زبور 89: 19
’’قوم میں سے ایک کو چُن کر سرفراز کیا ہے۔‘‘
مسیح کو قوم میں سے کیوں چُنا گیا؟ اے میرے دل، تو ہی بول، کیونکہ دِل سے نکلنے والے خیالات ہی بہترین ہوتے ہیں۔ کیا اِس لیے نہیں کہ وہ ایک ہی خون کے بابرکت رشتے کے باعث ہمارا بھائی بن سکے؟ آہ، مسیح اور ایماندار کے درمیان رشتہ کتنا عمیق ہے! ایماندار کہہ سکتا ہے کہ، ’’میرا ایک بھائی آسمان میں رہتا ہے؛ میں شاید غریب ہوں، لیکن میرا بھائی بہت مالدار اور بادشاہ بلکہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے، اور کیا وہ اپنے تخت پر ہوتے ہوئے مجھے محتاج رہنے دے گا؟ ہرگز نہیں! وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے؛ وہ میرا بھائی ہے‘‘۔ اے ایماندار، اس بابرکت خیال کو ہیروں کے ہار کی طرح اپنی یادداشت کے گلے میں پہن لے ؛ اِسے یاد گاری کی انگلی پر سونے کی انگوٹھی کی طرح سجا لے، اور اِسے بادشاہ کی اپنی مہر کے طور پر استعمال کر، تاکہ اپنے ایمان کی عرضیوں پر کامیابی کے اطمینان کی مہر لگا سکے۔ وہ اُس بھائی سے بڑھ کر ہے جو مصیبت کے دِن کے لیے پیدا ہُواہو، اُس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کر۔مسیح کو اپنی اُمت میں سے اِس لیے بھی چُنا گیا تاکہ وہ ہماری ضرورتوں کو جان سکے اور ہمارے ساتھ ہمدردی کر سکے۔ ’’وہ ہر بات میں ہماری طرح آزمایا گیا تو بھی بے گناہ رہا‘‘۔ ہمارے تمام دُکھوں میں ہمیں اُس کی ڈھارس حاصل ہے۔ آزمائش، درد، مایوسی، کمزوری، تھکن، غربت۔ وہ اِن سب کو جانتا ہے، کیونکہ اُس نے اِن سب کو خود محسوس کیا ہے۔ اے مسیحی، اِس بھید کو یاد رکھ اور اِس سے تسلی پا۔ تیرا راستہ کتنا ہی مشکل اور تکلیف دہ کیوں نہ ہو، اِس پر تیرے نجات دہندہ کے قدموں کے نشان موجود ہیں؛ اور جب تُو موت کے سایہ کی تاریک وادی اور یردن کے چڑھتے ہوئے گہرے پانیوں تک پہنچے گا، تو وہاں بھی اِس کے قدموں کے نشان پائے گا۔ ہم جہاں کہیں بھی جائیں، وہ ہماری رہنمائی کرتا ہے؛ ہر وہ بوجھ جو ہمیں اُٹھانا پڑتا ہے، وہ ایک بار عمانوایل کے کندھوں پر بھی دھرا جا چکا ہے۔
؎ وہ راہ میری راہ سے کٹھن تھی اور سیاہ
جب دکھ سہے مسیح نے، تو میں کیوں کروں گلہ؟
حوصلہ رکھیں! اُس بادشاہ کے قدموں نے اُس راستے پر خون کے سرخ نشان چھوڑے ہیں، اور اس خاردار راستے کی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تقدیس کر دی ہے۔
غزل الغزلات1: 4
’’ہم تیرے عشق کا تذکرہ مَے سے زیادہ کریں گی۔‘‘
یسوع ؔاپنے لوگوں کو اپنی محبت کبھی بھولنے نہیں دے گا۔ اگر وہ ساری محبت جو اُنہوں نے اب تک پائی ہے کبھی فراموش ہونے لگے، تو پھر وہ اپنی تازہ محبت کے ساتھ اُن کے ساتھ ملاقات کرنے کے لئے آجائے گا۔ وہ کہتا ہے، ’’کیا تم میری صلیب کو بھول گئےہو؟ مَیں پھر سے تمہیں اُس کی یاد دلاؤں گا؛ کیونکہ مَیں اپنے دسترخوان پر خُود کو تم پر از سر نو ظاہر کروں گا۔ کیا تم وہ سب بھول گئے ہو جو مَیں اُس ازلی مشاورتی مجلس میں تمہارے لیے کیاتھا؟ مَیں تمہیں اُس کی یاد دلاؤں گا، کیونکہ تمہیں ایک مشیر کی ضرورت ہے، اور تم مجھے اپنی پہلی آواز پر تیار پاؤ گے‘‘۔ مائیں اپنے بچوں کو اپنی یاد بھولنے نہیں دیتیں۔ اگر لڑکا آسٹریلیا چلا گیا ہو اور گھر خط نہ لکھے، تو اُس کی ماں لکھتی ہے، ’’کیا میرا بچہ اپنی ماں کو بھول گیا ہے؟‘‘ پھر وہاں سے ایک شیریں خط واپس آتا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ وہ پیار بھری یاد دہانی رائیگاں نہیں گئی۔ یسوعؔ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے، وہ ہم سے کہتا ہے، ’’میری یادگاری کے لیے ایسا ہی کیا کرو‘‘، اور ہمارا جواب ہوتا ہے، ’’ہم تیرے عشق کا تذکرہ مے سے زیادہ کریں گے‘‘۔یعنی ہم تیری محبت اور اس کی بے مثال تاریخ کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ یہ اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ وہ جلال جو دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے باپ کے ساتھ تیرے پاس تھا۔ اے یسوعؔ، ہم تیری اُس ازلی محبت کو یاد کرتے ہیں جب تُو ہمارا ضامن بنا اور ہمیں اپنی منسوبہ کے طور پر اپنا لیا۔ ہم تیری اُس محبت کو یاد کرتے ہیں جس کی بدولت تُو نے ہماری خاطر اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہ کیا ، وہ محبت جو وقت کے پورا ہونے تک اُس قربانی کے خیال میں مگن اور اُس گھڑی کی مشتاق رہی جس کے بارے تیری مقدس کتاب کے طومار میں تیرے حق میں لکھا تھا، ’’دیکھ، میں آتا ہوں‘‘۔اے یسوعؔ، ہم تیری اُس محبت کو یاد کرتے ہیں جو بیت لحم کی چرنی سے لے کر گتسمنی کے باغ تک تیری پاکیزہ زندگی میں ہم پر ظاہر ہوئی۔ ہم گود سے گور تک تیرے نقشِ قدم پر چلیں گے کیونکہ تیرا ہر قول اور فعل تیری محبت سے سرشار تھا اور ہم تیری اِس محبت میں خوشی مناتے ہیں جسے موت بھی ختم نہ کر سکی؛ تیری وہ محبت جو تیرے جی اٹھنے میں ایک مشعل کی طرح روشن ہو کر چمکی۔ ہم محبت کی اِس بھڑکتی ہوئی آگ کو یاد کرتے ہیں جو تجھے تب تک خاموش نہیں رہنے دے گی جب تک تیرے تمام برگزیدہ لوگ سلامتی سے اپنے اپنے مکانوں میں نہ پہنچ جائیں، جب تک صیون جلال نہ پائے، اور یروشلیم آسمان پر روشنی اور محبت کی اپنی ابدی بنیادوں پر قائم نہ ہو جائے۔