منگل، 3 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

یسعیاہ 48: 10

’’مَیں نے مصیبت کی کُٹھالی میں تجھے صاف کیا۔‘‘
اےآزمودہ ایماندار، اِس خیال سے خود کو تسلی دے کہ تیرا خُدا یہ فرماتا ہے، ’’مَیں نے مصیبت کی کُٹھالی میں تجھے صاف کیا ۔‘‘ کیا یہ کلام ایک ہلکی بارش کی مانند نہیں ، جو آگ کی شدت کو کم کر دے؟ ہاں، کیا یہ ایک ایسی زرّہ نہیں ہے، جس پر حرارت کا کوئی زور نہیں چلتا؟ مصیبت آنے دو، کیونکہ خُدا نے مجھے اُس کے ذریعہ سے صاف کیا ہے۔ اے افلاس، تُو میرے دروازے سے اندر آ سکتا ہے، لیکن خُدا پہلے سے گھر میں موجود ہے، اور اُس نے مجھے تیرے وسیلہ سے صاف کیا ہے۔ اے بیماری، تُو داخل ہو سکتی ہے، لیکن میرے واسطے ایک مرہم پہلے سے تیار رکھا ہے کیونکہ میرے خُدا کا مقصد مجھے پاک اور صاف کرناہے۔ اِس آنسوؤں کی وادی میں مجھ پر جو کچھ بھی گزرے، مَیں جانتا ہوں کہ مجھے ’’صاف‘‘ کرنے کے لئے ہے۔ اے ایماندار، اگر تجھے اَور بڑی تسلی کی ضرورت ہے، تو یاد رکھ کہ اِس کُٹھالی میں خُدا کا بیٹا بھی تیرے ساتھ ہے۔ تیری خلوت گاہ میں تیرے ساتھ، وہ تیرے پہلو میں بیٹھا ہے جسے تُو نے دیکھا نہیں، لیکن جس سے تُو محبت کرتا ہےاور اکثر جب تجھے پتا بھی نہیں ہوتا، وہ تیری مصیبت میں تیرا بستر بچھاتا ہے اور تیرے لیے تیرا تکیہ نرم کرتا ہے۔ تُو دُکھ میں ہےلیکن تیرے اِس پیارے گھر میں زندگی اور جلال کا مالک اکثر آتا رہتا ہے۔ وہ اِن ویران جگہوں پر آنا پسند کرتا ہے، تاکہ تجھ سے ملاقات کر سکے۔ وہ تیرا ایسا دوست ہے جو ہر وقت تیری پٹی سے لگا رہتا ہے۔ تُو اُسے دیکھ نہیں سکتا، لیکن تُو اُس کے ہاتھوں کا لمس محسوس کر سکتا ہے۔ کیا تُو اُس کی آواز نہیں سنتا؟ موت کے سایہ کی وادی میں بھی وہ کہتا ہے، ’’خوف نہ کر، مَیں تیرے ساتھ ہوں۔ ہراساں نہ ہو، کیونکہ مَیں تیرا خُدا ہوں۔‘‘ قیصر کا وہ مشہور قول یاد کر کہ ’’ڈر مت ، قیصر اور اُس کی ساری سلطنت تیرے ساتھ ہے۔‘‘ خوف نہ کر، اے مسیحی؛ تیرا خداوند ، تیرا منجی، تیرا چھڑانے والا، تیرایسوعؔ تیرے ساتھ ہے۔ تیری تمام آتشیں آزمائشوں میں، اُس کی حضوری اور اُس کا کلام تیری تسلی اور حفاظت ہے۔ وہ اُسے کبھی نہیں چھوڑے گا جسے اُس نے اپنے لئے پاک صاف کیا ہے۔ ’’خوف نہ کر، کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہوں،‘‘ مصیبت کی بھٹی میں پاک صاف کئے گئے لوگوں کا استحقاق اور مقام بہت بڑا ہے جیسے سدرکؔ میسک اور عبدنجوؔ۔ تو پھر کیا تُو مسیح کو مضبوطی سے نہیں تھامے گا اور یہ نہیں کہے گا کہ سیلابوں اور شعلوں میں بھی ، اگر یسوعؔ میرے ساتھ ہے ، تو جہاں وہ جائے گا مَیں اُس کے پیچھے چلوں گا۔

متی 3: 16

’’اُس نے خُدا کے رُوح کو کبوتر کی مانند اُترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا۔‘‘
جس طرح خُدا کا رُوح خداوند یسوعؔ پر نازل ہُوا جو کلیسیا کا سر ہے، اِسی طرح وہ ایک خاص حد تک اُس کے روحانی بدن کے اعضا یعنی ہم ایمانداروں پر بھی نازل ہوتا ہے۔ ہم پر اُس کا نزول عین اُسی طرح ہوتا ہے جس طرح وہ ہمارے خداوند پر نازل ہُوا تھا۔ البتہ اِس میں اکثر ایک خاص قوت اور اندیکھی قدرت پائی جاتی ہے۔ رُوح القدس کا مسح حاصل ہوتے ہی ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم یکایک آسمان پر اُٹھا لئے گئے ہوں۔ رُوح القدس کو اِسی لئے کبوتر سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ وہ بہت نرم و گداز مگر مہیب ہونے کی وجہ سے بہت زور آور بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات رُوح القدس کا نزول بڑی ملائمت کے ساتھ ہم پر جاری ہوتا ہے جیسے خداوند کی دھیمی اور ہلکی آواز یا جیسے شبنم کی پھوار۔ کبوتر ہمیشہ سے پاکیزگی کی علامت رہا ہے، اور رُوح القدس خود سراسر پاکیزگی ہے۔ جہاں وہ آتا ہے، وہاں ہر پاک، پوتر اور مقدس ہو جاتی ہے۔ خُدا کا فضل کثرت سے جاری ہو جاتاہے، نیز ہر قسم کا گناہ اور ناپاکی جاتی رہتی ہے۔ جہاں جہاں پاک رُوح اپنی قدرت کے ساتھ آتا ہے وہاں ابتری کی جگہ امن قائم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی چونچ میں زیتون کی تازہ پتی لے کر آتا ہے جس کا مطلب ہے کہ خُدا کا غضب تھم چکا ہے۔ حلیمی اس روحِ اقدس کی ایک جداگانہ پہچان اور اس کی زندگیوں کو تبدیل کر دینے والی قدرت کا یقینی نتیجہ ہے کہ وہ دِل جنہیں یہ اپنے مسح کے وسیلہ سے چھو لیتا ہے اُن کے اندر بھی وہی فروتنی اور خاکساری جاگزین ہو جاتی ہے جو رُوح القدس کا خاصہ ہے۔ کبوتر ایک بے ضرر پرندہ ہے جو فطری طور پر بے حد حساس اور امن پسند ہوتا ہے۔ عقاب اور چیلیں کوّے اپنے شکار کا پیچھا کر سکتے ہیں مگر کبوتر کو جھپٹنا نہیں آتا ۔ کتابِ مقدس میں بھی ہمیں کبوتروں کی طرح بے ضرر بننے کا حکم دیا گیا ہے ۔ پھر کبوتر محبت کی ایک موزوں تصویر ہے اور فاختہ کی آواز ویسے بھی اُلفت سے بھری ہوتی ہے۔ اس لیے وہ زندگی جس میں رُوح القدس سکونت کرتا ہے اُس کے لئے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ ہر کسی کے ساتھ خُدا کی محبت اور برادرانہ کی محبت سے لبریز ہو جائے۔ تخلیق کے وقت گہراؤ پر اندھیرا تھا مگر خُدا کے اِسی رُوح کی جنبش کے وسیلہ سے ترتیب ، تنظیم اور زندگی جاری ہوئی۔ اِسی طرح وہ ہماری ویران اور سنسنان زندگیوں میں بھی نئی زندگی اور روشنی پیدا کرتا ہے ۔ اے پاک رُوح ! جیسے تُو ہمارے پیارے خُداوند پر ٹھہرا تھا بالکل ویسے ہی اِس وقت سے لے کر ہمیشہ تک ہم پر بھی نازل ہو اور ہمارے ساتھ رہ۔
9