جمعرات، 26 فروری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

یوناہ 2: 9

’’نجات خُداوند کی طرف سے ہے۔‘‘
نجات خدا کا کام ہے۔ یہ وہی اکیلا ہے جو’’اپنے قصوروں اور گناہوں کے سبب سےمُردہ‘‘ زندگیوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور یہ وہی ہے جو انسانی جان میں روحانی زندگی کو قائم و دائم بھی رکھتا ہے۔ وہ ’’الفا اور اومیگا‘‘ دونوں ہے۔ ’’نجات خداوند کی طرف سے ہے‘‘۔اگر میں دُعا گزار ہوں تو مجھے دُعا کی توفیق دینے والا خُداہے، اگر مُجھ میں کچھ خُوبیاں پائی جاتی ہیں تو وہ بھی خُدا ہی بخشی ہوئی نعمتیں ہیں ، اور اگر مَیں راہِ مستقیم پر قائم ہوں تو یہ بھی اِسی لیے ہے کہ اُس نے مجھے اپنے ہاتھ سے تھام رکھا ہے۔ میں اپنی حفاظت کے لیے از خود کچھ نہیں کرتا سوائے اِس کے جو خُدا کی طرف سے میرے لئے الہٰی محافظت کا انتظام کرتا ہے۔ کیونکہ میرے پاس جو کچھ بھی ہے اور میری ساری نیکی فقط خداوند ہی کی طرف سے ہے۔ جہاں جہاں مَیں گناہ کرتا ہوں وہ میرا اپنا ہے لیکن جہاں جہاں میں کوئی نیک کام کرتا ہوں وہ پوری طرح خدا کی طرف سے میرے وسیلے عمل میں لائے جاتے ہیں۔ اگر مَیں نے کسی روحانی دشمن کو شکست دی ہے تو خداوند کی طاقت نے میرے بازوؤں کو ہمت بخشی ہے۔ کیا مَیں لوگوں کے سامنے ایک پاکیزہ زندگی گزارتا ہوں؟ تو یہ میں نہیں بلکہ مسیح ہے جو مجھ میں زندہ ہے۔ کیا میں مقدس ہوں؟ تو مَیں نے خود کو پاک اور صاف نہیں کیا بلکہ خدا کے پاک روح نے میری تقدیس کی ہے۔ کیا میرا دِل دُنیا سے اُچاٹ ہو چکا ہے؟ تو خدا کی اُس اصلاحی تربیت نے مجھے دُنیا سے دُور کِیا ہے جو میری بھلائی کے لیے تھی ۔ کیا مَیں معرفت میں ترقی کر رہا ہوں ؟ تو میرا عظیم استاد یعنی روح القدس مجھے سکھانے والا ہے ۔ مجھے اپنی ضرورت کی ہر چیز خُدا سے ملتی ہے لیکن اپنی ذات میں مجھے گناہ اور دُکھ کے سِوا کچھ نظر نہیں آتا کیونکہ صرف ’’وہی میری چٹان اور میری نجات ‘‘ ہے۔ کیا میں کلام سے غذا پاتا ہوں؟ اگر خداوند اُسے میری روح کی غذا نہ بناتا تو وہ کلام میرے لیے کبھی خوراک نہ بنتا ۔ کیا مَیں اس آسمانی منّ کے بل بوتے پر زندہ ہوں ؟ تو وہ منّ خود مجسم یسوعؔ مسیح ہے جس کے بدن اور خون سے میں روحانی زندگی کشید کرتا ہوں۔ کیا مَیں مسلسل نئی قوت پا رہا ہوں؟ مَیں اپنی قوت اور کمک کہاں سے حاصل کرتا ہوں؟ میری کمک آسمان کے پہاڑوں سے آتی ہے کیونکہ یسوعؔ کے بغیر مَیں کچھ نہیں کر سکتا۔ جس طرح کوئی ڈالی انگور کے درخت میں قائم رہے بغیر پھل نہیں لا سکتی ویسے ہی مَیں بھی کچھ نہیں کر سکتا جب تک کہ مَیں اُس میں قائم نہ رہوں۔ پس جو کچھ یوناہؔ نے گہرے سمندر میں سیکھا وہی مَیں بھی آج صبح اپنی تنہائی میں سیکھ لوں کہ ’’نجات خداوند ہی کی طرف سے ہے‘‘۔

احبار 13: 13

’’اگر اُس شخص کا سارا جسم کوڑھ سے ڈھکا ہُوا نِکلے تو کاہن اُس مریض کو پاک قرار دے۔‘‘
یہ اصول دیکھنے میں بہت عجیب لگتا ہے لیکن اس میں ایک گہری حکمت پوشیدہ تھی کیونکہ بیماری کا اِس طرح باہر نکل آنا اِس بات کا ثبوت ہوتا تھا کہ اِنسانی بدن اندر سے ٹھیک اور تندرست ہے ۔ آج کی شام ہمارے لیے اِس انوکھے قاعدے سے ایک روحانی سبق سیکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ ہم بھی روحانی طور پر کوڑھ زدہ ہیں اور یہ قانون ہم پر بھی صادق آتا ہے کہ جب ایک انسان خود کو مکمل طور پر گناہوں میں مستغرق اور تباہ حال پاتا ہے تو اُسے محسوس ہوتا ہے کہ اُس کی زندگی کا کوئی بھی حصہ اب ناپاکی سے خالی نہیں رہا ۔ پھر جب وہ اپنی ہر طرح کی نیکی اور راستبازی سے انکار کر کے خداوند کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے تو وہ یسوعؔ کے خون اور خدا کے فضل کے وسیلہ سے پاک ہو جاتا ہے ۔ دراصل پوشیدہ اور ایسا گناہ جس کا اقرار نہ کیا گیا ہو وہی اصل کوڑھ ہے لیکن جب گناہ نظر آ جائے اور اُسے محسوس کر لیا جائے تو سمجھ لیں کہ اُسے ایک کاری ضرب لگ چکی ہے اور خداوند ایسی تڑپتی اور تائب رُوح پر رحمت کی نظر ضرور ڈالتا ہے کیونکہ خود کو نیک سمجھنے سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں اور گناہوں پر شرمندہ ہونے سے زیادہ پُر امید کچھ نہیں ۔ ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ ہم گناہ کے مجموعے کے سوا کچھ نہیں ہیں کیونکہ یہی مکمل سچائی ہے اور اگر رُوح القدس ہمیں گناہ کا احساس دلا رہا ہے تو پھر اقرار کرنا مشکل نہیں ہوگا بلکہ یہ خود بخود ہمارے لبوں سے جاری ہو جائے گا ۔ یہ آیت اُن گنہگاروں کے لیے بڑی تسلی کا باعث ہے جو صدقِ دِل سے اپنی اصلی حالت سے واقف ہیں کیونکہ وہی بات جو اُنہیں بہت زیادہ مایوس کر رہی تھی اب یہاں اُن کی بہتری کی علامت بن چکی ہے ۔ یاد رکھیں کہ نیا لباس پہننے سے پہلے پرانا اُتارنا پڑتا ہے اور عمارت بنانے سے پہلے زمین کھود کر بنیاد بنانی پڑتی ہے ۔ اِسی طرح گناہ کا بھرپور احساس دِل میں فضل کے شروع ہونے کی علامت ہے ۔ اِس لیے ، اے گنہگار کوڑھی! جس کا کوئی حصہ تندرست نہیں ہے ، یہ کلام تیرے لئے بڑی تسلی اور تشفی کا پیغام ہے کہ تُو جس بھی حال میں ہے ویسے ہی یسوعؔ کے پاس چلا آ۔
’’ہمارا قرض چاہے کتنا ہی زیادہ ہو یا کم
جب دینے کو کچھ نہ ہو تو خُدا مٹاتا ہے ہر غم
کامل غریبی ہی رُوح کو آزاد کرتی ہے
ذرا سی بھی خُود راستی رہائی میں رکاوٹ بنتی ہے‘‘۔
24