ہفتہ، 14 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

2۔ تیمتھیس 2: 1

’’تُو اُس فضل سے جو مسیح یسوعؔ میں ہے مضبوط بن۔‘‘
مسیح کی پُرفضل ذات میں فضل کی کوئی حد نہیں، لیکن اُس نے یہ فضل صِرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھّا۔ جِس طرح ایک بڑا حوض پائپوں کے ذریعے خود کو خالی کر دیتا ہے، اِسی طرح مسیح نے اپنا فضل اپنے لوگوں کے لیے ایک فیضِ عام کے طور پر جاری کر رکھا ہے۔ ’’اُسی کی معموری میں سے ہم سب نے پایا یعنی فضل پر فضل۔‘‘ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ صِرف ہمیں عطا کرنے کے لیے ہے۔ وہ ایک ایسے چشمے کی مانند ہے جو ہمیشہ جاری رہتا ہے، لیکن اُس کے بہنے کا مقصد صِرف اُن خالی گھڑوں اور پیاسے لبوں کو سیراب کرنا ہے جو اُس کے قریب آتے ہیں۔ ایک پھلدار درخت کی طرح، وہ شیریں پھلوں سے لدا ہے ، اِس لیے نہیں کہ وہ پھل فقط اُسی کی ٹہنیوں پر ہی لٹکے رہیں، بلکہ اِس لیے کہ حاجت مند جب چاہیں اُنہیں حاصل کرلیں۔ فضل کا کام چاہے معاف کرنا ہو، پاک کرنا ہو، محفوظ رکھنا ہو، تقویت دینا ہو، روشن کرنا ہو، زندہ کرنا ہو یا بحال کرنا، یہ سب کچھ اُس سے ہمیشہ مفت اور بلا قیمت مِل سکتا ہے ۔ اور فضل کے فیض کی کوئی ایسی صورت نہیں جو اُس نے اپنے لوگوں کو عطا نہ کی ہو۔ جِس طرح جسم کا خون اگرچہ دِل سے جاری ہوتا ہے لیکن وہ ہر عُضو تک یکساں پہنچتا ہے، اِسی طرح فضل کی برکات ہر اُس مُقدّس کی مِیراث ہیں جو برّہ کے ساتھ منسلک ہے۔ اور چونکہ مسیح اور اُس کی کلیسیا کے درمیان ایک شیریں رفاقت اور شراکت پائی جاتی ہے اِس لئے یہ فضل دونوں پر یکساں طور پر جاری ہوتا ہے۔ مسیح وہ سَر ہے جِس پر پہلے تیل ڈالا جاتا ہے، لیکن پھر وہی تیل بہتے بہتے پیراہن تک جا پہنچتا ہے، تاکہ ایک معمولی مُقدّس کو بھی اُسی قیمتی تیل کا مسح مِلے جو سر پر ڈالا گیا ۔ حقیقی رفاقت یہی ہے جب فضل کا عرق تنے سے شاخ تک پہنچتا ہے، اور جب یہ اِحساس ہوتا ہے کہ تنے کی اپنی زندگی بھی اُسی غذا پر موقوف ہے جوشاخ کو پالتی ہے۔ جب ہم روز بروز یسوعؔ سے اِس فضل کو حاصل کرتے اور اقرار کرتے ہیں کہ یہ فضل ہم پر اُسی کے طفیل جاری ہوتا ہے، تو پھر ہم اُس کی اَور گہری رفاقت، قربت اور شادمانی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ آئیے ہم فضل کی اِس دولت کو روزانہ اِستعمال میں لائیں، اور اپنے عہد کے خداوند کے پاس ہمیشہ اپنی ضروریات لے کر اِتنی ہی دلیری کے ساتھ جائیں جِتنی دلیری سے اِنسان اپنے بٹوے سے رقم نکالتا ہے۔

2۔ تواریخ 31: 21

’’جس جس کام کو اُس نے اپنے خُدا کا طالب ہونے کے لئے کِیا اُسے اپنے سارے دِل سے کِیا اور کامیاب ہُوا۔‘‘
یہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ اِس اخلاقی کائنات کا عام اصول ہے کہ جو لوگ اپنا کام سارے دِل سے انجام دیتے ہیں وہ ضرور کامیاب ہوتے ہیں جبکہ اُن لوگوں کی ناکامی تقریباً یقینی ہے جو اپنے کام کو بددلی سے انجام دیتے ہیں۔ خُدا سُست لوگوں کو فصلیں نہیں دیتا سِوائے اونٹ کٹاروں کے، اور نہ ہی وہ اُن لوگوں کو دولت عطا کر کے خوش ہوتا ہے جو چُھپے ہوئے خزانے کی تلاش میں کھیت کے اندر کھدائی نہیں کرتے۔ یہ بات ہر جگہ مانی جاتی ہے کہ اگر اِنسان کامیابی چاہتا ہے، تو اُسے اپنے کام کو پوری دلچسپی، سرگرمی اور لگن کے ساتھ انجام دینا چاہیے۔ دینداری کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔ اگر آپ یسوعؔ کے لیے اپنی خدمت میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں، تو اِسے اپنے دِلی شوق اور لگن کے ساتھ اپنے پورے دِل سے انجام دیں۔ اپنی دینداری میں اتنی ہی قوت، توانائی، خلوص اور تندہی صرف کریں جِتنی آپ اپنے کاروبار میں کرتے ہیں، کیونکہ یہ اُس سے کہیں زیادہ کی حق دار ہے۔ خُدا رُوح القُدس ہماری کمزوریوں میں ہماری مدد کرتا ہے، لیکن وہ ہماری سُستی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا بلکہ وہ سرگرم اِیمانداروں سے محبت رکھتا ہے۔مسیحی کلیسیا میں سب سے زیادہ مفید اِنسان کون ہیں؟ وہ لوگ جو خُدا کے لیے جِس کام کا بیڑا اٹھاتے ہیں اُسے اپنے سارے دِل سے انجام دیتے ہیں۔ سب سے کامیاب سنڈے اسکول ٹیچرز کون ہیں؟ کیا سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والے ؟ نہیں، بلکہ وہ جو سب سے زیادہ جوش اور جذبہ رکھتے ہیں یعنی وہ لوگ جِن کے دِل مسیح کے ساتھ عشق کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ہر کام میں اپنے خداوند کو اولین درجہ دیتے ہیں۔ دِل کی پُوری لگن مستقل مزاجی سے ظاہر ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ شروع میں ناکامی ہو، لیکن سرگرم کارکن یہی کہے گا کہ یہ خداوند کا کام ہے، اور اِسے بہر صورت مکمل ہونا چاہیے۔ میرے خداوند نے مجھے یہی کرنے کا حُکم دیا ہے، اور مَیں اُسی کی قوت سے اِسے پایۂ تکمیل تک پہنچا کر رہوں گا۔ اے مسیحی ! کیا تُو اِسی طرح اپنے سارے دِل کے ساتھ اپنے مالک کی خدمت کر رہا ہے؟ یسوعؔ کی جانفشانی کو یاد کیجئے! سوچئے کہ اُس نے دُنیا کی نجات کا کام کس قدر دِلی شوق، لگن اور عقیدت کےساتھ انجام دیا تھا! اِس حد تک کہ اُس نے کہا ’’تیرے گھر کی غیرت مجھے کھا گئی‘‘۔ جب اُس کا پسینہ گویا خُون کی بڑی بڑی بوندیں بن کر ٹپک رہا تھا ، اور پھر جو بھاری صلیب اُس نے اپنے مُقدّس کندھوں پر اُٹھائی۔ اُس نے گویا اپنا دِل اپنی اُمت کی نجات کے لئے اُنڈیل دیا تب جا کر ہماری نجات ممکن ہوئی۔ جب یسوعؔ اپنے کام میں بہ دِل و جان سرگرم تھا، تو ہم نیم گرم کیوں ہیں؟
15