جمعرات، 19 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

رومیوں 4: 20

’’ایمان میں مضبوط۔‘‘
اے مسیحی ! اپنے اِیمان کی خوب حفاظت کر اور یاد رکھ کہ اِیمان ہی وہ واحد راستہ ہے جِس کے ذریعے تُو برکات حاصل کر سکتا ہے۔ اگر ہم خُدا سے برکات حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو اِیمان کے سوا کوئی چیز اُنہیں نیچے نہیں لا سکتی۔ کوئی دُعا خُدا کے تخت سے جوابات نہیں کھینچ سکتی سوائے اُس شخص کی پُر جوش دُعا جس کے ساتھ ایمان شامل ہو۔ یہ ایمان ہی ہے جو ایماندار اور جلال میں موجود خداوند یسوعؔ کے درمیان کسی فرشتے کی طرح پیغام رسانی کا کام کرتا ہے۔ اگر ایمان کو درمیان سے ہٹا دیا جائے، تو نہ ہماری دُعا اوپر جا سکتی ہے اور نہ ہی آسمان سے کوئی جواب نیچے آ سکتا ہے۔ اِیمان وہ تار ہے جو زمین اور آسمان میں رابطہ قائم کرتی ہے اور پھر جب یہ رابطہ منسلک ہو جاتا ہے تو خُدا کے مُحبت بھرے پیغامات اِتنی تیزی سے آنا جانا شروع ہو جاتے ہیں کہ ہمارے پکارنے سے پہلے ہی وہ جواب دیتا ہے، اور جب ہم ہنوز کہہ نہیں چکتے تو وہ سُن لیتا ہے ۔ لیکن اگر اِیمان کی یہ تار ٹوٹ جائے، تو ہم وعدہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟کیا مَیں مُصیبت میں ہوں؟ مَیں اِیمان کے ذریعے مُصیبت میں مدد حاصل کر سکتا ہوں۔ کیا مَیں دشمن کے ہاتھوں دُکھ اٹھا رہا ہوں؟ میری رُوح اِیمان کے ذریعے اپنی پناہ گاہ پر تکیہ کرتی ہے۔ لیکن اِیمان کو ہٹا دیں تو میرا خُدا کو پکارنا بیکار ہے۔ میری رُوح اور آسمان کے درمیان پھر کوئی واسطہ نہیں۔ سخت ترین سردی کے موسم میں بھی اِیمان وہ سڑک ہے جِس پر دُعا کے گھوڑے سفر کر سکتے ہیں بلکہ کڑکڑاتی برف میں تو یہ اَور بھی بہتر کام کرتی ہے، لیکن اگر راستہ ہی بند ہو جائے، تو ہم عظیم بادشاہ سے رابطہ کیسے کر سکتے ہیں؟اِیمان مجھے الوہیت سے جوڑتا ہے۔ اِیمان مجھے خُدا کی قدرت کا لباس پہناتا ہے۔ اِیمان یہوواہ کی قدرتِ کاملہ کا رُخ میری جانب موڑ دیتا ہے۔ اِیمان میری حفاظت کے لئے خُدا کی ہر صفت کو یقینی بناتا ہے۔ یہ جہنم کے لشکروں کو للکارنے میں میری مدد کرتا ہے۔ یہ مجھے اپنے دشمنوں پر فتح پانے کے قابل بناتا ہے۔ لیکن اِیمان کے بغیر مَیں خداوند سے کیسے کچھ پا سکتا ہوں؟ جو شک کرتا ہے وہ سمندر کی لہر کی مانند ہے اور وہ یہ اُمید نہ رکھے کہ وہ خُدا سے کچھ پائے گا ۔ پس اے ایماندار! اپنے اِیمان کی خوب حفاظت کرکیونکہ اِس کے ساتھ تُو سب کچھ جیت سکتا ہے خواہ تُو کِتنا ہی غریب کیوں نہ ہو، لیکن اِس کے بغیر تُو کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔ ’’ کیا!اگر تُو کر سکتا ہے! جو اعتقاد (ایمان) رکھتا ہے اُس کے لئے سب کچھ ہو سکتا ہے‘‘۔

روت 2: 14

’’سو اُس نے کھایا اور سیر ہوئی اور کچھ رکھ چھوڑا۔‘‘
جب کبھی ہمیں وہ روٹی کھانے کا استحقاق مِلتا ہے جو یسوعؔ دیتا ہے، تو ہم روتؔ کی طرح اُس بھرپور اور شیریں ضیافت سے خوب سیر ہو جاتے ہیں ایسا کہ کچھ رکھ بھی چھوڑتے ہیں۔ جب یسوعؔ میزبان ہو تو کوئی بھی مہمان دسترخوان سے خالی ہاتھ نہیں جاتا۔ ہمارا سر مسیح کی بیش قیمت سچائی سے آسودہ ہو جاتا ہے ، ہمارا دِل یسوعؔ کی محبت سے سرشار ہو جاتا ہے اور ہماری اُمید اطمینان پاتی ہے، کیونکہ آسمان پر یسوعؔ کے سوا ہمارا کون ہے؟ نیز ہماری ہر روحانی اشتہا بھی پُوری ہو جاتی ہے، کیونکہ کوئی ایماندار اِس سے زیادہ کیا چاہ سکتا ہے کہ وہ ’’مسیح کو حاصل کرے اور اُس میں پایا جائے‘‘؟ یسوعؔ ہمارے شعور کو اپنی حکمت سے آسودہ کرتااور ہمارے فہم کو اپنی تعلیم سے آراستہ کرتا ہے۔ وہ ہماری یادداشت کو اپنی یادگاری سے اور ہمارے تصور کو اپنے الہٰی خیالات سے منور کر دیتا ہے۔ جیسے روتؔ ’’ سیر ہوئی اور کچھ رکھ چھوڑا ‘‘، ویسا ہی ہمارے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ ہم بھی خوب جی بھر کر اُس کی حضوری سے سیر ہوئے ہیں اور اُس کی معموری نے ہماری روحوں کو سیراب کر دیا ہے یہاں تک کہ اب ہم نے دوسروں کے ساتھ بانٹنے کے لئے بھی بہت کچھ رکھ چھوڑا ہے۔ ہم خداوند کی مُحبت کے دسترخوان پر بیٹھے اور کہا کہ ’’ خُدائے لامحدود کے سوا کوئی ہستی یا چیز مجھے سیر نہیں کر سکتی۔ مَیں اِتنا بڑا پاپی ہوں کہ مجھے اپنے گُناہ دھونے کے لئے لامحدود فضل چاہیے ‘‘۔ اور پھر یہ فضل ہم پر جاری ہوا اور ہمارے گُناہ مِٹا دیے گئے اور ہم نے پایا کہ فضل پر فضل یعنی ضرورت سے کہیں زیادہ فضل۔ خُدا کی ہر برکت لامحدود اور لامتناہی ہے ۔ اُس کے کلام میں ابھی اتنی اور ایسی شیریں باتیں باقی ہیں جِن سے ہم نے ابھی تک پورا لُطف نہیں اُٹھایا، اور جنہیں ہم کچھ دیر کے لئے چھوڑنے پر مجبور ہیں، کیونکہ ہم اُن شاگردوں کی مانند ہیں جِن سے یسوعؔ نے کہا تھا کہ ’’ مجھے تم سے اَور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے مگر اب تم اُن کی برداشت نہیں کر سکتے ‘‘۔ جی ہاں، فضل کے کچھ ایسے درجے ہیں جن تک ہم ہنوز نہیں پہنچے۔ مسیح کے ساتھ رفاقت میں کئی ایسے مقامات ہیں جن تک ہم نے ابھی تک رسائی حاصل نہیں کی، اور مُکاشفات کی ابھی متعدد ایسی بلندیاں باقی ہیں جن تک ہماری دسترس نہیں ۔ مُحبت کی ہر ضیافت میں ٹکڑوں کے بہت سے ٹوکرے باقی رہ جاتے ہیں۔ آئیے ہم اپنے عظیم بوعزؔ کی فیاضی کے لئے اُس کی شکرگزاری کریں!
9