1۔ پطرس 5: 7
’’اپنی ساری فِکر اُسی پر ڈال دو کیونکہ اُس کو تمہاری فکر ہے۔‘‘
اپنے غم سے تسلی پانے کا بھید اِس احساس میں مضمر ہے کہ ’’اُس کومیری فکر ہے‘‘۔ اے مسیحی ! ہر وقت اپنےماتھے پر فکرمندی کی شکنیں سجا کر مسیحیت کی بے قدری مت کر بلکہ آ، اور اپنا بوجھ خُداوند پر ڈال دے۔ تُو ایک ایسے بوجھ تلے لڑکھڑا رہا ہے جو تیرے آسمانی باپ کے سامنے بالکل ہیچ ہے۔ جس بوجھ نے تیری کمر توڑ رکھی ہے ، وہ اُس کے لئے ریت کے ایک معمولی ذرّے کے برابر ہے۔ یہ کیسی مبارک بات ہے کہ ،
؎ ہر بوجھ خُدا کے ہاتھ میں دے دے
اور کہہ دے خوش ہوں تیری رضا میں
اے دُکھ اُٹھانے والے فرزند،برداشت کر کیونکہ خُدا نے تُجھے اپنی نظرِ کرم سے ہر گز اوجھل نہیں کِیا۔وہ جو چڑیوں کا پالن ہار ہے، وہ تجھے بھی تیری ضرورت کی ہر چیز سے آسودہ کرے گا۔ نااُمید ہو کر بیٹھ نہ جا بلکہ اُمید رکھ اور کبھی اُمید کا دامن اپنے ہاتھ سے چھُوٹنے نہ دے۔ مصیبتوں کے طوفان میں اپنے ایمان کے مستول کو تھامے رکھ اور اپنی فکروں کا دلیری سے مقابلہ کر۔ ایک ہے جو تیری فکر کرتا ہے۔ اُس کی نگاہ تُجھ پر ٹِکی ہوئی ہے، اُس کا دِل تیری مصیبت کے مساوی رحم سے بھرا ہے اور اُس قادرِ مطلق کا دہنا تیری بروقت مدد کرے گا۔ مصیبت کا سب سے گھنا بادل بالآخر رحمت کی برکھا بن کر برسے گا۔ افسردگی کی سیاہ چادر صبح صادق کی روشنی کی طرح تیرے جیون کو منور کر دے گی۔ اگر تُو اُس کے گھرانے کا فرد ہے، تو وہ تیری مرہم پٹی کرے گا اور تیرے شکستہ دِل کو شفا بخشے گا۔ اپنی مصیبت کےسبب سے اُس کے فضل پر شک نہ کر بلکہ یقین رکھ کہ وہ تیرے دُکھوں کے ایام میں بھی تُجھ سےاُسی قدر محبت رکھتا ہےجتنی کہ خُوشی کے ایام میں۔ اگر تُو اپنی ہر ایک تدبیر کو خُدا کی قدرتِ کاملہ کے سپرد کرے تو تیری زندگی اطمینان اور آسودگی کا گہوارہ بن جائے گی! کپی میں تھوڑا سا تیل اور مٹکے میں تھوڑا سا آٹا ہونے کے باوجود ایلیاہؔ کال میں بھی جیتا رہا اور تُو بھی جیتا رہے گا! جب خُدا تیری فکر کرتا ہے، تو پھر تُجھے فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا تُو اپنی جان کے معاملے میں تو اُس پر بھروسہ کر سکتا ہے، مگر اپنے جسم کے معاملے میں نہیں؟ اُس نے تیرے بوجھ اُٹھانے سے کبھی انکار نہیں کِیا، اور نہ کبھی اُن کے بھاری وزن تلے نڈھال ہُوا ہے۔ پس، اے میری جان! اپنی فکروں سے پریشان رہنا چھوڑ اور اپنے سب معاملات اُس فضل سے بھرے خُدا کے ہاتھ میں سونپ دے۔
حزقی ایل 33: 22
’’اور شام کے وقت۔۔۔ خُداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا۔‘‘
عین ممکن ہے کہ یہ معاملہ عدالتی تنبیہ کے طور پر واقع ہُوا ہو، اور اگر ایسا ہے تو مجھے چاہئے کہ مَیں اِس تادیب کی وجہ ، اُس عصا نیز اُس کے مقرر کرنے والے پر غور کروں ۔ مَیں اکیلا نہیں ہوں جس کی رات کے وقت تربیت کی جاتی ہے ، پس میں خوش دِلی سے اِس دُکھ کو قبول کروں گا اور پوری احتیاط کے ساتھ یہ بھی کوشش کروں گا کہ اِس سے فائدہ اُٹھاؤں۔ مگر خُداوند کے ہاتھ کو روح کی تقویت اور دِل کو عالمِ بالا کی ابدی چیزوں کی طرف اُٹھانے کے انداز سے بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ کاش میں اِسی اعتبار سے خُداوند کے ہاتھ کو اپنے ساتھ کارفرما محسوس کروں! الہٰی حضوری اور باطنی اطمینان کا احساس میری جان کے لئے گویا عقاب کے پروں پر بیٹھ کر آسمان کی رفعتوں کو چھونے جیسا ہے! ایسے پُرکیف لمحات میں ہم روحانی خُوشی سے لبریز ہو کر زمینی فکروں اور غموں کو بھول جاتے ہیں، ناقابلِ دید حقیقت ہمارے قریب آ جاتی ہے اور قابلِ دید دُنیا ہم پر اپنا زور کھو دیتی ہے، خدمتگذار بدن پہاڑ کے دامن پر انتظار کرتا ہے جبکہ حاکم روح خُداوند کے پہاڑ کی چوٹی پر محوِ پرستش ہو جاتی ہے۔ اےکاش، آج کی شام مجھے اِسی الہٰی رفاقت کا فقط ایک مقدس لمحہ نصیب ہو جائے! خُداوند جانتا ہے کہ مجھے اِس کی اشد ضرورت ہے۔ میرے فضائل مضمحل ہیں اور میری بدعنوانیاں زوروں پر ہیں، میرا ایمان کمزور ہے اور میری عبادت سرد مہری کا شکار ہے؛ یہ تمام حوادث اِس امر کا ثبوت ہیں کہ مجھے اِس شفا بخش ہاتھ کے لمس کی شدید ضرورت ہے۔ اُسی کا ہاتھ میری جلتی پیشانی کی تپش کو ٹھنڈا کر سکتا اور میرے بے ہنگم دھڑکتے ہوئے دِل کو چین دے سکتا ہے۔ وہی جلال والا دہنا ہاتھ جس نے اِس کائنات کو بنایا، میری عقل کو از سر نو تخلیق کر سکتا ہے، وہی انتھک ہاتھ جس نے زمین کے بڑے بڑے ستونوں کو تھام رکھا ہے، میری جان کو برقرار رکھ سکتا ہے، وہی محبت بھرا ہاتھ جس نے کُل مقدسین کواپنی آغوش میں گھیر رکھا ہے میری بھی دستگیری کر سکتا ہے، وہی قوی ہاتھ جو دشمن کو چکنا چُور کر ڈالتا ہے، میرے گناہوں کو زیر کر سکتا ہے۔پھر مَیں کیوں نہ اُمید رکھوں کہ آج کی شام وہ ہاتھ مجھے ضرور چھوئے گا؟ اے میری جان، اپنے خُدا کے حضور اپنا دستِ فریاد بلند کرکے یسوعؔ کے اُنہی ہاتھوں کو اپنی مدد کے لئے پُکار جو تیری مخلصی کے لئے صلیب پر چھیدے گئے کیونکہ تب ہی تُجھے اُس الہٰی ہاتھ کا لمس محسوس ہوگا جس نے کبھی دانی ایلؔ کو چُھوکر اُسے اپنے گھٹنوں پر بیٹھنے کے قابل بنایا تھا تاکہ وہ خُدا کی نبوتی رویاؤں کو دیکھ سکے۔