حزقی ایل 34: 26
’’مَیں بروقت مینہ برساؤں گا۔ برکت کی بارش ہو گی۔‘‘
یہاں خدا کی عظیم رحمت کا ذکر ہے کہ ’’مَیں بروقت مینہ برساؤں گا۔‘‘ کیا یہ خدا کی خاص رحمت نہیں ہے؟ کیونکہ خُدا کے سِوا اَور کون کہہ سکتا ہے کہ ’’مَیں مینہ برساؤں گا‘‘؟ صرف ایک ہی آواز ہے جو بادلوں کو برسنے کا حُکم دے سکتی ہے ۔ زمین پر بارش کون بھیجتا ہے؟ ہریالی پر برسات کے قطرے کون بکھیرتا ہے؟ کیا مَیں خداوند یہ سب نہیں کرتا؟ اِسی طرح فضل بھی خدا ہی کا انعام و کرام ہے اور اِسے انسان خود پیدا نہیں کر سکتا۔ اور یہ فضل ہمارے لیے بہت ضروری بھی ہے۔ بارش کے بغیر زمین کا کیا حال ہوگا؟ آپ مٹی کے ڈلے توڑ سکتے ہیں اور بیج بھی بو سکتے ہیں، لیکن بارش کے بغیر آپ کیا کر پائیں گے؟ خدا کی برکت بھی اُتنی ہی لازمی ہے۔ جب تک خدا کثرت سے بارش نہ برسائے اور اپنی نجات نہ بھیجے، آپ کی محنت بے فائدہ ہے۔ پھر یہ کثرت والا فضل ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ ’’برکت کی بارش ہو گی۔‘‘ اُس نے یہ نہیں کہا کہ مَیں صرف چند بوندیں بخشوں گا، بلکہ اس نے ’’بارش‘‘ کا وعدہ کیا ہے۔ فضل کا معاملہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب خدا برکت دیتا ہے، تو وہ عام طور پر اتنی کثرت سے دیتا ہے کہ اسے سمیٹنے کی جگہ باقی نہیں رہتی۔ کثرت کا فضل! ہمیں عاجز بننے، دُعا میں مشغول رہنے اور پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے اس کثیر فضل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں اِس زندگی میں ثابت قدم رہنے اور آخر کار آسمان تک پہنچنے کے لیے بھی یہی فضل درکار ہے۔ فضل کی موسلا دھار بارش کے بغیر ہمارا گزارا نہیں۔ یہ فضل بالکل صحیح وقت پر ملتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ ’’مَیں بروقت مینہ برساؤں گا۔‘‘ آج آپ کا حال کیسا ہے؟ کیا آپ کی زندگی میں خشک سالی کا دَور چل رہا ہے؟ تو یہی وہ وقت ہے جب بارش کی ضرورت ہے۔ کیا دُکھ کے بوجھ اور غم کے سیاہ بادل آپ کی زندگی پر چھائے ہوئے ہیں؟ تو یہی فضل کی بارش کا وقت ہے۔ کلام کہتا ہے کہ ’’جیسے تیرے دن ہوں گے، ویسی ہی تیری طاقت ہوگی۔‘‘ اور یہاں طرح طرح کی برکتوں کی بارش کا ذکر ہے ۔ اُس نے فرمایا ہے کہ ’’برکت کی بارش ہو گی‘‘ ۔ یہاں لفظ بارش کا مطلب ہے کہ خُدا ہر قسم کی برکتیں نازل فرمائے گا۔ خدا کی ساری برکتیں ایک سنہری زنجیر کی کڑیوں کی طرح ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔ اگر وہ دِلوں کو بدلنے والا فضل جاری کرتا ہے، تو وہ تسلی دینے والا فضل بھی ضرور جاری کرے گا۔ وہ ’’برکتوں کی بارشیں‘‘ بھیجے گا۔ اے ایمان کے مُرجھائے ہوئے پودے، آج اپنی نظریں اوپر اُٹھا اور اُس آسمانی بارش کو حاصل کرنے کے لیے اپنے پتوں اور پھولوں یعنی اپنی زبان اور اپنے دِل کو کھول دے۔
زکریاہ 1: 12, 13
’’اے ربّ الافواج تُو یروشلیم پر کب تک رحم نہ کرے گا؟ ۔۔۔ خداوند نے اُس فرشتہ کو جو مُجھ سے گفتگو کرتا تھا مُلائم اور تسلّی بخش جواب دیا۔‘‘
یہ ایک فکرانگیز سوال پر کیسا میٹھا جواب ہے! آج کی رات آئیے ہم اِس کلام میں شادمان ہوں۔ اے صیون، تیرے لیے بہت سی اچھی چیزیں تیار ہیں، تیرے دُکھ کا وقت جلد ختم ہو جائے گا، تیری اولاد پیدا ہو گی اور تیری اسیری بھی جاتی رہے گی۔ کچھ وقت کے لیے اِس سزا کو صبر کے ساتھ برداشت کر ، اور تاریکی میں بھی اپنے خُدا پر توکل رکھ ، کیونکہ اُس کی محبت تیرے لیے موجزن ہے۔ خُدا کلیسیا کے ساتھ ایسی محبت رکھتا ہے جو انسانی گمان سے بھی زیادہ عمیق ہے کیونکہ وہ اُسے اپنے پورے لامحدود دِل سے پیار کرتا ہے۔ اِس لیے اُس کے فرزندوں کو حوصلہ رکھنا چاہیے کہ وہ اُنہیں ضرور بالضرور خوشحالی سے ہمکنار کرے گا کیونکہ ہمارا خُدا ’’ملائم اور تسلی بخش‘‘ جواب دیتا ہے۔ یہ تسلی کی باتیں کون سی ہیں، آگے چل کر زکریاہؔ نبی ہمیں بتاتا ہے کہ ’’مجھے یروشلیم اور صیون کے لیے بڑی غیرت ہے۔‘‘ خداوند اپنی کلیسیا سے اِتنی محبت رکھتا ہے کہ وہ اُس کی برگشتگی کو برداشت نہیں کر سکتا اور جب وہ ایسا کرتی ہے، تو پھر وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اُسے بہت زیادہ یا بہت بھاری دُکھ دے۔ وہ اپنے دشمنوں کو اُسے ستانے نہیں دے گا اور اُن کے ساتھ اُس کی دشمنی صرف اِسی سبب سے ہے کہ وہ اُس کی مصیبت کو بڑھاتے ہیں۔ جب ایسا لگتا ہے کہ خدا نے اپنی کلیسیا کو بالکل چھوڑ دیا ہے، تب بھی اُس کا دِل اُس کے لیے گرمجوشی رکھتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی خُدا اپنے خادموں کی اِصلاح کے لیے لاٹھی استعمال کرتا ہے، وہ ہمیشہ اُسے بعد میں توڑ دیتا ہے، گویا اُسے اُس لاٹھی سے نفرت ہو جس نے اُس کے فرزندوں کو تکلیف پہنچائی ۔ ’’جیسے باپ اپنے بیٹوں پر ترس کھاتا ہے، ویسے ہی خُداوند اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں ترس کھاتا ہے۔‘‘ خُدا ہمیں اِس لیے نہیں بھُول گیا کہ اُسے ہماری تربیت کرنا پڑتی ہے کیونکہ اُس کی تربیت محبت میں کمی کی ہر گز دلیل نہیں ۔ اگر یہ بات مجموعی طور پر اُس کی کلیسیا پر صادق آتی ہے، تو یہ لازمی طور پر اُس کے ہر ایک عضو پر فرداً فرداً بھی صادق آتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اِس بات سے خائف ہوں کہ خداوند نے آپ کو نظر انداز کر دیا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ وہ جو ستاروں کو گنتا ہے اور اُنھیں بنام پکارتا ہے، اسے اپنے فرزندوں کو بھُول جانے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ وہ آپ کے حال کو اتنا ہی اچھی طرح جانتا ہے جیسے آپ ہی اُس کی اکلوتی مخلوق ہوں ، یا اُس کی محبت کے لائق واحد مقدس شخص ہوں۔ آئیے اِسی ایمان اور تسلّی کے ساتھ اُس کے پاس آئیں اور اطمینان پائیں۔