منگل، 24 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن
ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

عبرانیوں 5: 7

’’ خُدا ترسی کے سبب سے اُس کی سُنی گئی۔‘‘
کیا یہ خُدا ترسی اِس اندیشے سے پیدا ہوئی تھی کہ اُسے صلیب پر کیوں مکمل طور پر چھوڑ دیا گیا ؟ آزمائشیں تو اِس سے بھی کئی گُنا سخت ہو سکتی ہیں، لیکن یقیناً مکمل طور پر تنہا چھوڑ دیا جانا بدترین آزمائشوں میں سے ایک ہے۔ شیطان نے کہا ہو گا کہ ’’ دیکھ، اب تیرا کہیں کوئی دوست نہیں رہا! تیرے باپ نے بھی تیرے لیے اپنی پدرانہ شفقت کے دروازے بند کر لیے ہیں۔ اُس کی بارگاہ سے کوئی فرشتہ تیری مدد کے لیے اب نہیں آئے گا۔ سارا آسمان تجھ سے بیگانہ ہو گیا ہے اور اب تُو اکیلا اور میرے رحم و کرم پر ہے۔ اُن ساتھیوں کو دیکھ جِن کے ساتھ تُو میٹھی میٹھی باتیں کِیا کرتا تھا، وہ تیرے کس کام کے ہیں؟ اے ابنِ مریمؔ! دیکھ وہاں تیرا بھائی یعقوبؔ، دیکھ وہاں تیرا پیارا شاگرد یوحناؔ، اور تیرا بہادر رسول پطرسؔ، یہ سارے بزدل کیسے خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اور اِدھر تُو اپنے دُکھوں سے نڈھال ہے! دیکھ! زمین یا آسمان پر تیرا کوئی دوست باقی نہیں رہا۔ سارا جہنم تیرے خلاف ہے۔ مَیں نے اپنی شیطانی قوتوں کو متحرک کر دیا ہے۔ مَیں نے سارے علاقوں میں اپنے پیغام رساں بھیج کر تاریکی کے ہر ایک حاکم کو طلب کر لیا ہے کہ آج رات تجھ پر دھاوا بول دیں ، اور ہم کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، ہم تجھے مغلوب کرنے کے لیے جہنم کی ساری قوتیں بروئے کار لائیں گے ۔ بتا اب تُو کیا کرے گا، اے تنہا رہ جانے والے؟‘‘ مُمکن ہے کہ یہی وہ آزمائش تھی حالانکہ بتایا گیا ہے کہ ایک فرشتے کا ظاہر ہو کر اُسے تقویت دینا اِس ہولناک کیفیت کو دُور کرنے کا باعث بنا۔ خُدا ترسی کے سبب سے اُس کی سُنی گئی اور اب وہ مزید تنہا نہیں تھا، بلکہ پورا آسمان اُس کے ساتھ تھا۔ مُمکن ہے کہ یہی وجہ ہو کہ وہ تین بار اپنے شاگردوں کے پاس آیا جیسے خُدا کا بندہ ہارٹؔ کہتا ہے کہ،
’’بھاگا وہ آگے پیچھے تین بار،
ڈوبتا جیسے ڈھونڈے تنکے کا سہارا۔ ‘‘
وہ خود دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا واقعی یہ سچ ہے کہ اُسے سب نے یکدم چھوڑ دیا ہے۔ اور پھر واقعی اُس نے اُن سب کو سوتے پایا۔ لیکن شاید اُسے اِس خیال سے کچھ ہلکی سی تسلی مِلی کہ وہ غداری کی وجہ سے نہیں بلکہ انجانے کی وجہ سے سو رہے تھے۔ اُس کی اپنی رُوح تو مستعد تھی مگر جسم کمزور پڑتا جا رہا تھا۔ بہرصورت، خُدا ترسی کے سبب سے اُس کی سُنی گئی۔ یسوعؔ کی اُس کے گہرے ترین دُکھ میں سُنی گئی اور اے میری جان ! تیری بھی ضرور سُنی جائے گی۔

لوقا 10: 21

’’ اُسی گھڑی وہ رُوحُ القُدس سے خُوشی میں بھر گیا۔‘‘
ہمارا مُنجی ’’ مردِ غمناک ‘‘ تھا، لیکن ہر صاحبِ شعور اِس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ اپنی رُوح کی گہرائیوں میں وہ پاکیزہ اور آسمانی خوشی کا ایک لازوال خزانہ رکھتا تھا۔ پوری نسلِ انسانی میں ، سے کبھی کوئی ایسا شخص نہیں ہُوا جِس کے پاس ہمارے خداوند یسوعؔ مسیح سے زیادہ گہرا، خالص اور مستقل اِطمینان رہا ہو۔ لکھا ہے کہ ’’ خُدا نے خُوشی کے تیل سے اُس کے ساتھیوں کی بہ نسبت اُسے زیادہ مسح کیا ‘‘۔ اُس کی یہ گہری خُوشی ہم انسانوں کے ساتھ اُس کی عظیم محبت اور شفقت کا شاخسانہ ہے کیونکہ جہاں محبت زیادہ ہو وہاں خوشی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اُس نے کئی خاص موقعوں پر اپنی اِس خوشی کا کھل کر اظہار بھی کیا۔ ’’ اسی گھڑی وہ رُوحُ القُدس سے خُوشی میں بھر گیا اور کہنے لگا اَے باپ آسمان اور زمِین کے خُداوند! مَیں تیری حمد کرتا ہُوں ‘‘۔مسیح کا دِل خُدا کی حمد سے سرشار رہتا تھا اور یہ اُس کی خوشی کا ایک اَور سبب تھا۔ اتنے دُکھوں کے باوجود وہ دوسروں کی حوصلہ افزائی کرتا اور اُن کے دُکھوں کا مداوار کرتا رہا حالانکہ اُس کا اپنا چہرہ بگڑ گیا اور اُس کا سارا حُسن ماند پڑ گیا تو بھی اُس بڑی خوشی کی خاطر جو اُس کی آنکھوں کے سامنے تھی اُس نے یہ سب دُکھ سہا۔ اِس معاملے میں، خداوند یسوعؔ زمین پر موجود اپنی کلیسیا کی ایک مبارک تصویر پیش کرتا ہے۔اِس وقت کلیسیا اپنے خداوند کے ساتھ ایک پُر خار راستے پر رواں دواں ہے جسے کلوری یا صلیب کا راستہ کہا جاتا ہےکیونکہ اُس کے لئے بھی مصیبتیں سہہ کر آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا ضرور ہے۔ صلیب اُٹھانا اُس کا نصب العین ہے، اور اپنے مادر زاد بھائیوں کی طرف سے حقیر سمجھا جانا اور پردیسی شمار کیا جانا اُس کا مقدر ہے۔ مگر پھر بھی کلیسیا کے پاس خوشی کا ایک ایسا چشمہ ہے، جِس سے اُس کے اپنے فرزندوں کے سوا کوئی نہیں آسودہ نہیں ہو سکتا۔ ہمارے یروشلیم کے درمیان مے، تیل اور اناج کے وہ ذخیرے چُھپے ہوئے ہیں جِن پر خُدا کے مُقدّسین ہمیشہ کچھ نہ ہونے کے باوجود پرورش پاتے ہیں، اور ہمارے مُنجی کی طرح، ہمیں بھی وہیں سے حقیقی اور بڑی خوشی کے مواقع میسر آتے ہیں، کیونکہ وہ ’’ یک اَیسا دریا ہے جِس کی شاخوں سے خُدا کے شہر کویعنی حق تعالیٰ کے مُقدّس مسکن کو فرحت
ہوتی ہے‘‘۔اِسی سبب سے، ہم جلاوطن اور پردیسی ہوتے ہوئے بھی ، اپنے بادشاہ میں خوشی مناتے اور اِنتہائی شادمان ہوتے ہیں، بلکہ دِلی مُسرت کے ساتھ اُس کا جھنڈا اُونچا کرتے اور قوموں کے سامنے اُس کی حمد بیان کرتے ہیں۔
44