پیر، 9 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

غزل الغزلات 5: 16

’’ہاں وہ سراپا عشق انگیز ہے۔‘‘
یسوعؔ اپنے حُسنِ کامل اور جاہ و جلال میں فی الحقیقت نہایت پُرکشش اور قابلِ دید ہے جو محض لائقِ ستائش و محبت ہی نہیں بلکہ قابلِ عشق بھی ہے۔ وہ صِرف دِلکش اور خُوبصورت ہی نہیں، بلکہ وہ سراپا عشق انگیز ہے یعنی اُسے ایک نظر دیکھتے ہی انسان کو اُس سے عشق ہو جاتا ہے۔ واہ، ’’عشق انگیز‘‘ کیا ہی سنہری اصطلاح ہے اور یقیناً خُدا کے لوگ ہی اِس خوبصورت لفظ کے اِستعمال کو پُوری طرح دُرست ثابت کر سکتے ہیں، کیونکہ مسیح کی ذات اُن کی شدید ترین مِحبّت کا مرکز و محور ہےاے یسوعؔ کے شاگردو! اپنے مالک کے لبوں کو دیکھو اور کہو کہ ’’کیا وہ نہایت شیریں نہیں ہیں؟‘‘ جب وہ راہ میں تُم سے باتیں کرتا ہے تو کیا اُس کے الفاظ تُمہارے دِلوں کو گرما نہیں دیتے ؟ اے عِمانوایلؔ کے پرستارو! اُس کے سَر کی طرف دیکھو جو کُندن ہے، اور مجھے بتاؤ کہ کیا اُس کے خیالات تُمہارے لیے بیش قیمت نہیں ہیں؟ جب تُم اُس چہرے کا دیدار پاتے ہی عاجزی سے اُس کے سامنے سرنگوں ہو جاتے ہو جو لُبنان کے سرُو کی مانند سرسبز اور صنوبر جیسا عالی شان ہے، تو کیا اُسی لمحے تُمہاری عقیدت عشق کی مٹھاس سے بھر نہیں جاتی؟ کیا اُس کا ہر نقش کمال اور اُس کی ذات کا ہر وصف پُرجلال نہیں، اور کیا اُس کی پُوری ذات سرچشمۂ حُسن وعشق نہیں کہ کنواریاں اُس پر فریفتہ نہ ہوں؟ کیا اُس کے جلالی بدن کا کوئی عُضو ایسا ہے جو بے مثال نہیں ؟ کیا اُس کی ذات کا کوئی ایسا حصّہ ہے جو ہماری رُوحوں کے لیے مقناطیسی اثر نہیں رکھتا؟ ہم اُس کے عشق میں مبتلا ہو کر ساری زندگی اُس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اُس کے پُورے کردار کی چھاپ اپنی زندگیوں پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری تمام ہستیوں میں کہیں نہ کہیں کوئی کمی ضرور پائی جاتی ہے، مگر اُس کی ذات کاملیت کی حقیقی آئینہ دار ہے۔ اُس کے پسندیدہ ترین مقدسین کے لباسوں پر بھی داغ اور ماتھوں پر شکنیں رہی ہیں لیکن وہ خُود سراپا حُسن و عشق ہے۔ زمین کے تمام خورشیدوں میں دھبّے پائے جاتے ہیں، اِس خُوبصورت دُنیا میں بھی بیابان موجود ہے، ہم کِسی بھی دِلکش ترین چیز کے ہر پہلو سے مِحبّت نہیں کر سکتے، لیکن مسیح یسوعؔ وہ خالص سونا ہے جِس میں رتی برابر بھی کھوٹ نہیں۔ وہ ایسی پوتر روشنی ہے جِس میں کوئی تاریکی نہیں۔ وہ ایسا جلال ہے جِس میں کوئی سایہ نہیں۔ ’’ہاں، وہ سراپا عشق انگیز ہے‘‘۔

یوحنا 15: 4

’’مجھ میں قائم رہو۔‘‘
مسیح کے ساتھ رفاقت ہر بیماری کا یقینی اور شافی علاج ہے۔ چاہے وہ دُکھ کی کڑواہٹ ہو یا دنیوی لذتوں کی بیزار کن کثرت، خداوند یسوعؔ کے ساتھ قریبی تعلق ایک سے تلخی کو دُور کر دے گا اور دوسرے سے اُکتاہٹ کو۔ اے مسیحی! یسوعؔ کے قریب رہ، پھر یہ بات ثانوی اہمیت کی حامل ہو گی کہ تُم عزت کے پہاڑ پر رہتے ہو یا عاجزی کی وادی میں۔ یسوعؔ کے قریب رہتے ہوئے تم خُدا کے پروں کے سائے میں ہو اور اُس کے ازلی بازو سہارے کے لئے تمہارے نیچے سدا موجود ہیں۔ کوئی بھی چیز تمہیں اس پاکیزہ تعلق سے باز نہ رکھے جو اُس رُوح کا طرۂ امتیاز ہے جس کا رشتہ اِس محبوبِ برحق سے جڑ چکا ہے۔ کبھی کبھار کی ملاقات پر اکتفا نہ کرو بلکہ ہمہ وقت اُس کی رفاقت قائم رکھنے کی جستجو کرو، کیونکہ صرف اُس کی حضوری میں ہی تمہاری تسلی اور سلامتی ہے۔ یسوعؔ ہمارے لئے محض ایک ایسا دوست نہیں ہونا چاہئے جو کبھی کبھار ملنے آتا ہو، بلکہ وہ ایسا دوست ہو جو ہر قدم پر آپ کے ساتھ ساتھ چلے ۔ تمہارے سامنے ایک مشکل راستہ ہے۔ اے آسمان کے مسافر! دیکھنا کہ تُم اپنے راہنما کے بغیر کبھی نہ چلو۔ تمہیں آگ کی بھٹی میں سے گزرنا ہے اور اُس میں اُس وقت تک داخل مت ہونا جب تک سدرکؔ، میسکؔ اور عبدنِجو کی طرح الہٰ زادہ تمہارا ساتھی نہ ہو۔ تمہیں اپنی ہی بدکاریوں کے یریحو کو بھی فتح کرنا ہے اور اِس جنگ کا اِرادہ بھی تب تک نہ کرنا جب تک یشوعؔ کی طرح تم خداوند کے لشکر کے سپہ سالار کو ہاتھ میں ننگی تلوار لئے نہ دیکھ لو۔ تمہیں اپنی کئی آزمائشوں کے عیسوؔ سے ملنا ہے۔ اُس کے ساتھ بھی اُس وقت تک نہ ملنا جب تک یبوق کے نالے پر تم فرشتے کو پکڑ کر اُس پر غالب نہ آ جاؤ۔ ہر صورت اور ہر حال میں تمہیں یسوعؔ کی ضرورت ہوگی۔ لیکن سب سے بڑھ کر اُس وقت جب موت کے آہنی دروازے تمہارے لئے کھلیں گے۔ اپنی رُوح کے دُلہا کے قریب رہو، اپنا سر اُس کے سینے پر رکھو، اور اُس کی قربت سے تر و تازہ ہو جاؤ۔ تب ہی ، آخر کار ، تم اُس کے حضور بے عیب، بے داغ، بے جھرّی اور پاک ٹھہرو گے۔ چونکہ تُم یہاں برابر اُس کے ساتھ رہے اور اُس کی قربت میں اپنی ساری زندگی گزاری ، اِس لئے تم ابدالآباد اُس کی قربت میں قائم رہو گے۔
9