متی 26: 39
’’پھر ذرا آگے بڑھا اور مُنہ کے بل گِر کر ۔۔۔دُعا کی۔‘‘
آزمائش کی اِس گھڑی میں ہمارے مُنجی کی اِس دُعا میں ہمارے لیے کئی سبق آموز پہلو پائے جاتے ہیں۔ یہ خلوت کی دُعا تھی۔ اِس دوران وہ اپنے تین قریبی شاگردوں سے بھی الگ ہو کر تنہائی میں چلا گیا۔ اے اِیماندار! تُو بھی اکثر خلوت میں جا کر خوب دُعا کِیا کر، خاص طور پر آزمائش کے وقتوں میں اَور بھی زیادہ۔ خاندانی دُعا، اجتماعی دُعا اور کلیسیائی دُعا کافی نہیں ہوگی اگرچہ یہ سب بہت قیمتی ہیں، لیکن تیری شخصی ریاضت کے بخوردان سے بہترین راحت انگیز خوشبو اُس وقت اُٹھے گی جب خُدا کے سوا کوئی دُوسرا کان سُننے والا نہ ہو۔یہ عاجزی کی دُعا تھی۔ لوقاؔ کہتا ہے کہ اُس نے گھٹنے ٹیک کر دُعا کی ، مگر یہاں متیؔ کہتا ہے کہ اُس نے ’’ مُنہ کے بل گِر کر ‘‘دُعا کی۔ تو پھر اِس عظیم خداوندکے حقیر خادم! تیری جگہ کہاں ہونی چاہیے؟ تیرے سر پر تو خاک اور راکھ ہونی چاہیے! عاجزی ہمیں دُعا میں مضبوط قدم جمانے کا موقع دیتی ہے۔ خُدا کے حضور فروتنی کے سِوا کامیابی کی اَور کوئی کُنجی نہیں تاکہ وہ ہمیں وقت پر سربلند کرے ۔یہ ایک فرمانبردار فرزند کی دُعا تھی۔ ’’ اے ابّا، اے باپ! ‘‘۔ آزمائش کے دِن آپ اپنے لے پالک فرزند ہونے کے استحقاق کو ایک مضبوط پناہ گاہ کے طور پر محسوس کریں گے۔ ایک رعایا کے طور پر آپ کے پاس اب کوئی حقوق نہیں رہے کیونکہ نسلِ آدم ہونے کے ناطے ہم نے اپنی سرکشی کے باعث اُنہیں کھو دیا ہےالبتہ کوئی چیز ایک فرزند کے لیے اپنے باپ کی فرزندیت کے حق کو ختم نہیں کر سکتی۔ یہ کہنے سے نہ ڈریں کہ ’’ اے میرے باپ، میری فریاد سُن ‘‘۔غور کیجئے کہ یہ ایمان کی مضبوطی کے لیے دُعا تھی۔ اُس نے تین بار دُعا کی۔ جب تک آپ غالب نہ آ جائیں ، ہمت نہ ہاریں۔ اُس نادار بیوہ کی طرح بنیں جِس نے مسلسل فریاد کر کر کے وہ کچھ حاصل کر لیا جو وہ اپنی چند درخواستوں کے ذریعے حاصل نہیں کر پائی تھی ۔ دُعا میں مشغول رہیں اور شکرگزاری کے ساتھ اِس میں مستعد رہیں۔آخر میں، یہ سپردگی کی دُعا تھی۔ ’’ تَو بھی نہ جَیسا مَیں چاہتا ہُوں بلکہ جَیسا تُو چاہتا ہے وَیسا ہی ہو۔ ‘‘ جُھک جائیے ، تو پھر خُدا بھی متوجہ ہوگا۔ سب کچھ خُدا کی مرضی پر چھوڑ دیجئے ، اور پھر خُدا بہترین فیصلہ کرے گا۔ اپنی مناجات کو اُس کے ہاتھوں میں سونپنے کے بعد اطمینان سے اُس کی شکرگزاری کیجئے کیونکہ وہی بہتر جانتا ہے کہ آپ کو اِس دُعا کا جواب کب دینا ہے، کیسے دینا ہے، کیا دینا ہے اور کیا نہیں دینا۔ اِس طرح اِنتہائی اشتیاق، فروتنی، عاجزی اور سپردگی کے ساتھ دُعا کرنے سے آپ ضرور غالب آ جائیں گے۔
یوحنا 17: 24
’’اے باپ! مَیں چاہتا ہُوں کہ جنہیں تُو نے مُجھے دیا ہے جہاں مَیں ہُوں وہ بھی میرے ساتھ ہوں۔‘‘
اے موت! تُو اُس درخت کو کیوں چُھوتی ہے جِس کی پھیلی ہوئی شاخوں کے نیچے تھکے ماندے آرام پاتے ہیں؟ تُو زمین کے اُن بہترین لوگوں کو کیوں چھین لیتی ہے جو ساری دُنیا کے لیے شادمانی اور فخر کا باعث ہوتے ہیں؟ اگر تجھے اپنا کُلہاڑا چلانا ہی ہے، تو اُن درختوں پر چلا جو کوئی پھل نہیں دیتے، تب شاید ہم بھی تیرا شکریہ ادا کرنے والوں میں سے ہوتے۔ لیکن تُو لبان کے خوبصورت دیوداروں کو کیوں گراتی ہے؟ اپنا کُلہاڑا روک لے اور راستبازوں کو چھوڑ دے۔ لیکن نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ موت ہمارے بہترین دوستوں کو دبوچ لیتی ہے۔ انتہائی سخی، نہایت دُعا گو، بے حد پاکیزہ اور بہترین عقیدت مند لوگوں کا مقدر بالآخر مرنا ہی ہے۔ اور کیوں؟ یہ یسوعؔ کی اِسی دُعا کی وجہ سے ہے کہ ’’ اے باپ! مَیں چاہتا ہوں کہ جِنہیں تُو نے مُجھے دیا ہے جہاں مَیں ہُوں وہ بھی میرے ساتھ ہوں ۔ ‘‘ یہی وہ دُعا ہے جو اُنہیں گویا عقاب کے پروں پر سوار کر کے آسمان پر لے جاتی ہے۔ ہر بار جب کوئی اِیماندار اِس زمین سے فردوس کی طرف پرواز کرتا ہے، تو وہ مسیح کی دُعا کا جواب بن جاتا ہے۔کسی نیک اور قدیم مقدس شخصیت نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’ کئی بار یسوعؔ کے لوگ دُعا میں اُس کے عین برعکس اِلتجا کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ دُعا میں اپنے گھٹنے جھکاتے اور کہتے ہیں’ اے باپ! مَیں چاہتا ہوں کہ تیرے مُقدّسین ہمیشہ ہمارے پاس رہیں‘۔ جبکہ مسیح کہتا ہے کہ ’ اے باپ! مَیں چاہتا ہوں کہ جِنہیں تُو نے مُجھے دیا ہے جہاں مَیں ہوں وہ بھی میرے ساتھ ہوں ‘۔ ‘‘ اِس طرح کوئی بھی شاگرد کسی بھی معاملے میں اپنے خداوند کے مقصد کے عین برعکس بھی التجا کر سکتا ہے مگر ایسا ہونا نہیں چاہئے۔ رُوح ایک ہی وقت میں دو جگہوں پر نہیں رہ سکتی۔ آپ کا عزیز ایک ہی وقت میں مسیح کے پاس اور آپ کے پاس نہیں رہ سکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ کِس کی اِلتجا رنگ لائے گی؟ اگر آپ کو اِختیار دیا جائے یعنی اگر بادشاہ اپنے تخت سے نیچے آئے اور کہے کہ ’’ یہاں دو فریادی ہیں جو ایک دُوسرے کے خلاف دُعا کر رہے ہیں، کِس کی دُعا کا جواب دیا جائے؟ ‘‘ تو ، مجھے یقین ہے کہ آپ کے لئے یہی بہتر ہوگا کہ آپ فوراً کھڑے ہو کر کہیں کہ ’’ اے یسوعؔ! میری نہیں بلکہ تیری مرضی پُوری ہو ‘‘۔ اگر آج آپ اِس بات کا ادراک کر لیں کہ مسیح دُوسری طرف یہ دُعا کر رہا ہے کہ ’’ اے باپ! مَیں چاہتا ہوں کہ جِنہیں تُو نے مُجھے دیا ہے جہاں مَیں ہوں وہ بھی میرے ساتھ ہوں ‘‘، تو آپ اپنے عزیز کی زندگی کے لیے اپنی ایسی دُعا سے دستبردار ہو جائیں گے۔ اے خداوند! وہ تیرے ساتھ رہیں۔ اِیمان کے وسیلہ سے ہم اُنہیں تیرے سپرد کرتے ہیں۔