اتوار، 18 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

عبرانیوں 9:4

’’پس خُدا کی اُمّت کے لئے سبت کا آرام باقی ہے۔‘‘
ایماندار کی حالت آسمان میں اس کی موجودہ حالت سے کتنی مختلف ہو گی۔ یہاں وہ محنت و مشقت کے لیے پیدا ہُوا ہے، مگر اُس لافانی سرزمین پر تھکن کا کوئی نام و نشان نہ ہو گا۔ اپنے مالک کی خدمت کے لئے بے چین، مگر جب اپنی قوت اپنے جوش کے برابر نہیں پاتا تو بے اختیار کہہ اُٹھتا ہے کہ ’’ اے میرے خدا ! مجھے اپنی خدمت کے لائق بنا‘‘۔ اگر وہ پوری مستعدی سے کام کرے تو اُسے بہت کام کرنا پڑتا ہے، جو اُس کی مرضی کے لیے تو زیادہ نہیں مگر اس کی ہمت سے بہت بڑھ کرہے ، یہاں تک کہ وہ پُکار کر کہتا ہے ، ’’مَیں کام سے اُکتا یا تو نہیں مگر تھک ضرور گیا ہوں‘‘۔اے مسیحی، تھکن کا یہ گرم دن ہمیشہ نہیں رہتا۔ سورج غروب ہونے کے قریب ہے، اور وہ ایک ایسے دن کے ساتھ دوبارہ طلوع ہو گا جو تیرے ہر پچھلے دن سے زیادہ روشن ہو گا ۔ وہ ایسی سرزمین ہو گی جہاں لوگ دن رات خدا کی خدمت کرتے اور پھر بھی اپنے کاموں سے آرام پاتے ہیں۔ یہاں آرام ادھورا مگر وہاں کامل ہے۔ یہاں مسیحی ہمیشہ بے قرار اور تہی داماں رہتا ہے کیونکہ اُسے محسوس ہوتا ہے کہ اتنی محنت کے باوجود وہ ابھی منزل تک نہیں پہنچا۔ وہاں سب آرام میں ہوں گے۔ وہ پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ چکے ہوں گے اور اپنے خدا کی آغوش میں داخل ہو چکے ہوں گے۔ اس سے بلند وہ جا ہی نہیں سکتے۔اے محنت سے چُور مزدور، ذرا سوچ کہ جب تُو ہمیشہ کے آرام میں داخل ہوگا تو وہ منظر کیسا ہو گا! کیا تُو اُس کا تصور کر سکتا ہے؟ وہ ابدی آرام ہو گا، ایسا آرام جو دائمی ہے۔ یہاں میری بہترین خوشیوں پر بھی فنا کی مہر ثبت ہے۔ میرے خوبصورت پھول مرجھا جاتے ، میرے شیریں جام تلچھٹ تک بھر جاتے ، میرے سب سے عزیز پرندے موت کے تیروں سے گر جاتے ، میرے سب سے خوشگوار دن رات میں بدل جاتے ، اور میرے پُر مسرت فراز غم کے نشیبوں میں بدل جاتے ہیں۔ مگر وہاں سب کچھ لافانی ہو گا۔ بربط زنگ آلود نہ ہو گا، تاج مرجھائے گا نہیں، آنکھ دھندلائے گی نہیں، آواز لڑکھڑائے گی نہیں، دل اُچاٹ نہ ہو گا، اور تیرا لافانی وجود پوری طرح بے پایاں سرُور میں ڈوبا ہوگا۔ کیسا مبارک دن! کتنا مبارک سماں! ، جب فنا کو بقا نگل جائے گی اور ابدی سبت کا آغاز ہو گا۔

لوقا 24: 27

’’سب نوشتوں میں جتنی باتیں اُس کے حق میں لکھی ہوئی تھیں وہ اُن کو سمجھا دیں۔‘‘
اماؤس کے راستے پر چلنے والے وہ دونوں شاگرد نہایت بابرکت سفر میں تھے۔ اُن کا ہم سفر زمانوں کا بہترین اُستاد تھا۔ وہ ایک ہزار میں ایک ایسا مفسر تھا جس میں حکمت اور معرفت کے سب خزانے پوشیدہ ہیں۔ خداوند یسوعؔ مسیح نے فروتنی کے ساتھ خُود اپنی خوشخبری سنانے والے کا کردار اختیار کیا، اور دو بندوں کے سامنے بھی خدمت کرنے سے کوئی عار محسوس نہ کی۔ آج بھی وہ اکیلے شخص کا اُستاد بننے سے انکار نہیں کرتا۔ ہمیں ایسے عظیم اُستاد کی رفاقت کے ہمیشہ طالب رہنا چاہیے، کیونکہ جب تک وہ ہمارے لیے الہٰی حکمت کا سرچشمہ بنے ، ہم نجات کی پوری تفہیم کو حاصل نہیں کر سکتے۔اس بیمثال اُستاد نے ایک درسی کتاب کی طرح دُنیا کی بہترین کتاب کو اپنایا۔ اگرچہ وہ نئے مکاشفے اور بھید بھی چاہتا تو ظاہر کر سکتا تھا، مگر اس نے پرانی باتوں کی تشریح کو ترجیح دی۔ وہ اپنی کامل علمیت میں جانتا تھا کہ تعلیم دینے کا سب سے مفید اور مؤثر طریقہ کون سا ہے۔ موسیٰؔ اور نبیوں کی طرف رجوع کر کے اُس نے ہمیں دکھایا کہ حکمت کا سب سے محفوظ راستہ قیاس آرائی، محض عقل آرائی یا انسانی کتابوں کا مطالعہ نہیں بلکہ خدا کے کلام پر غور و فکر ہے۔ آسمانی علم میں روحانی دولت حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ ہیروں کی اِس کان کو کھودا جائے اور اِس آسمانی سمندر سے موتی تلاش کئے جائیں۔ جب خود یسوعؔ نے دوسروں کو مالا مال کرنا چاہا تو اس نے مقدس نوشتوں کا ہی رُخ کیا۔اِن دو شاگردوں کو سب سے اعلیٰ مضمون پر غور کرنے کی رہنمائی دی گئی، کیونکہ یسوع ؔ نے اپنے ہی بارے میں بات کی اور اپنے ہی متعلق بھیدوں کو کھولا۔ یہاں ہیرا ہیرے کو تراش رہا تھا، اور اس سے بڑھ کر خوب صورت بات اَور کیا ہو سکتی ہے! گھر کے مالک نے خود اپنے دروازے کھولے، مہمانوں کو اپنی میز تک لے گیا اور اپنی ہی نعمتیں اُن کے سامنے رکھ دیں۔ جس نے خزانہ کھیت میں چھپایا تھا، اُسی نے تلاش کرنے والوں کی رہنمائی بھی کی۔ ہمارے خداوند نے فطری طور پر سب سے شیریں موضوع پر گفتگو کی، اور اسے اپنی ذات اور اپنے کام سے بڑھ کر کوئی موضوع شیریں نہ ملا۔ ہمیں بھی ہمیشہ کلامِ مقدس کو اِسی نظر سے پڑھنا چاہیے۔ کاش ہمیں یہ فضل حاصل ہو کہ ہم بائبل مقدس کا مطالعہ اِس طرح کریں کہ یسوعؔ ہمارا اُستاد بھی ہو اور ہمارا سبق بھی۔
18