بدھ، 25 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن
ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

لوقا ۲۲: ۴۸

’’ کیا تُو بوسہ لے کر اِبنِ آدمؔ کو پکڑواتا ہے؟‘‘
’’دُشمن کے بوسے بااِفراط ہیں ‘‘۔ جب دُنیا مُحبت کا لبادہ اوڑھے، تو ہمیں چوکنا ہو جانا چاہیے، کیونکہ اگر مُمکن ہوا تو یہ مُجھے بھی ویسے ہی دھوکا دے گی جیسے اِس نے میرے مالک کو ایک بوسے کے ساتھ دھوکا دیا تھا۔ جب بھی کوئی شخص دین پر وار کرنے کے درپے ہوتا ہے، تو وہ عموماً پہلے اِسی طرح کی بڑی عقیدت کا اِظہار کرتا ہے۔ ہمیں اُس چکنی چُپڑی ریاکاری سے بچنا چاہیے جو بدعت اور بے دینی کی علمبردار ہے۔ ناراستی کے فریب کو بھانپتے ہوئے، ہمیں سانپ کی طرح ہوشیار رہنا چاہیے تاکہ دُشمن کی چالوں کو پہچان کر اُن سے بچ سکیں ۔ کتابِ مقدس میں ہمیں ایک ایسے نادان کی مثال بھی ملتی ہے جو ایک اجنبی عورت کے بوسے کی وجہ سے گمراہ ہو گیا تھا۔ کاش آج کے پُورے دِن میں، میری جان کو خُدا کے فضل سے ایسی تربیت مِلے کہ دُنیا کی ’’ چکنی چُپڑی باتوں ‘‘ کا مُجھ پر کوئی اثر نہ ہو۔ اے روح القدس ! مُجھ غریب اور کمزور کو دُنیا کے بوسے کے فریب سے بچا!لیکن کیا ہوگا اگر مَیں ہلاکت کے فرزند یہوداہؔ اسکر یوتی کی طرح اِسی لعنتی گُناہ کا مرتکب ٹھہروں؟ مَیں نے خداوند یسوعؔ کے نام پر بپتسمہ لیا ہے اور مَیں اُس کی ظاہرہ کلیسیا میں شامل بھی ہوں۔ مَیں خدوند کی پاک میز پر بیٹھتا ہوں، یہ سب میرےلئے بوسے ہی تو ہیں۔ کیا مَیں اِن میں مخلص ہوں؟ اگر نہیں، تو مَیں بھی ویسا ہی ایک غدار ہوں۔ کیا مَیں دُنیا میں دُوسروں کی طرح لاپرواہی سے زندگی گزارتا ہوں اور پھر بھی مسیح کا پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں؟ اگر ایسا ہے، تو مَیں مسیحیت کا ازخود تمسخر اُڑاتا ہوں اور لوگوں کو اُس مُقدّس نام کی بدگوئی کرنے کی طرف مائل کرتا ہوں جِس سے مَیں منسوب ہوں۔ یقیناً اگر مَیں اِس طرح کے تضاد کے ساتھ زندگی گزارتا ہوں تو مَیں اُس یہوداہؔ اسکر یوتی سے کم نہیں ، اور ایسی صورت میں میرے لیے یہی بہتر ہوتا کہ مَیں کبھی پیدا ہی نہ ہوتا۔ کیا مَیں یہ اُمید رکھ سکتا ہوں کہ مَیں اِس معاملے میں پاک ہوں؟ تو پھر اے خداوند، مُجھے ایسا بنا دے کہ مَیں اپنے خداوند کے ساتھ کبھی بیوفائی نہ کروں۔ اے خداوند، مُجھے مخلص اور سچا بنا۔ مُجھے ہر جُھوٹی راہ سے محفوظ رکھ۔ مُجھے کبھی اپنے مُنجی سے غداری نہ کرنے دے۔ اے یسوعؔ، مَیں ہرچیز سے بڑھ کر تجھ سے مُحبت رکھتا ہوں، اور اگرچہ مَیں اکثر تجھے دُکھ دیتا ہوں، پھر بھی میری یہی خواہش ہے کہ جان دینے تک وفادار رہوں۔ اے خُدا، ایسا نہ ہو کہ مَیں بلند و بانگ دعوے کرنے والا شاگرد بننے کا اعلان کرنے کے باوجود بالآخر آگ کی جھیل میں جا گروں، کیونکہ مَیں نے بھی کئی بار اپنے مالک کو بوسے کے ساتھ دھوکا دیا تھا۔

یوحنا ۳: ۱۳

’’اِبنِ آدمؔ‘‘۔
ہمارا خُداوند کتنی کثرت سے اپنے لیے ’’ ابنِ آدم ‘‘ کا لقب استعمال کرتا تھا! اگر وہ چاہتا تو وہ ہمیشہ اپنے آپ کو ابنِ خُدا ، عجیب، مشیر، خُدایِ قادر، ابدیت کا باپ، یا سلامتی کا شہزادہ بھی کہہ سکتا تھا۔ لیکن یسوعؔ کی فروتنی دیکھئے! وہ خود کو ابنِ آدم کہنا زیادہ پسند کرتا ہے۔ ہمیں اپنے مُنجی سے عاجزی کا سبق سیکھنا چاہیےاور ہمیں کبھی بڑے القابات ، مناصب یا تکبرانہ ڈگریوں کی خواہش نہیں کرنی چاہیے۔ البتہ ، اِس لقب کے اندر اِس سے بڑھ کر بھی ایک عمدہ خیال پایا جاتا ہے۔ یسوعؔ اِنسانیت سے اِتنی مُحبت کرتا تھا کہ اُسے اِس کی عزت افزائی کر کے خوشی ملتی تھی۔ اور چونکہ یہ ایک بڑا اعزاز ہے، بلکہ اِنسانیت و آدمیت کی سب سے بڑی عظمت ہے کہ یسوعؔ ابنِ آدم ہے، اِسی لیے وہ اکثر اِس نام کا اظہار کرتا ہے تاکہ وہ اِنسانیت کے سینے پر آسمانی ستاروں کے تمغے سجا سکے اور نسلِ ابرہامؔ کے لیے خُدا کی مُحبت کو ظاہر کر سکے۔ ابنِ آدم، جب کبھی اُس نے یہ لفظ کہا، اُس نے آدم کی ساری اولاد کے سَر کے گرد گویا ایک نُورانی ہالہ بکھیر دیا۔پھر بھی شاید ایک اَور اِنتہائی قیمتی خیال باقی ہے۔ یہ نام اُس کی کامل بشریت کا اعلان ہے۔ یسوعؔ مسیح نے اپنے لوگوں کے ساتھ اپنی یگانگت اور ہمدردی کے اظہار کے لیے خود کو ابنِ آدم پکارا۔ اِس طرح وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وہ ایک ایسی ہستی ہے جِس کے پاس پوری نسل ِ آدم بغیر کِسی خوف کے آ سکتی ہیں۔ آدم کی اولاد ہونے کے ناطے ، ہم اپنے سارے دکھ درد اور مصیبتیں اُس کے پاس لا سکتے ہیں، کیونکہ وہ شخصی تجربے سے اُنہیں جانتا ہے۔ چونکہ وہ خود ’’ ابنِ آدم ‘‘ کے طور پر دُکھوں سے گزرا ہے، اِس لیے وہ ہماری مدد اور تسلی پر قادر ہے۔ اے مبارک یسوعؔ، تیری جے ہو! چونکہ تُو ہمیشہ وہ پیارا نام استعمال کرتا ہے جو اِس حقیقت کا غماز ہے کہ تُو ہمارا بھائی اور قریبی رشتہ دار ہے، تیرا یہ نام ہمارے لیے تیرے فضل، تیری عاجزی اور تیری مُحبت کی ایک انمول نشانی ہے۔
ذرا دیکھو، مسیح کی محبت عجیب
کہ وہ ہم سے کرے منسوب خود کو
گویا وہ اپنی مرضی اور خوشی سے
ہمارے ساتھ اپنی پہچان قائم کرنا چاہے بہت!
اپنے نامِ مقدس کو زمیں ساری پر
یونہی سننا اور کہنا پسند ہے اُسے
وہ یقیناً ہمارے جیسا بنا،
کہ اُس میں ہو کر سارے بنی آدم
اُس جیسے ابنِ خُدا بن جائیں!
35