جمعرات، 5 فروری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

1۔ یوحنا 4: 14

’’باپ نے بیٹے کو دُنیا کا مُنجّی کر کے دُنیا میں بھیجا ہے۔‘‘
یہ ایک شیریں خیال ہے کہ یسوعؔ مسیح اپنے باپ کی اجازت، حاکمیت، رضا اور مدد کے بغیر دُنیا میں نہیں آیاتھا۔ اُسے باپ کی طرف سے اِس لئے بھیجا گیا ، تاکہ وہ بنی نوع انسان کا نجات دہندہ بنے۔ ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اگرچہ تثلیثِ اقدس کے تینوں اقانیم میں امتیازی فرق پائے جاتے ہیں ، لیکن اُن کے جوہر و جلال میں چنداں فرق نہیں۔ ہم اکثر اپنی نجات کی شان وشوکت، یا کم از کم اُس کی شفقت کے فضائل کا سہرا باپ سے زیادہ یسوعؔ مسیح کے سر باندھتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ اگر یسوعؔ آیا تو کیا اُس کے باپ نے اُسے نہیں بھیجا؟ اگر اُس کا کلام حیرت انگیز تھا، تو کیا اُس کے باپ نے اُس کے لبوں پر یہ فضل نہیں انڈیلا تھا کہ وہ نئے عہد کا ایک لائق خادم بنے؟ جو کوئی باپ، بیٹے اور روح القدس کو ویسے جانتا ہے جیسے جاننا چاہیے، تو وہ اپنی محبت میں کسی ایک کو دوسرے پر مقدم نہیں ٹھہراتا؛ وہ بیت الحم، گتسمنی اور کلوری پر اِن سب کو نجات کے کام میں برابر شریک دیکھتا ہے۔ اے مسیحی، کیا تُو یسوعؔ مسیح نامی کسی انسان پر ایمان لایا ہے؟ کیا تُو فقط اُسی پر توکل رکھتا ہے؟ اور کیا تُو اس کے ساتھ متحد ہے؟ تو یقین رکھ کہ تُو آسمان کے خدا کے ساتھ متحد ہے۔ چونکہ تُو انسانِ کامل یسوعؔ مسیح کا بھائی ہے اور اُس کے ساتھ گہری رفاقت رکھتا ہے، اس لیے تیرا رشتہ اُس کے وسیلہ سے ازلی خدا کے ساتھ جُڑا ہُوا ہے، اور وہ جو ’’قدیم الایام‘‘ ہے ، وہی تیرا باپ اور تیرا دوست ہے۔ کیا تُو نے کبھی یہوواہ کے دل میں پائی جانے والی محبت کی اِس گہرائی پر غور کیا ہے جس کے تحت خُدا باپ نے اپنے اکلوتے بیٹے کو فضل کا یہ کارہائے نمایاں انجام دینے کے لیے تیار کیا تھا؟ اگر نہیں، تو آج کا دن اِسی پر غور و فکر کر۔ باپ نے بیٹے کو دُنیا میں بھیجا! اِس مضمون پر دھیان گیان کر۔ سوچ کہ یسوعؔ کیسے وہی کام کرتا ہے جو باپ چاہتا ہے۔ جاں بلب نجات دہندہ کے زخموں میں اُس عظیم ’’مَیں جو ہوں ، سو مَیں ہوں‘‘ کی محبت کو دیکھ۔ یسوعؔ کے بارے میں ہر خیال کو اُس ازلی اور مبارک خُدا کے ساتھ جوڑ دے، کیونکہ ’’خداوند کو پسند آیا کہ اُسے کچلے۔ اُس نے اُسے غمگین کیا۔‘‘

متی 11: 25

’’اُس وقت یسوعؔ نے کہا۔۔۔‘‘
یہ آیتِ مبارکہ یسوعؔ کی شہرہ آفاق دُعاؤں میں سے ایک دُعا کے سیاق و سباق سے تعلق رکھتی ہے۔ یسوعؔ کہتا ہے، یسوعؔ بولتا ہے بلکہ یسوعؔ فرماتاہے۔ وہ جو کہتا ہے ، وہی ہوتا ہے کیونکہ وہ باپ کے دئیے ہوئے اختیار سے بولتا اور کلام کرتا ہے۔ یہاں پر یسوعؔ کے کہنے میں ایک دعائیہ انداز کے اندر باپ کے حضور مناجات اور درخواست پیش کرنے کا تاثر پایا جاتا ہے۔ اِس اعتبار سے یہ الفاظ ایک منفرد مفہوم پیش کرتے ہیں کہ جب یسوعؔ طوفانوں کو حکم دیتے ہوئے کچھ کہتا ہے تو اُس کا زورِ بیان اور اثر کچھ اَور ہوتا ہے، جب وہ کسی کو شفا دینے کے لئے کچھ کہتا ہے تو انداز فرق ہوتا ہے لیکن جب وہ باپ کے حضور دُعا کرتا ہے تو اُس کے کہنے پر ایک مؤدبانہ درخواست کا رنگ غالب آ جاتا ہے۔ جب وہ انسانوں سے کچھ کہتا ہے تو اُس کا انداز اَور ہوتا ہے مگر جب وہ باپ سے کچھ کہتا ہے تو اُس کے انداز میں ایک الگ لب و لہجہ پایا جاتا ہے جو محض تحریری کلام ہونے کی وجہ سے ہم دیکھ نہیں پاتے البتہ غور کرنے پر سمجھ ضرور سکتے ہیں کہ اِس وقت یسوعؔ کے بولنے کا انداز کیسا ہو گا۔ بولنے وقت آپ کا طرزِ تخاطب، لہجہ، تاثر اور اندازِ بیاں آپ کے مافی الضمیر کو پیش کر رہا ہوتا ہے۔ یسوعؔ کی کامل ذاتِ اقدس میں ہر انسانی رنگ اور انگ بدرجہ اُتم پایا جاتا تھا کیونکہ وہ کامل خُدا بھی تھا اور کامل انسان بھی۔ کہیں اُس کے کہنے سے خُدائی اختیار نمایاں جھلکتا ہے اور کہیں وہ باپ کے حضور ملتمس ہو کر عاجزانہ انداز اختیار کر لیتا ہے ۔ مگر ایک بات طے ہے کہ اُس کے اوپر ہر ایک انسان بخوبی جچتا ہے اور وہ خواہ کسی بھی انداز میں کچھ بھی کہے، وہ ہو کر رہتا ہے۔ انسانوں سے وہ جو کچھ کہتا ہے وہ الہامی اور الہٰی ہوتا تھا مگر جب باپ سے مخاطب ہوکر کچھ کہتا تو وہ التجا، درخواست اور فرمانبرداری کا مجسم مظہر بن جاتاتھا۔ ویسے تو ہم بخوبی جانتے ہیں کہ یسوعؔ ہمہ وقت اپنے باپ کی رفاقت میں رہتا ، چلتا اور بولتا تھا مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ دُنیا میں جیسے یسوعؔ تھا ویسے ہی ہم بھی ہیں۔ ہمیں بھی چاہئے کہ دُنیا کے سامنے جب بھی کچھ کہیں تو ہماری باتوں سے اپنے خداوند یسوعؔ مسیح کے اختیار، کلام اور جلال کی جھلک دکھائی دے مگر جب اپنے آسمانی باپ سے مخاطب ہوں تو ہمارے اندازِ بیاں میں یسوعؔ جیسی فرمانبرداری، عاجزی اور تابعداری نمایاں نظر آنی چاہئے۔ آئیے آج کی شام، ہم بھی عین اِسی انداز میں اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت اور مدد و رہنمائی کے لئے باپ سے درخواست کریں ۔
31