منگل، 10 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

زبور 30: 6

’’ مَیں نے اپنی اِقبال مندی کے وقت یہ کہا تھاکہ مُجھے کبھی جُنبش نہ ہو گی۔‘‘
’’ موآبؔ بچپن ہی سے آرام سے رہا ہے اور اُس کی تلچھٹ تہ نشین رہی ۔‘‘ کسی انسان کو دولت دے دو، اُس کے بحری جہازوں کو مسلسل قیمتی مال لانے دو، ہواؤں اور لہروں کو اُس کی کنیزیں بننے دو تاکہ وہ اُس کی کشتیوں کو اتھاہ گہرائیوں کے سینے پر سے پار لے جائیں، اُس کی زمینوں کو کثرت سے پھل لانے دو، موسم کو اُس کی فصلوں کے موافق پھلنے پھولنے دو، بلا تعطل کامیابی کو اُس کا ساتھ دینے دو، اُسے لوگوں کے درمیان ایک کامیاب تاجر کے طور پر مستحکم ہونے دو، اُسے مسلسل تندرستی سے لطف اندوز ہونے دو، اُسے مضبوط اعصاب اور روشن آنکھوں کے ساتھ دُنیا میں سر اُٹھا کر چلنے دو، اُسے زندہ دلی عطا کرو، اُس کے لبوں پر ہمیشہ گیت رہنے دو، اُس کی آنکھیں ہمیشہ خوشی سے چمکتی رہنے دو ، تو ایسی پرآسائش کیفیت کا فطری نتیجہ کسی بھی انسان کے لئے، خواہ وہ اب تک کا بہترین مسیحی ہی کیوں نہ ہو، خود پسند اور متکبر ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ داؤدؔ نے بھی اپنی اِقبال مندی کے وقت یہ کہا تھا کہ ’’مُجھے کبھی جُنبش نہ ہو گی‘‘ اور ہم داؤدؔ سے بہتر نہیں ہیں بلکہ اُس کے نصف برابر بھی نیک نہیں ہیں۔بھائیو! راستے کے ہموار مقامات سے خبردار رہو۔ اگر راستہ کٹھن ہے، تو اس پر خُدا کا شکر ادا کرو۔ اگر خُدا ہمیں ہمیشہ خوشحالی کے جھولے میں جُھلاتا رہتا، اگر ہمیں ہمیشہ قسمت کی گود میں کھلایا جاتا، مخمل کے بستروں پر سُلایا جاتا ، اگر ہمارے سنگِ مرمر کے ستون پر کوئی داغ نہ ہوتا، اگر آسمان پر چند بادل نہ ہوتے، اگر ہماری اِس زندگی کی مے میں چند کڑوے قطرے نہ ہوتے، تو ہم لذت کے نشے میں چُور ہو جاتے۔ ہم یہ خواب دیکھنے لگتے کہ ’’ہمیں کبھی جنبش نہ ہوگی‘‘۔ مگر ہمارا یہ قیام ایک بلند مینار کی چوٹی ، یا جہاز کے مستول پر سوئے ہوئے آدمی کی طرح ہے ، جو ہر لمحہ خطرے میں ہو۔ ہم اپنی مصیبتوں کے لئے خُدا کو مبارک کہتے ہیں۔ ہم اپنی اقبالمندیوں کے لئے اُس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ہم جائیداد کے نقصان پر اُس کے نام کی ستائش کرتے ہیں کیونکہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگر اُس نے ہماری اِس اِس طرح تنبیہ و تادیب نہ کی ہوتی، تو شاید ہم خُود کو بہت بڑا طُرم خان سمجھنے لگ جاتے ۔ مسلسل دنیوی خوشحالی ایک آگ کے کھیل جیسی آزمائش ہے۔
؎ مصیبتیں اگرچہ بظاہر سخت معلوم ہوتی ہیں
لیکن اکثر رحمت ہی بن کر آتی ہیں۔

ایوب 14: 1

’’انسان ۔۔۔تھوڑے دِنوں کا ہے اور دُکھ سے بھرا ہے۔‘‘
سونے سے پہلے ہر روز اِس سنجیدہ اور پُرملال حقیقت کو یاد کرنا ہمارے لیے بڑی برکت کا باعث ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ خیال ہمیں دُنیا اور دُنیاداری کی اصل حقیقت کو یاد رکھنے اور دُنیا داری سے بچ کر رہنے کی طرف مائل کر سکتا ہے۔ اِس یادگاری میں کوئی ایسی بہت خوش آئند بات نہیں کیونکہ ہم آفتوں کے تِیروں سے بالا تر نہیں ، مگر یہ چیز ہمیں فروتن کر سکتی اور ہمیں اپنے صبح کے کلام میں زبور نویس کی طرح بے جا فخر کرنے سے باز رکھ سکتی ہے کہ ’’ مَیں نے اپنی اِقبال مندی کے وقت یہ کہا تھاکہ مُجھے کبھی جُنبش نہ ہو گی‘‘۔ یہ خیال ہمیں اِس مٹی میں بہت گہری جڑیں پکڑنے سے باز رکھ سکتا ہے جِس سے نکال کر ہمیں بہت جلد آسمانی باغ میں منتقل کر دیا جائے گا۔ آئیے ہم اُن عارضی نعمتوں کی ناپائیداری کو یاد کریں جِن پر ہم اپنی دانست کے مطابق اختیار رکھتے ہیں ۔ اگر ہم یاد رکھیں کہ کائنات کے مالک نے زمین کے تمام درختوں پر کلہاڑے کی مدد سے کاٹ ڈالنے کا نشان لگا رکھا ہے ، تو ہم اُن پر اپنے گھونسلے بنانے کے لیے اِتنے بیتاب نہ ہوتے۔ ہمیں محبّت تو کرنی چاہیے، مگر ایسی محبّت جس میں موت کی توقع اور اِس دُنیا سے ابدی جُدائی کے خیالات شامل ہوں۔ ہمارے تمام عزیز و اقارب ہمیں فقط مستعار دئیے گئے ہیں، اور وہ گھڑی جِس میں ہمیں اُنہیں قرضخواہ کو واپس لوٹانا ہے، شاید دہلیز پر ہی کھڑی ہو۔یہی بات یقیناً ہمارے دُنیوی مال و اسباب پر بھی صادق آتی ہے۔ کیا دولت پَر لگا کر اُڑ نہیں جاتی ؟ ہماری صحت بھی اِسی طرح غیر یقینی ہے۔ ہم تو میدان میں لگے وہ ناتواں پھول ہیں، جنہیں ہمیشہ کھِلے رہنے کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ کمزوری اور بیماری کا ایک وقت مقرر ہے، یعنی وہ لمحات جن میں ہمیں سرگرمی کی بجائے دُکھوں کے ذریعے خُدا کی تمجید کرنا پڑے گی۔ کوئی ایک نکتہ بھی ایسا نہیں جِس میں ہم مصیبت کے تیز تِیروں سے بچنے کی اُمید کر سکیں۔ ہمارے تھوڑے سے دِنوں میں سے ایک بھی دِن اِس دُنیا کے دُکھوں سے خالی نہیں۔ اِنسان کی زندگی کڑوی مے کا گھڑا ہے۔ جو اِس میں خوشی ڈھونڈتا ہے اُسے چاہیے کہ جا کر نمکین سمندر میں شہد تلاش کرے۔ عزیز قاری! دُنیا کی چیزوں سے دِل نہ لگائیں بلکہ عالمِ بالا کی چیزوں کو تلاش کریں کیونکہ یہاں کِیڑا کھا جاتا ہے اور چور نقب لگاتے ہیں، مگر وہاں تمام خوشیاں دائمی اور ابدی ہیں۔ مُصیبت کا راستہ ہی اپنے ابدی گھر کو جانے کا حقیقی راستہ ہے۔ اے خداوند! اِس خیال کو بہت سے تھکے ہوئے سروں کے لئے آرام دہ تکیہ بنا دے!
10