انداز میں چلے گی، درختوں کو اُن کی جڑوں سے اکھاڑ دے گی، چٹانوں کو اُن کی جگہ سے ہٹا دے گی اور انسان کے تمام رہنے کے ٹھکانوں کو زمین بوس کر دے گی!اور پھر بھی، اے گنہگار! یہ تیری موجودہ حالت ہے۔ ابھی تک آگ کی گرم چنگاریاں نہیں گِریں، لیکن آگ کا طوفان برسنے کو ہے۔ ابھی تو کوئی خوفناک ہوائیں تیرے اِرد گرد نہیں چل رہیں، لیکن خُدا کے غضب کا طوفان اپنا ہولناک سامان جمع کر رہا ہے۔ ابھی تک سیلاب کا پانی رحمت کے طفیل رُکا ہوا ہے، لیکن جلد ہی بند کھول دیے جائیں گے کیونکہ خُدا کی کڑک ابھی اُس کے ذخیرہ خانوں میں ہے، لیکن دیکھو! طوفانِ غضب تیزی سے آ رہا ہے، اور وہ لمحہ کتنا ہولناک ہوگا جب خُدا، انتقام کی خلعت پہنے ہوئے، اپنے قہر میں نکلے گا! اے گنہگار، تُو اپنا سر کہاں، کہاں، کہاں چھپائے گا، یا تُو کدھر بھاگے گا؟ کاش کہ رحمت کا ہاتھ اب تجھے مسیح تک لے جائے! انجیل میں وہ ہاتھ کھلے دِل سے تیرے سامنے پیش کیا گیا ہے کیونکہ اُس کا چھِدا ہُوا پہلو گویا پناہ کی چٹان ہے۔ تُو جانتا ہے کہ تجھے اس کی ضرورت ہے۔ اِس لئے ، اُس پر ایمان لا، اپنے آپ کو اُس کے حوالے اور تابع کر دے، اور پھر وہ غضب تیرے اوپر سے ہمیشہ کے لیے گزر جائے گا۔
یوناہ 1: 3
’’لیکن یوناہؔ خُداوند کے حضور سے ترسیس کو بھاگااور یافا میں پہنچا۔‘‘
خُدا نے یوناہؔ کو نینوہ جا کر کلام سنانے کا حکم دیا لیکن اُسے یہ کام پسند نہ آیا اور وہ اُس سے بچنے کے لیے یافا چلا گیا کیونکہ کبھی کبھی خُدا کے خادم بھی اپنی ذمہ داریوں سے جی چُراتے ہیں لیکن اِس کا نتیجہ کیا نکلا؟ یوناہؔ نے اپنے اِس طرزِ عمل سے کیا کھویا؟ اُس نے خُدا کی حضوری اور اُس کی محبت سے حاصل ہونے والی خوشی کو کھو دیا کیونکہ جب ہم بطورِ ایماندار اپنے خداوند کی خدمت کرتے ہیں تو خُدا ہمارے ساتھ ہوتا ہے اور اگر خُدا ہمارے ساتھ ہو تو پُوری دُنیا بھی ہماری مخالف ہو جائے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ لیکن جیسے ہی ہم پیچھے ہٹتے اور اپنی من مانی کرتے ہیں ہم اُس کشتی کی طرح ہو جاتے ہیں جس کا کوئی ملاح نہ ہو۔ تب ہم بڑے دُکھ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اے خُدا تُو کہاں چلا گیا؟ میں کتنا نادان تھا کہ تیری خدمت سے جی چُرایا اور اِس طرح تیرے چہرے کی تجلّی سے محروم ہو گیا ؟ یہ بہت مہنگی قیمت ہے اِس لیے مجھے واپس اپنی وفاداری کی طرف لوٹنا چاہیے تاکہ میں تیری حضوری سے دوبارہ شادمان ہو سکوں۔ دوسری بات یہ کہ یوناہؔ نے اپنے دِل کا سکون بھی کھو دیا کیونکہ گناہ جلد ہی ایماندار کا اطمینان بھی چھین لیتا ہے ۔ گناہ اُس زہریلے درخت کی طرح ہے جس کے پتوں سے زہریلے قطرے ٹپکتے ہیں جو انجام کار ہماری زندگیوں سے خُدا کی خوشی اور اطمینان کو ختم کر دیتے ہیں۔ یوناہؔ ہر اُس چیز سے محروم ہو گیا جو اُسے کسی اَور صورت میں تسلی دے سکتی تھی ۔ وہ خُدا کی محافظت کے وعدے کا مطالبہ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ خُدا کے بتائے ہوئے راستے پر نہیں تھا ۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اے خُدا میں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اِن مشکلات کا سامنا کر رہا ہوں اِس لیے میری مدد فرما ۔ وہ تو اپنی ہی کرنی کا پھل کاٹ رہا تھا اور اپنی ہی روشوں کا نتیجہ بھگت رہا تھا۔ اے مسیحی ! یوناہؔ والا کام نہ کر ورنہ تجھے بھی غم کی لہروں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ کیونکہ آخر کار تجھے بھی یہ احساس ہوگا کہ خُدا کی مرضی کو پسِ پشت ڈالنا اور اُس کے کام سے بچنے کی کوشش کرنا، اُس کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے کہیں زیادہ مشکل اور ہولناک ہے کیونکہ یوناہ نے اپنا ہی وقت ضائع کیا ۔ بالآخر اُسے جانا ہی پڑا ۔ اِس لیے خدا سے لڑنا بہت دشوار ہے اور ہمیں فوراً اُس کے حکم پر سرِ تسلیم خم کر دینا چاہئے۔ اِسی میں ہماری عافیت اور نجات ہے۔