بدھ، 4 فروری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

ہوسیع 3: 1

’’خداوند محبت رکھتا ہے۔‘‘
اے ایماندار، اپنے تمام تجربات پر نظر ڈال، اور اُس راستے کے بارے میں سوچ جس پر خداوند تیرے خدا نے بیابان میں تیری رہنمائی کی، اور کیسے اس نے تُجھے ہر روز کھلایا اور پہنایا، کیسے اُس نے تیری بدکرداریوں کو برداشت کیا، کیسے اُس نے تیری ساری بڑبڑاہٹ اور مصر کے گوشت کی ہانڈیوں کے لیے تڑپ کو سہا، کیسے اُس نے تیری آسودگی کے لیے چٹان کا منہ کھول دیا، اور تجھے آسمانی من کھلایا۔ اِس س بات پر غور کر کہ کیسے اُس کا فضل تیری سب مصیبتوں میں تیرے لیے کافی رہا، کیسے اُس کا خون تیرے سب گناہوں کی معافی بنا، کیسے اُس کی لاٹھی اور اس کے عصا نے تجھے تسلی دی۔ جب تُو اِس طرح خداوند کی محبت پر پیچھے نظر ڈال چکا ہو، تو پھر ایمان کے ساتھ مستقبل میں اُس کی محبت کا جائزہ لے، کیونکہ یاد رکھ کہ مسیح کے عہد اور خون میں ماضی سے بڑھ کر بھی کچھ ہے۔ جس نے تجھ سے محبت رکھی اور تجھے معاف کیا، وہ کبھی محبت رکھنا اور معاف کرنا نہیں چھوڑے گا۔ وہ الفا ہے، اور وہی اومیگا بھی ہوگا؛ وہ اول ہے، اور وہی آخر بھی ہوگا۔ اِس لیے، جان لے کہ جب تُو موت کے سایہ کی وادی میں سے گزرے گا، تو تجھے کسی شریر کے شر سے ڈرنے کی قطعاً ضرورت نہیں، کیونکہ تیرا خُدا تیرے ساتھ ہے۔ جب تُو یردن کی ٹھنڈی لہروں میں کھڑا ہوگا، تو اُس وقت بھی تجھے ڈرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ موت تجھے اُس کی محبت سے جُدا نہیں کر سکتی بلکہ جب تُو ابدیت کے سر بستہ رازوں میں داخل ہوگا تو اُس وقت بھی تجھے کانپنے کی ضرورت نہیں ہوگی ، ’’کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ خُدا کی جو محبت ہمارے خداوند یسوعؔ مسیح میں ہے اُس سے ہم کو نہ موت جُدا کر سکے گی نہ زندگی۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں۔ نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں۔ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی ۔ نہ کوئی اَور مخلوق۔‘‘ اب، اے میری روح، کیا اِس سے تیری محبت تازہ نہیں ہوئی؟ کیا یہ پیغام تجھے یسوعؔ سے محبت کرنے پر مجبور نہیں کرتا؟ کیا محبت کی اِس لامتناہی فضا میں اُڑان تیرے دِل کو گرما نہیں دیتی اور تجھے خداوند اپنے خدا میں مگن ہونے پر مائل نہیں کرتی؟ یقیناً جب جب ہم ’’خداوند کی محبت‘‘ پر غور کرتے ہیں، تو ہمارے دِل ہمارے اندر جوش سے اُچھلنے لگتے ہیں، اور ہمارے اندر اِس سے زیادہ محبت کا اظہار کرنے کی لگن بیدار ہونے لگتی ہے۔

یشوع 20: 3

’’اور وہ خون کے انتقام لینے والے سے تمہاری پناہ ٹھہریں۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ کنعان کی سرزمین میں پناہ کے شہر اِ س طرح ترتیب دئیے گئے تھے کہ کوئی بھی شخص زیادہ سے زیادہ آدھے دِن کے اندر اُن میں سے کسی ایک تک بآسانی پہنچ سکتا تھا۔ بالکل اِسی طرح ہماری نجات کا کلام ہمارے قریب ہے؛ یسوعؔ ایک ہمیشہ حاضر رہنے والا نجات دہندہ ہے، اور اُس تک پہنچنے کا راستہ بہت ہی آسان اور مختصر ہے۔ اُس تک پہنچنے کے لئے آپ کوفقط اپنی خُودی سے انکار اور یسوعؔ کا اقرار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پناہ کے شہر کے راستوں کے بارے میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ اُن کی سختی سے حفاظت کی جاتی تھی، ہر دریا پر ایک پُل بنایا گیا تھا، اور ہر رکاوٹ دُور کر دی گئی تھی، تاکہ بھاگنے والے کو شہر تک پہنچنے میں کوئی چیز مانع نہ رہے ۔ سال میں ایک بار بزرگ اُن راستوں کا معائنہ کرتے تھے تاکہ کوئی چیز اُس راستے کی روانی میں حائل نہ ہو اور تاخیر کی وجہ سے اُس شہر میں پناہ کے متمنی شخص کو راستے ہی میں دبوچ کر قتل نہ کر دیا جائے۔ انجیل کے وعدے بھی اِسی انداز میں ہمارے سب راستوں سے ٹھوکر کھانے کے پتھروں کو ہٹا دیتے ہیں! جہاں کہیں سے بھی ذیلی راستے نکلتے یا اُن کے موڑ آتے، وہاں باقاعدہ نشانات نصب کیے جاتے تھے ، جن پر لکھا ہوتا تھا’’پناہ کا شہر اِس طرف ہے!‘‘یہ مسیح یسوعؔ کی طرف جانے والے راستے کی ایک تصویر ہے۔ یہ شریعت کا کوئی گول چکر نہیں ہے ، اِس میں پہلے فلاں فلاں حکم کو مانو جیسے کوئی ضابطے نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک سیدھا راستہ ہے کہ ’’ایمان لاؤ اور زندگی پاؤ۔‘‘ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو خُود کو راستباز سمجھنے والوں کے لئے اتنا دشوار ہے کہ وہ اِس پر کبھی نہیں چل سکتے ، لیکن اتنا آسان بھی ہے کہ خود کو سزا کے لائق سمجھنے والا ہر تائب گنہگار ، اِس پر چل کر آسمان تک بآسانی پہنچ سکتا ہے۔جیسے ہی کوئی خُونی ، شہر کی حدود تک پہنچتا، وہ محفوظ ہو جاتا۔ اُس کے لیے فصیلوں کے بہت اندر تک جانا ضروری نہیں تھا، بلکہ شہر کے مضافات ہی اُس کی حفاظت کے لیے کافی تھے۔ یہاں سے یہ سیکھئے کہ اگر آپ صرف مسیح کی پوشاک کا کنارا ہی چھو لیں گے ، تو آپ اچھے ہو جائیں گے ۔ گویا ، اگر آپ اپنے دِل میں فقط ’’رائی کے دانے جتنا ایمان‘‘ پیدا کر لیں اور اُسے تھام کر رکھیں ، تو آپ محفوظ ہیں۔
؎ تیرا ذرہ سا فضلِ حقیقی
میرے گناہوں کے لئے کافی
بس وقت ضائع نہ کریں اور راستے میں دیر نہ کریں، کیونکہ خون کا انتقام لینے والا ، بلاکا تیز رفتار ہے؛ اور ہو سکتا ہے کہ شام کے اِس پرسکون وقت میں وہ آپ کے بالکل قریب ہو۔
27