اتوار، 11 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

لوقا 8: 13

’’۔۔۔ لیکن جڑ نہیں رکھتے۔۔۔‘‘
اے میری جان، اس آیت کی روشنی میں آج صبح اپنے آپ کو پرکھ۔ تُو نے کلام کو خوشی خوشی قبول کیا، تیرے جذبات میں ہلچل پیدا ہوئی اور دل پر ایک نہایت گہرا اثر پڑا، مگر یاد رکھ کہ کان سے سن کر کلام کو قبول کرنا ایک بات ہے اور یسوعؔ مسیح کو اپنے پورے وجود میں سرایت کرنے کا موقع دینا سراسر دوسری بات ہے۔ ایسے سطحی احساسات اکثر ہمارے دل کی باطنی سختی کے باوجود جمع ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے کلام کا بظاہر گہرا اور پختہ اثر ہمیشہ پائیدار ثابت نہیں ہوتا۔ اِس تمثیل میں بیج ایک ایسی زمین پر گرا جس کے نیچے چٹانی پتھروں کی ایک پوری تہہ تھی جس کے اوپر مٹی کی صرف ایک پتلی سی پرت موجود تھی۔ جب بیج نے جڑ پکڑنی چاہی تو نیچے کی سخت پتھریلی زمین نے اس کی نشوونما کو وہیں روک دیا، چنانچہ اس بیج نے اپنی ساری قوت اوپر کی طرف ہری کونپل نکالنے میں صرف کر دی، مگر چونکہ جڑ کے ذریعے نمی اور غذا میسر نہ آ سکی، اس لیے وہ جلد ہی مرجھا گیا۔ کیا یہی حالت میری تو نہیں؟ کیا مَیں نے باطنی حقیقی زندگی کے بغیر صرف ظاہری دینداری کا مظاہرہ تو نہیں کیا؟ اچھی اور صحت مند نشوونما اوپر اور نیچے دونوں سمتوں میں بیک وقت وقوع پذیر ہوتی ہے۔ کیا میں دِلی خلوص، وفاداری اور محبت پر مبنی شخصی تعلق کے ذریعے یسوعؔ میں پیوست ہوں؟ اگر میرا دل فضل کے وسیلہ سے نرم اور زرخیز نہ بنایا جائے تو کلام کا اچھا بیج کچھ عرصے کے لئے تو اُگ سکتا ہے، مگر بالآخر مرجھا جائے گا، کیونکہ وہ ایک سخت، پتھریلی اور غیر مقدس زمین میں ہر گز پھل پھُول نہیں سکتا۔ مجھے ایسی دینداری سے ڈرنا چاہیے جو یوناہؔ کی بیل کی طرح جلدی جلدی اُگ تو آتی ہے مگر دیرپا نہیں ہوتی۔ مجھے یسوعؔ کی پیروی میں چلنے کی قیمت کا سنجیدگی سے تخمینہ لگانا چاہیے، اور سب سے بڑھ کر مجھے اُس کے روح القدس کی قوت کو اپنے اندر محسوس کرنا چاہیے، تب ہی میری روح میں ایسا بیج ہوگا جو ہمیشہ قائم اور باقی رہے۔ اگر میرا دل فطری انسانی حالت کی طرح سخت ہی رہا تو جونہی آزمائش کا سورج اپنی تپش دکھائے گا، اور میرا سخت دل اس حرارت کو اور بھی دو آتشہ بنا دے گا، نتیجتاً میری ساری دینداری بھک سے اُڑ جائے گی اور میری نااُمیدی نہایت ہولناک ہوگی۔ پس اے آسمانی بیج بونے والے ، میرے دِل میں خُوب گہرا ہل چلا، پھر اپنی سچائی کا بیج میری زندگی میں بو ، تاکہ مَیں تیرے لیے وافر اور بابرکت فصل پیدا کر سکوں۔

لوقا 22: 32

’’۔۔۔ مَیں نے تیرے لئے دُعا کی ہے۔۔۔‘‘
ہمارے مخلصی دینے والے خُداوند کی کبھی ختم نہ ہونے والی شفاعت ہمارے لئے کس قدر حوصلہ افزا ہے۔ جب ہم دعا کرتے ہیں تو اُس بھی وہ ہمارے لیے وکالت کرتا ہے، مگر جب ہم دعا نہیں کر رہے ہوتے تب بھی وہ ہماری شفاعت کر رہا ہوتا ہے اور خُود اپنی دعاؤں کے وسیلہ سے ہمیں اُن مخفی خطروں سے محفوظ رکھتا ہے جن سے ہم خود واقف بھی نہیں ہوتے۔ پطرسؔ سے کہے گئے اِن تسلی بخش الفاظ پر غور کیجیے کہ ’’شمعون! شمعون! دیکھ شیطان نے تُم لوگوں کو مانگ لیا کہ گیہوں کی طرح پھٹکے۔‘‘ مگر اس کے بعد کیا کہا گیا؟ یہ نہیں کہا گیا کہ جا اور اپنے لیے دعا کر، اگرچہ یہ بھی ایک اچھی نصیحت ہوتی۔ نہ ہی یہ فرمایا کہ میں تمہیں بیدار رکھوں گا تاکہ تم محفوظ رہو، حالانکہ یہ بھی ایک بڑی نعمت ہوتی۔ مگر فرمایا گیا کہ ’’مَیں نے تیرے لیے دعا کی ہے کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے‘‘۔ ہمیں معلوم بھی نہیں کہ ہم اپنے نجات دہندہ کی دعاؤں کے کتنے مقروض ہیں۔ جب ہم آسمان کی بلندیوں پر پہنچیں گے اور اُس تمام راہ پر نظر ڈالیں گے جس پر خداوند ہمارے خدا نے ہمیں چلایا، تو ہم اُس کی کتنی زیادہ حمد اور تمجید کریں گے جو خُود ابدی تخت کے سامنے کھڑا ہو کر ابلیس کے اُس سارے زور کو بے اثر کرتا رہا جس کی ہمیں خبر بھی نہ تھی۔ ہم اس بات پر اُس کا شکر ادا کریں گے کہ اُس نے کبھی خاموشی اختیار نہ کی بلکہ دن رات اپنے زخمی ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتا اور ہمارے نام اپنے سینہ بند پر اٹھائے رہا۔ شیطان کے ہاتھوں آزمائے جانے سے بہت پہلے ہی یسوعؔ پیش بینی اور پیشقدمی کر کے آسمان پر ہمارے حق میں شفاعتی عرضی پیش کر چکا تھا ، کیونکہ فضل ہمیشہ بدی سے آگے چلتا ہے۔ غور کیجیے کہ یہ نہیں کہا گیا کہ شیطان نے تمہیں حاصل کر لیا ہے بلکہ صرف یہ کہ اُس نے تمہیں مانگ لیا ہے، اور یسوع اُس کی اِس خواہش کو شروع ہی میں روک دیتا ہے۔ یہ بھی نہیں کہا گیا کہ میں دعا کرنا چاہتا تھا بلکہ صاف فرمایا کہ ’’مَیں نے دعا کی ہے‘‘، یعنی الزام لگنے سے پہلے ہی مَیں عدالت میں جا کر تمہارے حق میں شفاعت داخل کرا چکا ہوں۔ اے یسوؔع، یہ ہمارے لیے کس قدر تسلی کی بات ہے کہ تُو ہمارے اندیکھے دشمنوں کے خلاف ہمارے مقدمہ کی وکالت تمام کر چکا ہے ، تُو نے ان کی خفیہ تدبیروں کو ناکام بنا دیا ہے اور ان کے چھپے ہتھکنڈوں اور منصوبوں کو بے نقاب کر دیا ہے ۔ بلاشبہ، یہ بات ہمارے لئے ازحد خوشی، شکرگزاری، امید اور کامل اعتماد کی ایک نہایت مضبوط بنیاد ہے۔
22