2۔ کرنتھیوں 7: 6
’’عاجزوں کو تسلی بخشنے والے خُدا نے۔‘‘
ہمارے خُدا جیسی تسلی دینے والا کون ہے؟ خدا کے کسی مفلس ، اُداس اور پریشان فرزند کے پاس جائیں ، اُسے اُس کے شیریں وعدے سُنائیں اور اُس کے کان میں تسلّی کی اچھی اچھی باتوں کی سرگوشی کریں تو اِس حالت میں اُسے آپ کی باتوں سے کئی تسلّی و تشفی نہیں ملے گی۔ وہ پِت اور ناگ دونے کے کڑوے گھونٹ بھر رہا ہے اور آپ اُسے جتنی چاہے تسلی دیں آپ کو اُس سے غمناک لہجے میں صبرو رضا کے ایک دو بولوں کے سِوا اَور کچھ اُگلوا نہیں سکیں گے چہ جائیکہ وہ آپ کے ساتھ مل کر حمد کے گیت، ہالیلویاہ کے نعرے یا خوشی کے نعرے لگانا شروع کر دے۔ لیکن جب خُدا اپنے کسی فرزند کے پاس آتا اور اُس پر اپنی نظرِ کرم ڈالتا ہے تو اُس ماتم زدہ کی آنکھیں اُمید سے چمک اٹھتی ہیں۔ پھر آپ اُسے یہ گاتے ہوئے سُن سکتے ہیں کہ ،
؎ تُو جو میرے پاس ہے تو ہر طرف ہے جنت
اب تُو اگر جُدا ہُوا سب کچھ جہنم بن جائے گا
آپ اپنی لاکھ کوشش سے بھی اُسے کبھی خوش نہیں کر سکتے مگر خُداوند خُدا یہ کام کر سکتا ہے کیونکہ وہ ساری تسلّی کا خُدا ہے۔ جلعادؔ میں کوئی روغنِ بلسان نہیں ، مگر ہمارے خُدا کے پاس ہے اور مخلوقات میں کوئی طبیب نہیں لیکن خالق ہی یہوواہ رافا یعنی شافی ہے۔ یہ انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ خُدا کے شیریں کلام کا ایک ہی لفظ اُس کے لوگوں کا مکمل گیت بن جاتا ہے۔ خُدا کے براہِ راست وعدے کا ہر ایک تسلّی بخش حرف سونے کی ایک ایسی ڈلی کی مانند ہوتا ہے جسے کوئی بھی مسیحی ایماندار ایک ماہر سُنار کی طرح کُوٹ کر کئی ہفتوں تک پھیلا سکتا ہے ۔ اِس لیے اے بیچارگی کے مارے مسیحی ! تجھے مایوسی میں بیٹھنے کی قطعاً ضرورت نہیں بلکہ اُس تسلّی دینے والے کے پاس جا اور اس سے اپنی تسلّی مانگ۔ تُو ایک خشک کنویں کی مانند ہے اور آپ یہ سُن چکے ہیں کہ جب کوئی پمپ خشک ہو جائے تو پہلے اُس میں اوپر سے پانی ڈالنا پڑتا ہے تب جا کر آپ اُسے کنویں کے اندر سے پانی نکالنے کے لئے رواں کر سکتے ہیں ۔ پس اے مسیحی ! جب تُو خشک ہو جائے تو اپنے خُدا کے پاس جا اور اُس سے مانگ کہ وہ تیرے دل میں اپنی خوشی اُنڈیلے اور پھر تیری خوشی کامل ہو جائے گی۔ دنیاوی دوستوں کے پاس نہ جا کیونکہ آخرکار تُو اُنہیں ایوبؔ کو تسلّی دینے والوں کی طرح ہی پائے گا بلکہ سب سے پہلے اَور سب سے بڑھ کر اپنے اُس خُدا کے پاس جا جو پست حالوں کو تسلّی و تشفی دیتا اور اُن کی ڈھارس بندھاتا ہے ۔ پھر تُو بھی جلد ہی زبور نویس کی طرح کہے گاکہ، ’’جب میرے دِل میں فکروں کی کثرت ہوتی ہے تو تیری تسلّی میری جان کو شاد کرتی ہے۔‘‘
متی 4: 1
’’اُس وقت رُوح یسوعؔ کو جنگل میں لے گیا تاکہ ابلیس سے آزمایا جائے۔‘‘
کوئی ایماندار آزمائش کو ٹالنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ یسوعؔ کی طرح ڈٹ کر اُس کا سامنا اور مقابلہ کرتا ہے۔ جب جب شیطان ہمیں آزماتا ہے تو اُس کے شعلے پہلے سے سلگنے والی چنگاریوں پر گرتے ہیں لیکن مسیح کے معاملے میں یہ پانی پر شعلے برسانے کے مترادف تھا مگر پھر بھی دشمن نے اپنی برائی کا کام جاری رکھا۔ اب اگر ابلیس کوئی نتیجہ برآمد نہ ہونے کے باوجود اپنی ضربیں لگانا جاری رکھتا ہے تو ذرا سوچیں کہ وہ اُس وقت کتنی زیادہ ضربیں لگاتا جائے گا جب وہ جانتا ہے کہ ہمارے دِلوں میں پہلے ہی کس قدر آتش گیر مادہ بھرا ہُوا ہے ۔ چاہے روح القدس کے ذریعے آپ کی تقدیس پہلے ہی سے ہو چکی ہو پھر بھی یہ توقع رکھیں کہ جہنم کا یہ شکاری کتا متواتر آپ کے اوپر بھونکتا رہے گا۔ اِنسانوں کے بیچ تو ہم آزمائے جانے کی توقع رکھتے ہی ہیں لیکن تنہائی بھی ہمیں اِس آزمائش سے نہیں بچا سکتی کیونکہ یسوعؔ مسیح کو انسانی معاشرے سے بہت دُور ایک بیابان میں لے جایا گیا اور وہاں وہ ابلیس سے آزمایا گیا۔ تنہائی کی اپنی رنگینیاں اور فوائد ہوتے ہیں کیونکہ یہ آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے مگر ابلیس ہماری خلوت کے انتہائی تاریک گوشوں میں بھی ہمارا پیچھا کرنا نہیں چھوڑے گا۔ یہ گمان نہ کریں کہ صرف دُنیا دار لوگوں کو ہی ہولناک خیالات اور کفریہ آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ روحانی ذہن رکھنے والے لوگ بھی اِسی سے گزرتے ہیں اور مقدس ترین مقام پر بھی ہمیں تاریک ترین آزمائش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رُوح کی انتہائی وقف شدہ وفاداری بھی آپ کو شیطانی آزمائش کے خلاف کوئی ضمانت فراہم نہیں کرے گی کیونکہ مسیح مکمل طور پر وقف اور مخصوص ہو چکا تھا بلکہ اُس کا اوڑھنا بچھونا اور کھانا پینا بھی یہی تھا کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کو پورا کرے مگر پھر بھی وہ آزمایا گیا! آپ کے دِل یسوعؔ کی محبت کے شعلوں سے دہک رہے ہوں گے اور پھر بھی ابلیس آپ کو لودیکیہ جیسی نیم گرمی کی طرف لانے کی سرتوڑ کوشش جاری رکھے گا۔ اگر آپ مجھے یہ بتا سکیں کہ خُدا کب ایک مسیحی کو اپنے روحانی ہتھیار اُتارنے کی اجازت دیتا ہے تو مَیں آپ کو بتا دوں گا کہ اُس وقت جب شیطان آپ کی آزمائش کرنا چھوڑ دے گا۔ پرانے جنگجوؤں کی طرح ہمیں سوتے وقت بھی اپنے روحانی ہتھیاروں سے لیس رہنا چاہئے کیونکہ وہ بڑا دھوکے باز ہماری چھوٹی سی غفلت کا فائدہ اُٹھا کر ہمیں دبوچ سکتا ہے ۔ پس ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم ہر وقت ہوشیار اور بیدار رہیں اور خُدا کی مدد سے اِس گرجنے والے شیر ببر کے جبڑوں سے بچنے کے لئے اپنی روحانی جدوجہد کو جاری رکھیں۔