پیر، 16 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

زبور 39: 12

’’مَیں تیرے حضور پردیسی ہُوں۔‘‘
ہاں، اے خداوند، مَیں اِس دُنیا میں پردیسی ضرور ہُوں ، لیکن تجھ سے بیگانہ نہیں۔ میری وہ تمام فطری دُوری جو تجھ سے تھی، تیرے فضل نے مؤثر طور پر ختم کر دی ہے۔ اور اب، تیری رفاقت میں، مَیں اِس گُناہ آلود دُنیا میں ایک ایسے مسافر کی طرح جیتا اور چلتا ہوں جو کِسی پردیس میں ہو۔ تُو خُود بھی اپنی ہی بنائی ہوئی دُنیا میں ایک اجنبی ہے۔ اِنسان تجھے بھول جاتا ہے، تیری بے حرمتی کرتا ہے، نئے قوانین اور بیگانہ رسم و رواج قائم کرتا ہے، اور تجھے نہیں پہچانتا۔ جب تیرا پیارا بیٹا اپنے لوگوں کے پاس آیا، تو اُس کے اپنوں نے ہی اُسے قبول نہ کِیا۔ وہ دُنیا میں تھا، اور دُنیا بھی اُسی کے وسیلہ سے پیدا ہوئی تھی، مگر پھر بھی دُنیا نے اُسے نہ پہچانا۔ کِسی بھی ملک کے باشندوں کے درمیان کوئی پردیسی اِتنا عجیب و غریب نہ تھا جتنا کہ تیرا پیارا بیٹا اپنے وطن اور اپنے بھائیوں کے درمیان اجنبی تھا۔ پس، اِس میں کوئی تعجب کی بات نہیں اگر مَیں، جو یسوعؔ کی زندگی جیتا ہوں، اِس زمین پر انجان اور پردیسی بن کر رہوں۔ اے خداوند، مَیں اُس وطن کا شہری نہیں بننا چاہتا جہاں یسوعؔ ایک اجنبی تھا۔ اُس کے چھیدے ہوئے ہاتھوں نے اُن رسیوں کو ڈھیلا کر دیا ہے جِنہوں نے کبھی میری رُوح کو زمین سے باندھ رکھا تھا، اور اب مَیں اِس سرزمین میں خود کو ایک پردیسی کے طور پر دیکھتا اور محسوس کرتا ہوں۔ میری گفتگو اِن بابلیوں کو، جِن کے درمیان مَیں بستا ہوں، ایک اجبنی زبان معلوم ہوتی ہے، میرے طور طریقے منفرد ہیں، اور میرے کام اُن کے لئے عجب ہیں۔ ایک تاتاری کِسی بھی گُنہگاروں کی بستی کے مقابلے میں خود کو زیادہ سکون میں محسوس کرے گا ۔ لیکن میرے نصیب کی مٹھاس یہ ہے کہ مَیں تیرے حضور پردیسی ہوں یعنی تُو میرا ہمدرد اور میرا ہم سفر مسافر ہے۔ آہ، ایسی مُبارک رفاقت میں رہ کر دو پردیسیوں کا ایک اجنبی سرزمین پر چلنا پھرنا ایک دوسرے کے لئے کس قدر خوشی اور خرمی کی بات ہے! جب تُو راہ میں مجھ سے کلام کرتا ہے تو میرا دِل سینے میں مچلنے لگتا ہے، اور اگرچہ مَیں ایک پردیسی ہوں، مَیں تخت نشینوں سے کہیں زیادہ مُبارک ہوں، اور اُن سے کہیں زیادہ اپنے گھر میں ہوں جو اپنے فصیلدارمکانوں میں بستے ہیں۔
میرے لیے نہ کوئی جگہ باقی ہے، نہ وقت،
میرا وطن تو ہر آب و ہوا میں ہے،
مَیں کِسی بھی ساحل پر پُرسکون اور بے فکر رہ سکتا ہوں،
کیونکہ خُدا وہاں موجود ہے،
جب ہم جگہ ڈھونڈتے ہیں، یا جگہ سے بھاگتے ہیں،
تو رُوح کِسی میں بھی خوشی نہیں پاتی،
لیکن راہ دکھانے کے لیے اگر خُدا ساتھ ہو،
تو جانے یا ٹھہرنے میں یکساں خوشی ہے۔

زبور 19: 13

’’تُو اپنے بندے کو بیباکی کے گُناہوں سے باز رکھ۔‘‘
یہ اُس شخص کی دُعا تھی جو خُدا کے دِل کے موافق تھا۔ کیا مُقدّس داؤدؔ کو ایسی دُعا کرنے کی ضرورت تھی؟ تو پھر ہم جیسے فضل کے فرزندوں کے لیے ایسی دُعا کس قدر زیادہ ضروری ہوگی! یہ ایسا ہی ہے جیسے اُس نے کہا ہو کہ ’’ مجھے دانستہ گناہوں سے باز رکھ، ورنہ مَیں گُناہ کی کھائی میں سر کے بل جا گروں گا ‘‘۔ ہماری بُری فطرت، ایک بد مزاج اور اکھڑ گھوڑے کی طرح، فوراً سرپٹ بھاگنے پر تُل جاتی ہے۔ دُعا یہی ہے کہ خُدا کا فضل اِس پر لگام ڈالے اور اِسے تھامے رکھے تاکہ یہ بدکرداری میں نہ جا پڑے۔ ہم میں سے بہترین اِنسان بھی کیا کچھ نہ کر گزرتا اگر خداوند اپنی مشیت اور فضل کے ذریعے ہمیں روک نہ لیتا! زبور نویس کی دُعا گُناہ کی بدترین شکل کے خلاف ہے یعنی وہ گُناہ جو سوچ سمجھ کر اور جان بوجھ کر کِیا جائے۔ یہاں تک کہ مُقدّس ترین لوگوں کو بھی غلیظ ترین خطاؤں سے باز رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک سنجیدہ بات ہے کہ ہم پولسؔ رسول کی جانب سے بھی مُقدّسین کو ایسے گھناؤنے گُناہوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ’’ پس اپنے اُن اعضا کو مُردہ کرو جو زمین پر ہیں یعنی حرامکاری، ناپاکی، شہوت، بُری خواہش اور لالچ کو جو بُت پرستی کے برابر ہے ‘‘۔ کیا مُقدّسین کو ایسے گُناہوں کے خلاف تنبیہ کی ضرورت ہے؟ جی ہاں، اُنہیں ضرورت ہے۔ جب تک الٰہی فضل سے پاکیزگی کی حفاظت نہ کی جائے، سفید ترین لباس بھی سیاہ ترین داغوں سے آلودہ ہو جانے کا احتمال رہتا ہے۔اے آزمودہ مسیحی! اپنے تجربے پر فخر نہ کر۔ اگر تُو نے ایک لمحے کے لئے بھی اُس کی طرف سے نظر ہٹائی جو تُجھے گِرنے سے بچانے کی قدرت رکھتا ہے، تو تُو ٹھوکر کھا جائے گا۔ تُو جنہیں بے حد عزیز رکھتا ہے ، جِن کا اِیمان مستقل ہے، جِن کی اُمیدیں روشن ہیں، یہ نہ کہیں کہ ’’ ہم کبھی گُناہ نہیں کریں گے ‘‘، بلکہ یہ التجا کرتے رہیں کہ ’’ ہمیں آزمائش میں نہ لا ‘‘۔ بہترین اِنسان کے دِل میں بھی اِتنا بارود موجود ہے کہ اُس سے جہنم کی آگ بھڑک اٹھے، جب تک کہ خُدا اُن چنگاریوں کو بُجھا نہ دے۔ کس نے سوچا تھا کہ راست باز لُوطؔ نشے کی حالت میں اور ناپاکی میں پایا جائے گا؟ حزائیلؔ نے کہا تھا کہ ’’ تیرے خادم کی جو کُتے کے برابر ہے حقیقت ہی کیا ہے جو ایسی بڑی بات کرے؟ ‘‘ اور ہم بھی اکثر یہی خود پسندانہ سوال کرنے کے عادی ہیں۔ کاش خُدا کی لامتناہی حکمت ہمیں اِس خود اعتمادی کی دیوانگی سے نجات عطا کرے۔
9