ہفتہ، 7 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

مرقس 11: 22

’’خُدا پر ایمان رکھو۔‘‘
اِیمان ، انسان کا وہ پاؤں ہے جِس کی مدد سے وہ خُدا کے اَحکام کی راہ پر چلتا ہے۔ محبّت قدموں کی رفتار کو تیز کر سکتی ہے مگر اِیمان روحانی زندگی میں ہمیں آگے بڑھاتا ہے۔ اِیمان وہ تیل ہے جو مقدّس بندگی اور سچّی پارسائی کے پہیوں کو روانی بخشتا ہےاور اِیمان کے بغیر روحانی زندگی بالکل ویسے ہے جیسے پہیوں کے بغیر گاڑی ۔ اِیمان کے ساتھ مَیں سب کچھ کر سکتا ہوں لیکن اِیمان کے بغیر مَیں خُدا کی طرف مائل ہُوں گا نہ خدا کی خدمت کے لیے مجھ میں کچھ زور ہو گا۔ اگر آپ خدا کی بہترین خدمت انجام دینے والے مقدسین کو تلاش کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو سب سے زیادہ اِیمان رکھنے والے لوگوں کو ڈھونڈنا ہوگا۔ چھوٹا اِیمان اِنسان کو بچا تو لے گا، لیکن وہ خُدا کے لیے کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ بیچارہ کمزور اِیمان رکھنے والا ایماندار ابلیس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھااِس کے لیے ایک مضبوط مسیحی ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمزور اِیمان والا مایوسی و نااُمیدی کے عفریت کا قلع قمع نہیں کر سکتا کیونکہ اِس دیو کو گرانے کے لیے ایک روحانی دلیری اور مضبوط ایمان کی ضرورت ہوتی ہے ۔ چھوٹے اِیمان والا بھی یقیناً آسمان پر جائے گا لیکن اُس کے جلالی تاج پر زیادہ جواہرات نہیں ہوں گے۔ کمزور اِیمان کہتا ہے کہ یہ راستہ کٹھن ہے، نوکیلے کانٹوں سے بھرا اور نہایت پُرخطر ہے۔ مجھے اِس پر چلنے سے خوف آتا ہے لیکن بڑا اِیمان اِس وعدے کو یاد رکھتا ہے کہ ’’تیرے بینڈے لوہے اور پیتل کی مانند ہوں گے اور جیسے تیرے دِن ویسی ہی تیری قوت ہو ‘‘ اور اِسی کے بل بُوتے پر وہ کمال دلیری سے میدانِ عمل میں کُود پڑتا ہے۔کمزور اِیمان والا مایوسی کے عالم میں کھڑا ٹسوے بہا رہا ہوتا ہے لیکن اُس وقت بڑا اِیمان یہ گیت گا رہا ہوتا ہے کہ ’’جب تُو سیلاب میں سے گُذرے گا تو مَیں تیرے ساتھ ہوں گا اور جب تُو ندیوں کو عبور کرے گا تو وہ تُجھے نہ ڈُبائیں گی‘ ‘اور وہ مصیبتوں کے ہر دریا کو عبور کر جاتا ہے۔ کیا آپ پُرسکون اور خوش رہنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ دِینداری سے لُطف اندوز ہونا چاہتے ہیں؟ کیا آپ ایسی دِینداری چاہتے ہیں جو اُداسی کی بجائے شادمانی سے بھرپور ہو؟ تو پھر خدا پر اِیمان رکھیں۔ اگر آپ کو تاریکی پسند ہے ، آپ افسردگی اور کسمپرسی میں رہنے پر مطمئن ہیں، تو پھر چھوٹے اِیمان پر ہی اِکتفا کریں، لیکن اگر آپ کو روشنی پسند ہے اور آپ خوشی کے گیت گانا چاہتے ہیں، تو پھر اِس بہترین نعمت سے آراستہ ہونے کے لئے یہ دُعا مانگیں کہ اے خُدا!’’میرے ایمان کوبڑھا‘‘۔

زبور118: 8

’’خُدا پر توکّل کرنا انسان پر بھروسہ رکھنے سے بہتر ہے۔‘‘
بلاشبہ آپ کی زندگی میں بھی کوئی نہ کوئی ایسا وقت اور ایسی آزمائش ضرور آئی ہو گی جس میں آپ کو دیکھے انسان پر اعتماد کرنے سے اندیکھے خُدا پر اعتقاد رکھنا زیادہ آسان اور بہتر محسوس ہُوا ہوگا۔ مسیحی لوگ اکثر مدد اور مشورے کے لیے اپنے ہم جنس انسانوں کی طرف دیکھتے ہیں اور اِس میں کوئی قباحت بھی نہیں لیکن جب بات ہو توکّل کرنے اور اعتقاد رکھنے کی تو پھر ’’خُدا پر توکل کرنا انسان پر بھروسہ رکھنے سے بہتر ہے۔‘‘ اگر آج شام کا یہ کلام خُدا کے کسی ایسے فرزند کی نظر سے گزر رہا ہے جو دُنیوی ضروریات کے بارے میں فکرمند ہے، تو ہم کچھ دیر اُس کے ساتھ اِسی حقیقت پر غور کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ اپنی نجات کے لیے یسوعؔ پر، اور صرف یسوعؔ پر اِیمان رکھتے ہیں، تو پھر آپ پریشان کیوں ہیں؟ ’’اپنی بڑی فِکروں کی وجہ سے‘‘۔ کیا یہ نہیں لکھا کہ ’’اپنا بوجھ خداوند پر ڈال دے‘‘؟ پھر یہ بھی کہ ’’کِسی بات کی فِکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دُعا اور مِنّت کے وسیلہ سے شکرگزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں‘‘۔ کیا آپ دُنیوی ضرورتوں کے لیے اپنے خُدا پر بھروسہ نہیں کر سکتے؟ ’’آہ! کاش مَیں کر سکتا‘‘۔ اگر آپ مادی چیزوں کے لیے خدا پر توکّل نہیں کر سکتے، تو رُوحانی باتوں کے لیے اُس پر بھروسہ کرنے کی جرأت کیسے کرتے ہیں؟ کیا آپ اپنی رُوح کی مخلصی کے لیے تو اُس پر یقین رکھتے ہیں، مگر چند چھوٹی نعمتوں کے لیے اُس پر تکیہ نہیں کر سکتے؟ کیا خُدا آپ کی ضرورت کے لیے کافی نہیں، یا کیا اُس کی ہمہ گیری آپ کی حاجتوں کے مقابلے میں کم پڑ گئی ہے؟ کیا آپ کو اُس کی آنکھ کے علاوہ کسی اَور آنکھ کی ضرورت ہے جو ہر پوشیدہ چیز کو دیکھتی ہے؟ کیا اُس کا دِل کمزور پڑ گیا ہے؟ یا کیا اُس کا بازو تھک گیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر کسی اَور خُدا کو تلاش کر لیں لیکن اگر وہ لامحدود ، قادرِ مُطلق، وفادار، سچّا اور کمال حکمت کا سرچشمہ ہے، تو آپ کسی اور سہارے کی تلاش میں اِدھر اُدھر کیوں بھٹکتے پھرتے ہیں؟ آپ زمین کو کُرید کر کسی اور بنیاد کی تلاش کیوں کرتے ہیں، جب کہ یہ بنیاد اِتنی مضبوط ہے کہ وہ ہر اُس بوجھ کو اُٹھا سکتی ہے جو آپ اُس پر کبھی رکھیں گے؟ اے مسیحی ! اپنی اِیمان کی مے میں پانی نہ مِلائیں، اور اپنے اِیمان کے سونے کو اِنسانی بھروسے کے کھوٹ سے ناپاک نہ کریں۔ آپ صرف خُدا کے سامنے خاموش رہیں، اور اپنی اُمید اُس پر قائم رکھیں۔ یُوناہؔ کی طرح کسی خُود رَو بیل کی تمنّا نہ کریں بلکہ یُوناہؔ کے خُدا پر بھروسہ رکھیں۔ دُنیوی توکّل کی ریتلی بنیادوں کا انتخاب نادانوں کا کام ہے ، لیکن آپ اُس شخص کی طرح جو طوفان کو پہلے سے دیکھ لیتا ہے، اپنی بنیاد ابدی چٹان پر رکھیں۔
18