پیر، 23 فروری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

عبرانیوں 13: 5

’’ مَیں تُجھ سے ہرگِز دست بردار نہ ہُوں گا۔‘‘
کوئی بھی وعدہ نجی تشریح کا حامل نہیں ۔ جو کچھ خُدا نے کسی ایک مقدّس سے فرمایا ہے، وہی اُس نے سب کے لیے بھی فرمایا ہے۔ جب وہ کسی ایک ایماندار کے لئے کنواں کھولتا ہے، تو اُس کا یہ فیض عام ہوتا ہے۔ جب وہ کسی ایک فاقہ کش مقدّس کو کھلانے کے لیے اپنے ذخیرہ خانے کا دروازہ کھولتا ہے، تو سارے بھوکے مقدسین آ کر اپنی بھوک مٹا سکتے ہیں۔ الغرض، چاہے اُس نے ابرہامؔ کو مخاطب کر کے کچھ کہا ہو یا موسیٰؔ سے کوئی کلام کیا ہو، وہ کلام اُس کے تمام مقدسوں کے لئے ہے۔ اِس لئے اے ایماندار! تُو ہر عہد کی نسل کے ساتھ برابر کا شریک ہے۔ خُدا کی کوئی برکت ایسی نہیں جو تیری دسترس سے بلند ہو اور کوئی رحمت ایسی ہیں جسے تُو سمیٹ نہ سکے۔ اِس لئے، ابھی اپنی آنکھیں اُٹھا کر پورب سے پچھم اور اُتر سے دکھن کی طرف دیکھ کیونکہ یہ سب تیرا ہے۔ پسگہ کی چوٹی پر چڑھ جا اور نظر گھما کر الہٰی وعدے کی آخری حد تک دیکھ لے، کیونکہ یہ ساری موعودہ سرزمین تیری ملکیت ہے۔ آبِ حیات کا کوئی چشمہ ایسا نہیں جس سے تُو اپنی پیاس بجھا نہیں سکتا۔ اگر تیری سرزمین میں دُودھ اور شہد بہتا ہے تو سیر ہو کر دُودھ اور شہد سے فیضیاب ہو کیونکہ یہ دونوں تیرے لئے ہیں۔ تُو اپنے اِس ایمان میں مضبوط بن کیونکہ اُس نے خُود فرمایا ہے کہ ’’ مَیں تُجھ سے ہرگِز دست بردار نہ ہُوں گا اور کبھی تُجھے نہ چھوڑُوں گا۔‘‘ اِس وعدے میں، خُدا سب کچھ اپنے لوگوں کو دے چکا ہے۔ ’’مَیں تجھے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ تو پھر خُدا کی کوئی صفت ایسی نہیں جس سے ہم بھرپور استفادہ نہ کر سکیں۔ کیا وہ قادر ہے؟ وہ اپنی ذات کو اُن کی خاطر ضرور قوی دکھائے گا جو اُس پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ کیا وہ سراپا محبت ہے؟ پھر وہ اپنی شفقت سے ہم پر ضرور رحم کرے گا۔ جو کچھ اُس کی الوہیت کا خاصہ ہے ، اُس میں سے کوئی ہر ایک وصف بھرپور طریقے سے ہماری بھلائی اور برکت کے لئے بروئے کار لایا جائے گا۔ آئیے ، دریا کو کوزے میں بند کر دیتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ، ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں جو آپ چاہیں، ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں جو آپ مانگ سکیں، ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں جس کی آپ کو فی الوقت یا ابدیت میں ضرورت پڑ سکے، ایسی کوئی زندہ چیز ہے ہی نہیں ، ایسی کوئی مرنے والی چیز ہے ہی نہیں ، اِس دُنیا میں ایسا کچھ ہے ہی نہیں ، اگلی دُنیا میں ایسا کچھ ہے ہی نہیں ، فی الحال ایسا کچھ ہے ہی نہیں ، جی اُٹھنے کی صبح کے حوالے سے ایسا کچھ بھی نہیں ، آسمان میں ایسا کچھ ہے ہی نہیں جو اِس آیت کے اندر موجود نہ ہو یعنی ’’مَیں تُجھ سے ہرگِز دست بردار نہ ہُوں گا اور کبھی تُجھے نہ چھوڑُوں گا۔‘‘

مرقس 10: 21

’’صلیب اُٹھا اور میرے پیچھے ہو لے۔‘‘
آپ کو اپنی صلیب از خود بنانے کا کوئی اختیار نہیں ، اگرچہ بے ایمانی صلیب تراشنے میں ایک ماہر بڑھئی جیسی مہارت رکھتی ہے ، نہ ہی آپ کو اپنی صلیب از خود منتخب کرنے کی اجازت ہے، اگرچہ آزاد مرضی آپ کی زندگی پر قابض ہونا اور اُسے اپنی گرفت میں رکھنا چاہتی ہے، البتہ آپ کی صلیب الہٰی محبت کے تحت آپ کے لیے پہلے سے تیار اور مقرر کی جا چکی ہے، اور اب آپ کو اُسے خوشی سے قبول کرنا ہےیعنی آپ کو اپنی صلیب کو اپنے لئے چنیدہ نشان اور بوجھ کے طور پر اُٹھانا ہے، اور اُس پر کوئی حجت نہیں کرنی۔ آج کی رات ، یسوعؔ آپ کو اپنے کندھے اپنے نرم و ملائم جوئے کے نیچے لانے کا حکم دیتا ہے۔ بے ادبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُسے لات مت ماریں، یا لاف زنی میں اُسے پامال نہ کریں، یا بیچارگی کے ساتھ اُس کے نیچے مت آئیں ، یا خوف کھا کر اُ س سے دُور مت بھاگیں، بلکہ یسوعؔ کے ایک سچے پیروکار کی طرح اُسے فخر کے ساتھ اپنے اُوپر اُٹھا لیں۔ یسوعؔ خود بھی ایک صلیب بردار تھا اور اِسی لئے وہ غم کی راہ میں اپنے صلیب برداروں کی اگوائی و رہنمائی کرتا ہے۔ یقیناً ، آپ اِس سے بہتر رہنما کی خواہش نہیں کر سکتے تھے! اور اگر اُس نے صلیب اٹھائی، تو آپ اس سے زیادہ بڑے بوجھ کی کیا خواہش کریں گے؟ صلیب کی راہ سلامتی کی راہ ہے، اس کے خاردار راستوں پر چلنے سے ہر گز نہ ڈریں۔ اے عزیز قاری! صلیب پروں سے نہیں بنی ہوتی ، نہ ہی اِس میں مخمل لگا ہوتا ہے مگر یہ نافرمانی کے عادی کندھوں کے لیے بہت بھاری اور اذیت کا باعث ہوتی ہے۔ البتہ یہ لوہے کی صلیب بھی نہیں ہے، اگرچہ آپ کے خوف نے اِس پر فولادی رنگ چڑھا دیا ہے، مگر یہ لکڑی کی صلیب ہے، اور کوئی بھی انسان اِسے بآسانی اُٹھا سکتا ہے، کیونکہ ہمارا خداوند اور ہمیں اِس صلیب کو اُٹھانے کا حکم دینے والا مردِ غمناک خُود بھی اِس بوجھ کو آزما چکا ہے۔ اِس لئے آئیے ، اپنی اپنی صلیب اُٹھائیں، اور خدا کی روح کی قدرت سے آپ جلد ہی اُس کی محبت میں اِس قدر گرفتار ہو چکے ہوں گے، کہ موسیٰؔ کی طرح، آپ بھی مسیح کی تنبیہ اور ملامت کے عوض مصر کے تمام خزانوں کا تبادلہ نہیں کریں گے۔ یاد رکھیں کہ اِس صلیب کو یسوعؔ نے اُٹھایا تھا، اور اب یہ آپ کے لئے اُتنی بھاری نہیں رہی بلکہ آپ کو اِس سے میٹھی خوشبو آئے گی۔ یاد رکھیں کہ جلد ہی اِس کے بعد آپ کو جلالی تاج ملے گا، اور آنے والے ازحد بھاری جلال کے سامنے ہماری موجودہ مصیبت بہت ہلکی اور فقط دم بھر کی ہے۔ خداوند آپ کی مدد کرے کہ آج رات سونے سے پہلے آپ اپنی روح کو الہٰی مرضی کے تابع کر دیں ، تاکہ کل کے سورج کے ساتھ جاگتے ہوئے، آپ آنے والے کل کی صلیب کو بڑی دلیری اور بہادری کے ساتھ اُٹھا سکیں جو مسیحِ مصلوب کے ہر پیروکار کے شایانِ شان ہے۔
33