ہفتہ، 28 فروری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

زبور 62: 5

’’اُسی سے مُجھے اُمید ہے۔‘‘
اِس زبان کا استعمال کرنا ہر ایماندار کا استحقاق ہے۔ اگر وہ دُنیا سے کسی چیز کی توقع رکھتا ہے تو یہ واقعی ایک بے کار ’’اُمید ‘‘ ہے۔ لیکن اگر وہ اپنی ضرورتوں کی فراہمی کے لیے خُدا کی طرف دیکھتا ہے، چاہے وہ دُنیاوی برکتیں ہوں یا روحانی، تو اُس کی ’’اُمید‘‘ کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔ وہ اپنے ایمان کے خزانے سے مسلسل اپنی ضرورتیں نکال سکتا اور خُدا کے فضل کی دولت سے اپنی حاجتیں پوری کر سکتا ہے۔ مَیں یہ جانتا ہوں کہ ، مَیں سارے روتھسچائلڈز کے مقابلے میں خُدا کو اپنا بینکر بنانا زیادہ پسند کروں گا۔ میرا خداوند اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں کبھی ناکام نہیں ہوتا، اور جب جب ہم اُنہیں اُس کے تخت کے سامنے پیش کرتے ہیں تو وہ اُنہیں کبھی بغیر جواب کے واپس نہیں بھیجتا۔ اِس لیے مَیں صرف اُس کے دروازے پر انتظار کروں گا، کیونکہ وہ اُسے ہمیشہ اپنے کثیر فضل کے ہاتھ سے کھولتا ہے۔ اُس گھڑی میں اُسے نئے طور سے آزماؤں گا۔ لیکن ہماری ’’اُمیدیں‘‘اِس زندگی سے آگے کی ہیں۔ ہم جلد مر جائیں گے؛ اور تب کے لئے بھی ’’اُسی سے مجھے اُمید ہے‘‘۔ کیا ہم یہ توقع نہیں رکھتے کہ جب ہم بیماری کے بستر پر ہوں گے تو وہ ہمیں اپنے سینے سے لگانے کے لیے فرشتوں کو بھیجے گا؟ ہم یقین رکھتے ہیں کہ جب ہماری نبض مدھم اور دِل بوجھل ہوگا، تو کوئی پیغام رساں فرشتہ کھڑا ہو کر ہم پر محبت بھری نگاہ ڈالے گا اور سرگوشی کرے گا، ’’اے مقدس روح، میرے ساتھ چلی آ!‘‘۔ جب ہم آسمانی دروازے کے قریب پہنچیں گے، تو ہمیں خوش آمدید کی یہ دعوت سننے کی اُمید ہے کہ ، ’’آؤ میرے باپ کے مبارک لوگو جو بادشاہی بنایِ عالم سے تمہارے لئے تیار کی گئی ہے اُسے میراث میں لو‘‘۔ ہم سونے کے بربطوں اور جلال کے تاجوں کی توقع کر رہے ہیں، ہم جلد ہی تخت کے سامنے چمکنے والے مقدسین کی بھیڑ میں شامل ہونے کی اُمید کر رہے ہیں، ہم اُس وقت کے منتظر ہیں بلکہ تڑپ رہے ہیں جب ہم اپنے جلالی خداوند کی طرح ہوں گے کیونکہ ’’ہم اُسے ویسا ہی دیکھیں گے جیسا وہ ہے‘‘۔ پھر اے میری جان، اگر یہ تیری ’’اُمیدیں‘‘ ہیں تو خُدا کے لیے اپنی زندگی بسر کر ، اُس کی تمجید کرنے کی خواہش اور دِلی ارادے کے ساتھ اپنی زندگی گزار جس کی طرف سے تیری تمام ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، اور جس کے فضل کی بدولت تیرے چناؤ، چھٹکارے اور بلاوے میں یہ ممکن ہوا کہ تُو آنے والے جلال کی کوئی ’’اُمید‘‘ رکھ سکے۔

1۔ سلاطین 17: 16

’’اور خُداوند کے کلام کے مطابق جو اُس نے ایلیاہ کی معرفت فرمایا تھا نہ تو آٹے کا مٹکا خالی ہُوا اور نہ تیل کی کُپی میں کمی ہوئی۔‘‘
ذرا، الہٰی محبت کی وفاداری ملاحظہ فرمائیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اِس عورت کی روزمرہ ضروریات کس قدر سنگین تھیں۔ کال کے وقت اُسے اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ بھرنا تھا بلکہ اِس پر طرہ یہ کہ اب، اُسے ایلیاہؔ نبی کو بھی کھانا کھلانا تھا۔ لیکن اگرچہ ضرورت تین گنا بڑی تھی، پھر بھی آٹے کا ذخیرہ ختم نہ ہُوا ، کیونکہ اُس کے پاس مسلسل رسد آ موجود ہوئی ۔ ہر روز اُس نے مٹکے سے مدد لی، لیکن پھر بھی ہر روز وہ ویسا ہی رہا۔ عزیز قاری، آپ کی زندگی میں بھی ایسی ہی کئی روزمرہ ضروریات پائی جاتی ہوں گی اور چونکہ وہ اتنی کثرت سے پیش آتی ہیں، کہ آپ اکثر اُنہیں دیکھ کر خوفزدہ بھی ہو جاتے ہیں کہ آٹے کا مٹکا ایک دن خالی ہو جائے گا، اور تیل کی کپی آپ کا ساتھ چھوڑ دے گی۔ مگر اطمینان رکھیں ، خدا کے کلام کے مطابق، ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ ہر دِن، اگرچہ اپنی مصیبت لے کر آئے ، تو بھی خُدا کی الہٰی مدد بھی ضرور اُس کے ساتھ آئے گی اور چاہے آپ متوسلحؔ کی عمر سے بھی زیادہ جئیں ، اور چاہے آپ کی ضرورتیں سمندر کے ساحل کی ریت جتنی کثیر بھی ہوں، پھر بھی خدا کا فضل اور رحمت آپ کی تمام ضرورتوں میں برابر جاری رہے گی، اور آپ کو کبھی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اِس بیوہ کے دنوں میں، تین لمبے برسوں تک آسمان نے کبھی بادل نہ دیکھا، اور ستاروں نے اِس بدکار زمین پر کبھی شبنم کا کوئی مقدس آنسو نہ بہایا یہاں تک کہ قحط، ویرانی اور موت نے زمین کو ایک ہولناک کھنڈر بنا دیا، مگر یہ عورت کبھی مفلس نہ رہی، بلکہ ہمیشہ فراوانی میں خوش رہی۔ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔ آپ گنہگار کی اُمید کو ختم ہوتے دیکھیں گے، کیونکہ وہ اپنی ذاتی طاقت پر بھروسہ کرتا ہے، آپ مغرور فریسی کے اعتماد کو لڑکھڑاتے دیکھیں گے، کیونکہ وہ اپنی اُمید ریت پر بناتا ہے، آپ اپنی ہی تدبیروں کو مُردہ اور مدہوش دیکھیں گے، لیکن آپ خود دیکھیں گے کہ آپ کی کمک خُداوند کی طرف سے آئیگی جیسے لکھا ہے کہ ’’تجھے روٹی دی جائے گی اور تیرا پانی مقرر ہو گا۔‘‘ انگلستان کے بینک کی ملکیت رکھنے سے بہتر ہے کہ خدا آپ کا محافظ اور یہوواہ یری ہو۔ آپ جزائرالہند کی دولت خرچ کر سکتے ہیں، لیکن خدا کی لامحدود دولت کو آپ کبھی ختم نہیں کر سکتے۔
20